سیلاب سے نیپال اور چین میں بارہ سے زائد افراد ہلاک

  • ہفتہ 29 / اگست / 2026

بدھ کے روز نیپال میں آنے والے سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔ تازہ معلومات نیپال پولیس نے فراہم کی ہیں۔ اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی گئی تھی۔

ادھر چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاک ہونے والوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ سیلاب کے بعد نیپال میں بین الاقوامی امدادی اداروں اور کئی ممالک کی حکومتوں نے ہنگامی امداد اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ سیلاب کے بعد نیپال میں تقریباً 2000 افراد اب بھی لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔

یورپی یونین، کینیڈا اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے نیپال کو امدادی سامان یا مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق دس ہزار سے زیادہ خاندانوں کو خوراک اور صاف پینے کے پانی کی فوری ضرورت ہے۔

نیپال میں ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے کہا ہے کہ ملک میں ایک اور ممکنہ سیلاب کے خطرے کے باعث تشویش بدستور برقرار ہے۔

جمعے کی صبح صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم یقیناً دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہیں۔‘ ڈیوڈ فشر کے مطابق بُدھ کے روز آنے والی تباہی سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ریڈکریسنٹ نے ہنگامی امدادی کارروائیوں اور جان بچانے والی فوری ضروریات کے لیے عطیہ دہندگان سے تقریباً ڈھائی کروڑ سوئس فرانک (تقریباً تین کروڑ 10 لاکھ امریکی ڈالر) فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک کر دیا گیا ہے۔

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال سے جب صحافیوں نے یہ سوال کیا کہ اس بحران کے دوران چین کی جانب سے بروقت معلومات کیوں فراہم نہیں کی گئیں، تو انہوں نے کہا کہ واقعے کی نوعیت ایسی تھی کہ ممکن ہے ابتدائی مرحلے میں خود چینی حکام کے پاس بھی مکمل اور واضح معلومات موجود نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’ضروری معلومات اور تفصیلات اب چین کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں۔ ہم واقعے کے بعد سے مسلسل چینی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور قریبی سطح پر ہم آہنگی جاری ہے۔‘

ان کے مطابق چین نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کے مقام پر بننے والی جھیل کی نگرانی کر رہا ہے بلکہ ممکنہ خطرات سے متعلق معلومات بھی نیپال کو فراہم کر رہا ہے تاکہ کسی بھی نئی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔