سانحے سے بڑا سانحہ ہو گیا

دو دن سے یہی سوچ رہا ہوں یہ ”انتہائی نگہداشت“ کا مطلب کیا ہوتا ہے، کیا یہی مطلب ہوتا ہے جس کا مظاہرہ پمز کے نگہداشت وارڈ میں دیکھا گیا؟ انتہائی نگہداشت تو یہ ہوتی ہے کہ ہر لحاظ سے ایک محفوظ اور ہر خطرے سے مبّرا ایک ایسی فضا جس میں غلطی کا امکان تک موجود نہ ہو۔

آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا اے سی کی گیس خارج ہونے سے، سوال تو یہ ہے کہ ان چیزوں کو پہلے کیوں نہیں دیکھا گیا، کیا پمز میں کوئی خاص قسم کی وائرنگ تھی یا ائر کنڈیشنگ کا نظام تھا۔ ان دونوں شعبوں کے بیسیوں افراد ہسپتال میں تعینات ہوں گے،پھر انہوں نے انہیں فول پروف محفوظ کیوں نہیں بنایا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ اس کے باوجود حادثے کا امکان تو رہتا ہے اس امکان سے نمٹنے کی کیا حفاظتی تدابیر بنائی گئی تھیں ،وہ کیوں کام نہیں آئیں اور معصوم بچے آگ کی نذر ہو گئے۔

اس سے زیادہ سنگین غفلت اور کیا ہو سکتی ہے کہ نگہداشت وارڈ سے ایمرجنسی کی صورت میں نکلنے کے راستے ہی بند تھے۔پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی یہ بات ہی انہیں برطرف  کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ دروازے اس لئے بند رکھے جاتے ہیں کہ بچے چوری ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔کیا چوری ہونے سے بچانے کے لئے واحد راستہ یہی تھا کہ دروازوں کو تالے لگا دیئے جائیں۔ کیا اس مقصد کے لئے گارڈز نہیں بٹھائے جا سکتے تھے،پھر وارڈ کے اندر طبی عملہ جن میں نرسیں خاص طور پر شامل ہیں،بچوں کی حفاظت نہیں کر سکتی تھیں۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ جب یہ آگ بھڑکی تو وارڈ کے ڈاکٹر،نرسیں، پیرا میڈیکل سٹاف کہاں تھے۔وہ کیسے بھاگ گئے،وہ ایک ایک بچہ بھی اٹھاتے تو کئی بچوں کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ واقعہ بلکہ سانحہ ایک بڑے انسانی المیے ہی کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ بہت بڑی انسانی غفلت کا بھی جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وہی کیا ہے جو اکثر پولیس افسر عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ایک ایس ایچ او معطل اور دو چار سپاہی گرفتار کرا دیئے۔آناً فاناً وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کر دیا گیا۔ کیا مذاق ہے کہ جو پمز کے اندر انتظامی عہدوں پر بیٹھے ہیں  انہیں کچھ نہیں کہا گیا اور ایک وفاقی سیکرٹری کو قربانی کا بکرا بنا دیا جس کا دفتر بھی پمز میں نہیں۔یہ گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کا عمل بھی  ہمارے نظام کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ بڑے سے بڑا سانحہ ہو جائے تب بھی کچھ حقیقی ذمہ دار بچ جاتے ہیں۔نجانے اُن کے پاس کیا گیدڑ سنگھی ہوتی  ہے۔کسی وزارت کے سیکرٹری اور وزیر یک جان دو قابل ہوتے ہیں ۔ اگر سیکرٹری کو معطل کیا گیا تھا تو پھر وفاقی وزیر مصطفےٰ کمال پاشا بھی وزارت سے ہٹا دیئے جاتے۔ کم از کم پتہ تو لگتا ایک بڑا ایکشن ہوا ہے۔

پھولوں سے بھی نازک  بچوں کو دنیا کے ہسپتال میں کیسے رکھا جاتا ہے،کل سے اُن کی وڈیوز دیکھ رہا ہوں یہاں غریبوں کے بچوں کو ایسے خطرات سے بھی محفوظ نہیں رکھا جاتا جیسے اس سانحے میں رونما  ہوا۔حیرانی اور پریشانی تو اس بات کی بھی ہے کہ ملک کے دارالحکومت کا سب سے بڑا ہسپتال حفاظتی انتظامات سے اِس قدر محروم تھا کہ بچوں کی سوختہ نعشیں بھی نکالنے کے لئے جالیاں توڑ کر سیڑھیاں لگانی پڑیں۔ یہ بات بھی ہسپتال کے ڈھیلے ڈھالی انتظامی ڈھانچے کو ظاہر کرتی ہے۔ سانحے کے وقت ہسپتال کا کوئی عملہ وہاں موجود نہیں تھا اور بچوں کی مائیں چیخ چیخ کر اپنے لخت جگر جلتے دیکھ رہی تھیں، آگ بھک سے تو پورے وارڈ میں نہیں آئی ہو گی۔ ایسا  ہوتا تو اس میں کوئی ایک یا دو بڑے بھی لپیٹے جاتے۔اس کا مطلب ہے طبی عملہ موجود ہوتا تو بچوں کو بچانے کی کوشش کرتا۔ سرکاری ہسپتالوں کا نظام ویسے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ یہ کہہ دینا ایک مجرمانہ فعل ہے کہ حادثہ ہے وہ تو کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔نہیں حادثہ کسی  وقت بھی نہیں ہوتا بلکہ اُس صورت  میں ہوتا ہے جب کوئی غفلت اُس کے ساتھ چلتی ہے۔ سڑکوں پر ہونے والے حادثات کو بھی اگر اسی تھیوری کے تحت نمٹایا جائے تو پھر کسی ڈرائیور کو سزا ہی نہ ملے۔ کوئی اصول، کوئی قاعدہ،کوئی ضابطہ ٹوٹتا ہے تو حادثہ ہوتا ہے۔یہ اداروں کو چلانے کے لئے جو انسانوں کی فوج ظفر موج رکھی جاتی ہے، وہ انہی حادثات کو روکنے کے لئے ہوتی ہے۔ جب سارے بے فکر ہو جائیں، غفلت کی نیند سو جائیں، کسی کو احتساب یا پوچھ گچھ کا ڈر نہ ہو تو حادثے کے اسباب اکٹھے ہوتے رہتے ہیں اور وہ ایک دن واقع ہو جاتا ہے۔

 پندرہ شیر خوار بھی نہیں نوزائیدہ بچے جنہوں نے دنیا میں آ کر ابھی چند سانسیں ہی لی تھیں، ہماری غفلت کی وجہ سے بے نام، بے چہرہ اور عدم شناخت کے ساتھ دنیا سے چلے گئے۔ اُن کے والدین رو رہے ہیں، کتنی منتوں مرادوں کے بعد انہیں اللہ نے اولاد دی تھی۔ وہ یہ سوچ کے پمز ہسپتال میں گئے تھے کہ شہر کا سب سے بڑا ہسپتال ہے جس کا سالانہ بجٹ اربوں روپے،وہاں کوئی غفلت نہیں ہو گی، کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ انہیں یہ معلوم تھا جہاں کا بجٹ اربوں میں ہوتا ہے، وہاں کوئی غفلت نہیں ہو گی، کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ انہیں یہ معلوم نہیں تھا جہاں کا بجٹ اربوں میں ہوتا ہے وہاں کے ذمہ دار بھی اپنی ساری توجہ اُس بجٹ میں سے اپنا حصہ نکالنے پر دیتے ہیں، انہیں اس سے زیادہ غرض نہیں ہوتی  کہ ہسپتال کا نظام کیسے چل رہا ہے۔ ہاں اُن کی توجہ ہسپتال کے اُن وی وی آئی پی وارڈز کی طرف ضرور ہوتی ہے،جہاں اشرافیہ یا ان کے خاندانوں کے افراد آتے ہیں۔وہاں کے اے سی کی بھی پوری نگرانی کی جاتی ہے کہ ٹھنڈک کو یقینی بنائے اور وائرنگ کو بھی آنکھیں کھول کے دیکھا جاتا ہے کہ کہیں سے شارٹ سرکٹ کا تو امکان نہیں۔ اشرافیہ کیلئے یہی خدمات تو اِن نااہل اور غفلت شعار افسروں کو تحفظ فراہم کرتی  ہیں۔ہر حادثے اور سانحے کے بعد وہی دھؤاں دار روایتی بیانات جاری ہوتے ہیں جن سے اب گھن آنے لگتی  ہے۔ اس قوم کا کچھ حافظہ بھی کمزور ہے، کچھ دن بعد بڑے سے بڑا سانحہ بھی بھول جاتی ہے اور کسی نے سانحے تک خواب غفلت کے مزے لیتی ہے ۔

ہم دنیا کے سامنے ایک ایسی  قوم بنتے جا رہے ہیں جو اپنے بچوں کو درندگی سے بچا پا رہی ہے اور نہ ہسپتالوں میں زندگی محفوظ بنا رہی ہے ۔یہ صورتحال قابل ِ فخر نہیں قابل شرم ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)