موب جسٹس: نامنظور
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 29 / اگست / 2026
ہمارے دیکھنے کی بات ہے، ایک وقت تھا جب بشمول پاکستان مسلم ورلڈ میں عید میلاد النبی کو منانے والے بہت کم ہوتے تھے، زیادہ تر اسے بدعت قرار دیتے ہوئے اس نوع کی بحثیں شروع کر دیتے کہ عہد رسالت مآب یا خلافت راشدہ کے ادوار میں یا ان کے بعد صحابہ کرام میں سے کسی نے کبھی بھی اس نوع کی عید منانا تو دور، کہیں ایسا کوئی تذکرہ بھی نہیں کیا اور نہ قرآن و حدیث میں کہیں کوئی ایسا ریفرنس تک موجود ہے۔
لہٰذا ہمیں دین میں اپنی طرف سے اضافے نہیں کرنے چاہئیں۔ ان علما کے بقول جب آخری وحی میں یہ فرما دیا گیا کہ الیوم أكملت لكم دينكم، ہمارے آقا نے دین کی تکمیل فرما دی ہے، تو پھر اس میں دین کے نام پر نئی نئی ایجادات، بدعات کے معنوں میں ہی قرار پائیں گی۔ ہمارے یہی مولوی صاحبان انسانیت کیلیے نفع بخش جدید سائنسی ایجادات کی مخالفت کرتے ہوۓ انہیں اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں مگر دین میں نئی نئی بدعات و رسومات کو اپنی بلے بلے بنانے کی خاطر اتنا مقدس بنا کر پیش کرتے ہیں کہ گویا تنقیدی نظر ڈالنا بھی بلاسفیمی کا باعث بن جائے۔ اسی رواروی میں ہمارے حکمران طبقات اپنی سیاسی مقبولیت یا مفادات کی خاطر اسے اتنا پروموٹ کرتے ہیں کہ عامتہ المسلمین اسے عین اسلام سمجھنے لگتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں پچھلی پون صدی میں مذہب کا سیاسی استعمال بے تحاشا ہوا ہے۔ اس پس منظر میں عید میلاد النبی کا پروپیگنڈا بھی اتنی شدت سے کیا گیا کہ اب اس کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازیں ختم ہو کر رہ گئی ہیں، یا اگر کہیں ہیں بھی تو دبی ہوئی بے جان حالت میں۔ بلکہ اب تو کئی حضرات کا یہ جی چاہتا ہے کہ عید الفطر اور عید الاضحی کی طرح عید میلاد کو بھی ویسی ہی شرعی حیثیت دے دی جائے۔ ان حضرات کا بس نہیں چلتا ورنہ اس سلسلے میں باقاعدہ نمازعید میلاد النبی کے اشتہارات جاری فرما دیں۔ انہیں ایسی شرعی کامیابی تو ہنوز نہیں مل سکی، البتہ دیگر بہت سی رسومات کو دین کا حصہ ضرور سمجھا جانے لگا ہے، جیسے کہ عید میلاد کے جلوس نکالنا یا پہاڑیاں بنانا یا لائٹیں وغیرہ لگانا یا ہلہ گلہ کرنا۔ اسی پس منظر میں کچھ راسخ علما کو بارہا الجھن محسوس ہوتی ہے۔
اس سال بھی اگرچہ عید میلاد النبی پورے ملک میں حسب روایت بڑے ذوق شوق اور جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی ہے مگر کچھ باتیں توجہ طلب ہیں۔ جیسے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب نعیمی نے میلاد شریف کے نام پر ہونے والی بد تہذیبی پر جس غم و غصے کا اظہار کیا ہے، وہ ہمارے لیے آئینہ ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب محترم کا مسلک وہابی یا دیوبندی نہیں ٹھیٹھ بریلوی مکتبہ فکر ہے۔ آپ فرما رہے ہیں کہ گزشتہ روز میں اسلام آباد سے براستہ موٹروے لاہور آیا تو 12 ربیع الاول کے میلاد جلوس میں پھنس کر رہ گیا۔ 15 منٹ کا سفر دو گھنٹے میں طے ہوا۔ جلوس کے آغاز میں بینڈ باجا تھا پھر گھوڑوں کی بگھیاں اور پھر ٹرالیاں، گلیوں میں جگہ بہ جگہ ٹرالے کھڑے کر کے ڈیک سے بلند آواز میں نعت کے نام پر موسیقی کانوں کے پردوں کو پھاڑنے کے لیے کافی تھی۔ نوجوانوں کی بے مقصد آوارگی سے شریعت کا کھلواڑ کیا جا رہا تھا۔ بچوں کے ہاتھوں میں باجے تھے۔ ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کا رقص شتربےمہار کی طرح سڑکوں کو بلاک کیے ہوئے تھا۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے علمائے کرام سے مطالبہ کیا کہ وہ جشن میلاد کے نام پر ہونے والے طوفان بدتمیزی سے اعلان لا تعلقی کریں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی جیسے بزرگ تو ایسی بد تہذیبی والی مذہبی ثقافت کے داعی نہ تھے۔ آپ لوگ مستحبات کو اتنا مت بڑھائیں کہ عوام انہیں فرض سمجھ لیں پھر آپ علما بھی اسے نہ روک سکیں۔ یہ بے ہنگم ہلڑ بازی میلاد کے نام پر دھبہ ہے۔
جامعہ نعیمیہ کے مہتمم محترم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی ایک باوقار دینی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ آپ کے دادا حضرت مفتی محمد حسین نعیمی نہ صرف اہل سنت والجماعت کی آواز تھے بلکہ تمام دینی مسالک و طبقات میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ راغب نعیمی صاحب کے والد محترم ڈاکٹر سرفراز نعیمی زندگی بھر سچائی کے علمبردار رہے۔ ہمیشہ مذہبی جنونیت و انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف رواداری وانسان نوازی کی بات کی۔ اسی حق گوئی کی پاداش میں طالبانی دہشت گردوں نے جامعہ نعیمیہ میں گھس کر ان پر خودکش حملہ کیا۔ یوں انسانیت امن بھائی چارے اور اعتدال پسندی کی یہ آواز مقام شہادت پر سرفراز ہوئی۔ جان دے دی مگر ظلم و جبر اور مذہبی جنونیت کے سامنے سرنگوں نہ ہوئے۔
آج انہی کے فرزند ڈاکٹر راغب نعیمی پاکباز صوفیا کرام خواجہ غریب نواز حضرت نظام الدین اولیا، بابا فرید شکرگنج، حضرت داتا گنج بخش، بابا بلھے شاہ سرکار اورحضرت مادھو لعل حسین سرکار کے پیغام محبت کو اسی لگن اور محبت کے ساتھ جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ جنونیت پر تدبر اور ہلڑ بازی پر تہذیب و شائستگی لانا اپنا مشن خیال کرتے ہیں ۔(جاری ہے)