پھول جو بن کھلے مرجھا گئے

یوں تو آ ئے روز ہم کسی نہ کسی سانحے یا ناخوشگوار واقعے کی لپیٹ میں آ تے رہتے ہیں مگر گزشتہ دنوں اسلام آ باد کے معروف سرکاری اسپتال پمز میں 14 نومولود بچوں کی جان سے جانے کے واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔

اسپتال کی نرسری میں آ گ لگی اور چودہ معصوم پھول بن کھلے مرجھا گئے اس حادثے اور سانحے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے اور اسپتالوں کے انتظامی معاملات میں خلا اور نااھلی کو بھی اجاگر کیا ہے۔ اس حادثے کے اسباب جاننے کے لئے بنائے جانے والی کمیٹی کی ابتدائی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت دس افراد کی برخاستگی کی تجویز دی ہے جس کی وزیراعظم نے منظوری بھی دے دی ہے۔ مگر حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کے مصداق ابھی تک ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صحت کے وزیر موصوف کو پریس کانفرنس کرنے کی بجائے از خود استعفی دے دیتے کہ ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں ایسا ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں عہدوں اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی روایت جنم لے چکی ہے۔ ایک سانحے کے بعد ہم دوسرے سانحے کے منتظر رہتے ہیں۔ کسی بھی حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں اور خلقت شہر کہنے کو کسی نئے افسانے کی تلاش میں لگ جاتی ہے بقول منیر نیازی:
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

پمز اسپتال کے اس واقعے کے بعد مزید کئی سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی کا پول بھی کھل گیا ہے جہاں نہ تو آ گ بجھانے والے آ للات وافر تعداد میں موجود ہیں اور نہ ہی فعال ہیں۔ اکثر اسپتالوں میں جدید مشینری اور الات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں ۔ کئی جگہ فنڈز کی عدم فراہمی کا رونا رویا جا رہا ہے۔ مریض زیادہ ہیں بیڈ کم ہیں۔ چلڈرن اسپتالوں میں ایک بیڈ پر کئی بچے ہوتے ہیں۔ ادویات موجود نہیں، ڈاکٹروں کو باہر سے ادویات منگوانے کی اجازت نہیں ہے۔

حیرت اس بات کی ہے کہ وزیر اعلی، وزیر داخلہ اور وزرا کی فوج ظفر موج آ ئے روز اسپتالوں کے دورے پر ہوتی ہے مگر یہ لوگ وہاں جا کر آ خر کیا چیک کرتے ہیں۔ سوائے فوٹو سیشن کے آ ج تک ان دوروں سے کیا سامنے آ یا ہے۔ سوائے کسی بیچارے ایک آ دھ اہلکار کی معطلی کی خبر کے۔ ان دوروں سے کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔ عوامی مسائل اسی طرح موجود رہتے ہیں اور مریضوں اور اسپتالوں کی حالت زار بھی بدلتی دکھائی نہیں دیتی، جس کی تازہ مثال پمز اسپتال کا یہ حالیہ واقعہ ہے۔

حیرت ہے کہ انتہائی نگہداشت کا یہ وارڈ مقفل تھا۔ باہر جانے کا کوئی ہنگامی راستہ نہ تھا۔ ڈاکٹر اور نرسیں ڈیوٹی پر موجود نہ تھے۔ اور جو عملہ موجود تھا وہ ڈر کے بھاگ گیا۔ ایک نرس نورین نے ہمت کر کے ایک بجے کی جان بچائی جس کے لئے تمغہ خدمت اور ایک کروڑ کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ خبر بھی گرم ہے کہ اکثر اسپتالوں میں ٹکنیکل سٹاف کی کمی ہے۔ لیبارٹریوں میں اور جدید ٹیسٹ کی مشینوں پر بھی تجربہ کار اسٹاف موجود نہیں ہے۔ اب اس نااہلی کا ذمہ دار کون ہے بقول مصطفی زیدی:
میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاس کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

کسی کی ذرا سی غفلت کی وجہ سے اتنا بڑا حادثہ ہوگیا، کسی کی ایک ادا سے کسی کی جان گئی۔ نجانے کتنے ہی والدین نے مندوں اور مرادوں سے یہ گوہر نایاب حاصل کئے تھے۔ عزیز و اقارب اور محلے داروں میں مٹھائیاں بانٹی تھیں۔ مبارکبادیں وصول کی تھیں اور اب ہرسے وصول کر رہے ہیں۔ یہ معصوم کلیاں تو ابھی پوری طرح کھلنے بھی نہ پائیں تھیں۔ یہ پھول ابھی ابھی لطافت کی داد بھی نہ پا سکے تھے۔ ان کے والدین نے ان کے چہروں پر ابھی مسکراہٹ اور مسکان بھی نہ دیکھی تھی۔ اب وہ ساری عمر اس دکھ غم رنج اور کرب کو بھلا کیسے بھول پائیں گے۔
کیا حکومتی امداد اور دلاسے اس غم کا مداوا ہو سکتے ہیں۔ کبھی نہیں خدارا حالات کو سدھارئیے ملک میں میرٹ اور انصاف کا بول بالا کیجیے۔ سفارش اور اقربا پروری کے ذریعے اداروں کا بیڑہ غرق نہ کیجئے۔

ملک میں معصوم ننھے فرشتوں اور معصوم پھولوں اور کلیوں کو مسلنے کی وبا پھیل چکی ہے۔ آ ئے روز کوئی خوں چونکاں اور لرزہ خیز واقعہ جنم لیتا ہے۔ کچھ روز اس پر لے دے ہوتی ہے اور پھر اسے بے حسی اور سرد خانے کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ سخت حکومتی انتظامات اور فوری انصاف کی فراہمی کی قانون سازی سے ہی ان واقعات اور حادثات کو روکا جا سکتا ہے۔ اسپتالوں کو وافر فنڈز دیں اسٹاف اور ادویات کی کمی پوری کریں۔ فنڈز کا آ ڈٹ کریں اور ذمہ داروں کو سزائیں دیں۔ ہر حادثے اور سانحے پر حکومتی بنے بنائے بیانات داغ دئیے جاتے ہیں مگر اس سے کسی کی تسلی تشفی نہیں ہوتی۔

پمز کے اس حالیہ واقعے ہر بھی زبانی جمع خرچ زیادہ کیا جا رہا ہے اور صورت حال کچھ اس شعر کی سی ہے کہ:
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا