کرغستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کا اجلاس، پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم شریک

  • سوموار 31 / اگست / 2026

وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے ہیں۔ بشکیک پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عادلبیک قاسمالیف نے وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔

چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایک درجن سے زائد دیگر ممالک کے رہنما آج کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے تین روزہ دورے کے دوران شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنے والے مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

اس دوران کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی ہے۔

روس، چین، انڈیا، پاکستان، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک اس تنظیم کے رکن ہیں، جو اپنے قیام کی 25ویں سالگرہ منا رہی ہے۔

ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں کو کثیر قطبی عالمی نظام کے فروغ اور مغرب کے مقابلے میں متحد محاذ کے اظہار کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب روس کے یوکرین پر حملے کو ساڑھے چار سال اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں۔