پمز کا سانحہ: لمحہ فکریہ
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 29 / اگست / 2026
نرسری میں کتنے بچے موجود تھے جب وہاں آگ لگی نومولودوں کی حتمی تعداد کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ پمز دارالحکومت پاکستان میں واقع ہے اور اس کا تذکرہ عمران خان کے علاج کے حوالے سے ہوتا رہا ہے۔
پمز وفاقی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے دو ہسپتالوں میں سے ایک بہترین اور معیاری ہسپتال مانا اور جانا جاتا ہے۔ وہاں ربیع الاول کے مبارک دن (عیدمیلاد النبیؐ) آتشزدگی کا جو واقعہ رونما ہوا اس نے کروڑوں پاکستانیوں کے دل دہلا دیئے۔ نرسری میں موجود بچوں کی تعداد کے بارے میں متضاد آرا پائی جاتی ہیں کچھ حلقے 100بچوں کی موجودگی کا بھی کہتے پائے گئے ہیں بہرحال جتنے بھی تھے سوائے ایک کے سب مارے گئے۔ ایک بچہ بچایا جا سکا اور وہ بھی اس کی خالہ کی کاوشوں کے نتیجے میں بچ سکا۔ کسی ڈاکٹر،کسی نرس، کسی آیا نے نہیں بلکہ بچے کی خالہ کی کوشش کے نتیجے میں ایک نومولود زندہ بچ سکا باقی سارے مارے گئے۔
حادثہ ہوا۔ آگ لگی۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے حادثات ہوتے رہتے ہیں تمام تر کاوشوں کے باوجود، حسن انتظام کے باوجود، ناگہانی وقوعہ کہیں بھی اور کسی وقت بھی رونما ہو سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے معاملات اور انتظامات کو فول پروف بنانے کی حتی المقدور کاوشیں کی ہیں۔ کیا ہم نے حادثات کی روک تھام کے تمام حفاظتی اقدامات کر رکھے تھے۔کیا ہم نے حادثہ ہونے کی صورت میں، اس سے نمٹنے اور اس کے اثرات کو پھلنے سے روکنے کی تراکیب کا بندوبست کر رکھا تھا تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ سرکاری شعبے کی نااہلیت اور نامعقولیت کے بارے میں تاثر عام ہے۔ ہماری توجہ مال بنانے اور نمود و نمائش والی سرگرمیوں پر ہے۔ ہماری سرکار، ہماری حکومت، ہمارے حکمران نااہلی اور نامرادی کا استعارہ بن چکے ہیں۔ اس میں کوئی پارٹی اور کوئی خاندان مستثنیٰ نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی ہو یا ن لیگ و ق لیگ اور ایم کیو ایم، یہ جماعتیں ایک عرصے سے حکمرانی کے مزے لوٹ رہی ہیں لیکن پاکستان عالمی منظر نامے میں، تعمیر و ترقی کے میزان میں نچلے بلکہ بہت ہی پست مقام پر کھڑا نظر آتا ہے۔
ہمارے ہاں نجی شعبے کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ 17جنوری 2026 کراچی میں ایک نجی گل پلازہ مال میں آگ لگی جس میں 80سے زائد انسان جل مرے، درجنوں زخمی ہوئے۔ اس آتشزدگی کی ابتدا ایک بچے کے عارضی / نقلی پھولوں کو ماچس کی تیلی سے روشن کرنے کی کاوش سے ہوئی۔ ایئر کنڈیشنگ ڈکٹ کے ذریعے آتشزدگی پھیل گئی اور پھر عظیم سانحہ وقوعہ پذیر ہو گیا۔ اس واقعہ کی تفصیلات پڑھ کر قوم کے سر شرم سے جھک گئے۔ پلازے کا پلاٹ بھی ناجائز طریقے سے الاٹ کرایا گیا۔ اس کی تعمیر بھی مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کرکے کی گئی ۔پھر کسی قسم کے حفاظتی انتظامات بھی نہیں کئے گئے۔ ایک نجی پلازے کی انتظامیہ کی نااہلی، بدنیتی، ہوس زر اور کرپشن نے قیمتی انسانی جانیں لے لیں۔ گل پلازے کے حادثے کی تحقیقات ہوئیں۔ خبریں بنیں،پروگرام ہوئے۔ بحث مباحثے ہوئے کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلا جو جان سے چلے گئے، چلے گئے۔
سانحہ پمز کے حوالے سے بھی اسی قسم کی خبریں سننے اور دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ گزرے تین سالوں کے دوران اس ادارے پر 22ارب روپے خرچ کئے گئے۔ جاری مالی سال کے دوران 7ارب روپے کا بجٹ مختص کیا جا چکا ہے اس قدر قومی وسائل خرچ کرنے کے باوجود پمز کا حال کسی بھی عام سے سرکاری ہسپتال جیسا ہے جہاں انتظامی نااہلی، بدنیتی اور کرپشن کا راج ہے۔ ہسپتال، جو شفا اور صحت کیلئے قائم کئے جاتے ہیں وہ عقوبت خانے بنے ہوئے ہیں جہاں صحت و تندرستی کے تمام ضوابط پامال کئے جاتے ہیں۔ ویسے ہمارے ہسپتالوں کی حالت ویسی ہی ہے جیسی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے دیگر اداروں کی ہے۔ حکومتی انتظام کے تحت چلنے والے کاروباری اداروں کا خسارہ 9ہزار 5سو71ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ توانائی کے شعبے کا خسارہ یا گردشی قرضہ 1ہزار 9سو ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ سب کچھ سرکاری شعبے کی نااہلیوں کا نتیجہ ہے۔ 12ہزار 9سو 70ارب روپے کی مجموعی ٹیکس وصولیوں میں سے 2ہزار1سو ارب روپے سرکاری اداروں کو زندہ رکھنے کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ گویا ٹیکس کی شکل میں جمع کردہ ہر 6روپوں میں سے ایک روپیہ ایسے اداروں کی نااہلیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
ہمارے حکمران، ہماری حکومتیں دہائیوں سے ایسے ہی چل رہی ہیں اس لئے پمز کے حوالے سے جو کچھ سامنے آیا ہے اور آ رہا ہے وہ کچھ حیران کن یا پریشان کن ہرگز نہیں ہے لیکن اس واقعے کا مبارک دن ظہور پذیر ہونا، ہمارے لئے لمحہ فکریہ ضرور ہے۔ رحمتہ اللعالمینؐ کی آمدسعید کا دن مناتے ہوئے ایسا اندوہناک واقعہ ظہور پذیر ہوا، یہ ایک حیران کن بات ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں قدرت کچھ یاد دلا رہی ہے۔ ہماری نااہلیوں اور نافرمانیوں کا نتیجہ دکھا رہی ہے۔ وارننگ کے طور پر،تنبیہ کے انداز میں کہ بندے بن جاؤ، سدھر جاؤ، وگرنہ عذاب کا کوڑا برسنے کو ہے۔ ویسے اس واقعہ میں ایک اور بات کی نشاندہی بھی ہوتی ہے نظام کی خامیاں، خرابیاں اپنی جگہ درست ہوں گی لیکن ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے کے اخلاقی دیوالیہ پن کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اگر ایک ان ٹرینڈ عورت، عام سی عورت صرف جذبہ محبت کے تحت، خالہ ایک بچے کو بچا سکی ہے تو کیا انسانی ہمدردی کے تحت وہاں کا عملہ دیگر بچوں کو بھی نہیں بچا سکتا تھا۔
ذرا سی توجہ سے، تھوڑی سی انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت تمام بچوں کو موت کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتا تھا ۔اس کیلئے کسی مہارت اور تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ہاں انسانی ہمدردی کے جذبے کا ہونا ضروری ہے جو ہمارے ہاں عنقا ہو گیا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)