امریکہ کے ایران پر حملے، ایران کا جوابی کارروائی کا اعلان
امریکا نے ایران پر ایک بار پھر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں 12 افراد ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ ایران کے مختلف شہروں اہواز، چابہار، قشم اور بندر عباس کے علاقوں پر حملے کیےگئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صوبے خورستان میں 7، ایرانی جزیرے سیرک کے قریب شادی کی تقریب پر امریکی حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے۔قشم جزیرے کے ماسان گاؤں کے قریب 5 سے زائد دھماکے ہوئے، آبنائے ہرمز کے قریب مزید 4 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔جنوبی بندرگاہی شہر بندرعباس کے مشرق میں بھی دھماکے ہوئے، امریکی فورسز نے جنوب مشرقی ایران میں جیرفت ایئرپورٹ پر بھی حملہ کیا۔
امریکی فوج کے مطابق ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں۔مریکی حملوں کے جواب میں ایران نے شدید جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے۔ایرانی مسلح افواج اور خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سیستان، بلوچستان اور ہرمزگان پر امریکا نے حملے کئے، امریکی فضائی حملوں کے جواب میں بھرپور اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں امریکی فوج کی کارروائیاں جاری رہیں تو امریکا کو مزید بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ایران اپنے عوام کے حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سیاسی نائب جنرل یداللّٰہ جوانی نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ممالک سے امریکی افواج کو نکال دیں، بصورتِ دیگر انہیں شدید فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جنرل یداللّٰہ جوانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی فوج نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایران پر حملوں کیلئے استعمال ہونے والے کسی بھی اڈے یا مقام کے خلاف فیصلہ کن جوابی کارروائی کر سکتی ہے۔جنرل یداللّٰہ جوانی نے بالخصوص کویت، بحرین اور اردن کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک میں موجود ایسے مقامات، جہاں سے ایران کے خلاف حملوں کیلئے کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ ایرانی جوابی حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔