پمز سانحہ پر سرکاری کارروائی اور تضادات کی کہانی
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 30 / اگست / 2026
وزیر اعظم نے 26 اگست کو پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آتشزدگی کی عبوری رپورٹ ملنے کے بعد ہسپتال کے اہم ذمہ داروں کو فوری طور سے معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ کےعلاوہ فوجداری کارروائی کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پمز کے معطل شدہ سربراہ کے علاوہ اہم عہدوں پر فائز افراد کو قید کی سزائیں مل سکیں گی۔
عبوری رپورٹ میں اگرچہ آگ لگنے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا لیکن یہ واضح کیا گیا ہے کہ آگ اچانک بھڑکی اور دو منٹ میں پورا وارڈ جل کر راکھ ہوگیا ۔ اس سانحہ میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے اور ایک نرس کی چابکدستی اور فرض شناسی کی وجہ سے صرف ایک بچے کو بچایا جاسکا تھا۔ اب وزیر اعظم نے اس نرس کو ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ کے وقت دو نرسیں، ایک سکیورٹی گارڈ اور ایک ڈاکٹر موقع پر موجود تھا اور انہوں نے فوری طور سے ایمرجنسی مدد حاصل کرنے کی کوششیں بھی کیں۔ جبکہ ایک نرس نے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک بچے کو آگ میں سے نکالا ۔لیکن سپروائزری اسٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں اس کوتاہی کے ذمہ داروں کو سزا دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی واضح ہؤا ہے کہ اتنا اہم ہسپتال ہونے کے باوجود آتشزدگی جیسی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نہ تو مناسب آلات فراہم تھے اور نہ ہی عملہ کو ایسی ایمرجنسی سے نمٹنے کی تربیت دی گئی تھی۔ حتی کہ جس کمپنی کو مشکل صورت حال میں انسانی جانیں بچانے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے، موقع پر موجود اس کے اسٹاف کے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ اسے ایسی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا تربیت حاصل تھی۔ آگ اچانک بھڑکی اور 14 بچوں کی ہلاکت کا سبب بنی لیکن ہسپتال میں ایسا کوئی انتظام موجود نہیں تھا کہ فوری طور سے ایمرجنسی مدد طلب کی جاتی۔ متعلقہ محکمہ کو اطلاع دینے میں کئی منٹ صرف ہوئے اور باہر سے ایمرجنسی امداد 16 منٹ بعد موقع پر پہنچی لیکن اس وقت تک معصوم بچے جان سے جا چکے تھے۔ رپورٹ نے البتہ اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ موقع پر موجود اسٹاف آگ لگتے ہی بھاگ گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق نرسوں نے مدد کے لیے بھاگ دوڑ کی اور ایک نرس نے ایک بچے کو بچایا۔
اس رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ جولائی میں پمز کے ویمن نرسنگ ہوسٹل میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا جس سے واضح ہؤا تھا کہ ہسپتال میں آگ لگنے کے بعد اس سے نمٹنے کے لیے مناسب اور قابل اعتبار سہولتیں میسر نہیں ہیں اور نہ ہی عملہ اس صورت حال میں اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔ ا س کے باوجود ہسپتال کی انتظامیہ آتشزدگی کے بعد حفاظتی انتظام کو فعال اور مؤثر بنانے میں ناکام رہی۔ چھے ہفتے بعد 26 اگست کو نرسری میں آگ پھیلنے سے 14 بچوں کی ہلاکت اس نااہلی ، سستی اور ذمہ داری میں کوتاہی کا ہی نتیجہ ہے۔ اسی لیے کمیٹی نے پمز کے ڈی جی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو معطل کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس سفارش پر وزیر اعظم نے پمز کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر کے علاوہ جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائیریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور چوہدری ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر سکیورٹی محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن کو معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کے علاوہ فوجداری مقدمات قائم کرنے اور متعلقہ قوانین کے تحت انہیں سزائیں دلوانے کا حکم دیا ہے۔
وزیراعظم نے اس عبوری رپورٹ کو شائع کرنے کا حکم دیا اور واضح کیا کہ ’مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں اور اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔واقعے کے ذمہ داران کو مثالی سزا دلوائی جائے گی تاکہ دوبارہ کسی کی مجرمانہ غفلت سے کسی ماں سے اس کا لخت جگر جدا نہ ہو‘ ۔ وزیر اعظم کے ان جذبات اور احکامات کے علاوہ سرکاری نمائیندوں کی کوشش رہی ہے کہ اس واقعہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے اور اس المیہ کو منفی اثر کی بجائے حکومت کی عوام دوستی اور لوگوں سے ہمدردی کی مثال بنا کر پیش کیا جائے ۔ حالانکہ اسی حکومت میں وزارت صحت کا قلمدان سنبھالنے والے مصطفی کمال نے نہ صرف کوئی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ متعدد رپورٹوں کے مطابق وہ اس سانحہ پر اٹھنے والے سوالات پر بدکلامی کے مرتکب بھی ہوئے تھے۔ اس لیے تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ کے بعد پمز کے انتظامی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کے ساتھ اگر وزیر اعظم اپنے وزیر کی سرزنش بھی کرتے اور سیاسی ذمہ دار کے طور پر ان سے استعفی طلب کرتے تو واقعی یہ واضح ہوسکتا تھا کہ حکومت پمز کے سانحہ کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے۔ لیکن مصطفی کمال بدستور اپنے عہدے پر موجود ہیں اور احتساب کے نام سے ہی بھڑک اٹھتے ہیں کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ حادثہ تو کہیں بھی ہوسکتا ہے۔ حکومت سیاسی مجبوریوں کی بنا پر ایک حلیف جماعت کے رکن کو اس کے عہدے سے ہٹانے کا ’خطرہ‘ مول نہیں لے سکتی۔
دوسری طرف اس معاملہ کو سماجی انصاف کے اصول کی روشنی میں سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے بعض سرکاری نمائیندوں نے ملک میں اشرافیہ اور عام لوگوں کے درمیان تفریق کو اس کی وجہ بتانے کی کوشش کی ہے۔ خاص طور سے وفاقی وزیرماحولیات مصدق ملک کی ایک تقریر سوشل میڈیا پر شئیر کی جارہی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پمز کے چلڈرن وارڈ میں بچے اس لیے جل کر مرگئے کیوں کہ اس ہسپتال میں اشرافیہ کے بچے نہیں بلکہ ان کے اپنے الفاظ میں ’میرے اور آپ کے بچے جاتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا جب تک ملک میں یہ تفریق موجود رہے گی سانحات ہوتے رہیں گے۔ اس تقریر میں ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ یہ خیالات وزیر اعظم شہباز شریف کے ہیں جو اس سانحہ پر سخت رنجیدہ ہیں ۔ حکومتی پارٹی کے سینیٹر پرویز رشید نے بھی ایک بیان میں کہاکہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے سرکاری عہدیدار وں یا سیاسی لیڈروں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے کی بجائے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرانے کا پابند کیا جائے۔ تب ہی یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔
یہ باتیں خوشنما ضرور ہیں اور ان کے ذریعے شاید کچھ لوگوں کو وقتی طور سے دھوکہ بھی دیا جاسکتا ہے لیکن سرکاری عہدوں پر فائز ان حضرات کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کیا مگر مچھ کے آنسو بہانے سے ملک میں سماجی انصاف عام ہوجائے گا یا اس کے لیے حکومت پر بھی کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حکومت ایک حکم نامے کے ذریعے اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیداروں کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔ وزیر و مشیر خود اپنے بچوں کو عام سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے لیے بھیج کر مثال قائم کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر سرکاری عہدیدار پرائیویٹ تو کیا غیر ملکی ہسپتالوں میں علاج کرانے کو ترجیح دیں گے اور ان کے بچے بیرون ملک کالجوں یونیورسٹیوں میں تعلیم پائیں گے تو اس قسم کی باتوں سے تو کوئی سماجی انقلاب برپا نہیں ہوگا۔
پمز سانحہ پر سیاست اگر عوام کے ساتھ مذاق نہیں تو کم از کم بدذوقی ضرور کہی جاسکتی ہے۔ اسی طرح پمز کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے تمام مسئلے حل نہیں ہوجائیں گے۔ حکومت کو یقینی بنانا چاہئے کہ ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ان نقائص سے نجات حاصل کی جائے جن کی نشاندہی عبوری رپورٹ میں کی گئی ہے۔ ورنہ وزیر اعظم کا غم و غصہ اور بعض افراد کے خلاف فوری سخت کارروائی کے احکامات بے نتیجہ اور ناکارہ ثابت ہوں گے۔ اگر ملک بھر کے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات عالمی معیار کے مطابق نہیں کیے جاسکتے تو کسی بھی وقت کہیں بھی کوئی نیا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔