قیمت سے آگے، عوام کے حق تک ، فوڈ سیفٹی کا نیا وژن

حکومتیں صرف قوانین، محکموں اور دفاتر سے نہیں چلتیں، اصل حکمرانی وہاں دکھائی دیتی ہے جہاں عام آدمی کو بازار میں مناسب قیمت پر معیاری چیز ملے، اس کے گھر کی خوراک محفوظ ہو، کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب مارکیٹ دستیاب ہو اور اگر کوئی دکاندار یا ادارہ اس کے ساتھ زیادتی کرے تو اسے شکایت کے ازالے کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھانا پڑیں۔

یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کے تناظر میں پنجاب کے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کی تشکیل ایک اہم انتظامی پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ سابق پرائس کنٹرول اینڈ کموڈیٹیز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا دائرۂ کار بڑھا کر اسے خوراک کے تحفظ، صارفین کے حقوق، مارکیٹ ریگولیشن، زرعی مارکیٹنگ، سپلائی چین اور ضروری اشیائے خورونوش کی دستیابی جیسے وسیع معاملات سے جوڑا گیا ہے۔ یہ محض نام کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے مربوط نظام کی تشکیل کی کوشش ہے جس میں قیمت، خوراک، مارکیٹ اور صارف کو الگ الگ مسائل کے بجائے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات سمجھا جائے۔

اسی حوالے سے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کی سیکرٹری ڈاکٹر کرن خورشید سے ساؤتھ ایشین کالمسٹ کونسل کے وفد کی ملاقات میرے لیے بھی ایک دلچسپ تجربہ تھی۔ بریفنگ کے دوران واضح ہوا کہ ڈاکٹر کرن خورشید محکمہ کو روایتی پرائس کنٹرول کے محدود تصور سے نکال کر ڈیٹا، ٹیکنالوجی، مانیٹرنگ، انفورسمنٹ اور صارف دوست گورننس کے وسیع فریم ورک میں دیکھ رہی ہیں۔ پرائس کنٹرول کا روایتی تصور عموماً ریٹ لسٹ جاری کرنے، انسپکشن، جرمانے اور دوبارہ اسی عمل کو دہرانے تک محدود رہا ہے۔ لیکن قیمت بڑھنے کی اصل وجہ اگر سپلائی چین، طلب و رسد، ذخیرہ اندوزی، پیداوار، ٹرانسپورٹ یا منڈی کے نظام میں ہو تو صرف جرمانے مسئلہ حل نہیں کرتے۔

ڈاکٹر کرن خورشید کے وژن کی اہمیت یہی ہے کہ قیمت کو صرف دکان کے کاؤنٹر پر نہیں بلکہ پوری مارکیٹ چین میں دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محکمہ کے وسیع انتظامی ڈھانچے میں پرائس اینڈ کنزیومر پروٹیکشن، فوڈ، ایگریکلچر اکنامکس اینڈ مارکیٹنگ، کنزیومر پروٹیکشن کونسل، پنجاب فوڈ اتھارٹی، پنجاب ایگریکلچر مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی، پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی اور پنجاب سہولت بازار اتھارٹی سمیت مختلف اداروں اور شعبوں کو مربوط انداز میں آگے بڑھانا اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ خوراک اور مارکیٹ کے مسائل کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ گندم اور چینی جیسی بنیادی اجناس ہوں یا دالیں، آلو، پیاز، ٹماٹر، لہسن، ادرک، گھی، مرغی، انڈے، گوشت اور موسمی سبزیاں؛ عام آدمی کی زندگی ان اشیا کی قیمت اور دستیابی سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے طلب و رسد، ذخیرہ، نقل و حمل اور مارکیٹ رجحانات کی نگرانی مؤثر مارکیٹ گورننس کا بنیادی حصہ ہے۔

آج کے دور میں حکومت اگر صرف کاغذی رپورٹس پر انحصار کرے تو فیصلہ سازی ہمیشہ موجودہ صورتحال سے پیچھے رہ جائے گی۔ مارکیٹ بدلتی رہتی ہے، قیمتیں تبدیل ہوتی ہیں اور صارف کی شکایت فوری نوعیت کی ہوتی ہے۔ ایسے میں درست اور بروقت ڈیٹا ہی حکومت کو بروقت فیصلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت محکمہ مارکیٹ مانیٹرنگ، فوڈ انسپیکشن، قیمتوں کی معلومات، صارفین کی شکایات اور عوامی رابطے کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کو فروغ دے رہا ہے۔ قیمت پنجاب ایپ شہریوں کو روزانہ مارکیٹ نرخ اور سرکاری ریٹ لسٹ تک رسائی دیتی ہے، جبکہ کنزیومر پروٹیکٹ ایپ شکایات کے اندراج اور مسائل کے ازالے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ محکمہ کی ویب سائٹ پر ’مہر‘ اے آئی چیٹ بوٹ بھی عوام کے سوالات کے فوری جواب دینے کی سمت ایک جدید قدم ہے۔

ٹیکنالوجی کا اصل فائدہ تب ہے جب وہ شہری اور حکومت کے درمیان فاصلہ کم کرے۔ اگر شہری کو زائد قیمت کی شکایت کے لیے دفتر کے کئی چکر نہ لگانا پڑیں، سرکاری نرخ گھر بیٹھے معلوم ہو جائیں اور شکایت کا ڈیجیٹل ریکارڈ متعلقہ ادارے تک پہنچ جائے تو یہ صرف سہولت نہیں بلکہ گورننس میں اعتماد کی بحالی ہے۔ فوڈ سیفٹی صرف ملاوٹ پکڑنے کا نام نہیں۔ محفوظ خوراک کا تصور فارم سے مارکیٹ اور مارکیٹ سے صارف کی میز تک پھیلا ہوا ہے۔ خوراک کی تیاری، ذخیرہ، صفائی، معیار، پیکنگ اور ترسیل سب اس نظام کا حصہ ہیں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذریعے فوڈ انسپیکشن اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال اسی وسیع تصور کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ حلال خوراک کے شعبے میں پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی کا کردار بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جبکہ کاسمیٹکس اور روزمرہ استعمال کی دیگر مصنوعات کے معیار اور تحفظ کو بھی وسیع تر کنزیومر پروٹیکشن فریم ورک میں اہمیت دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف کسان بھی اس نظام کا اہم فریق ہے۔ ایک طرف صارف مہنگائی سے پریشان ہے تو دوسری طرف کسان کو بعض اوقات اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملتی۔ دونوں مسائل کا تعلق مؤثر اور شفاف زرعی مارکیٹ اور سپلائی چین سے ہے۔ اگر منڈیاں جدید ہوں، مارکیٹ انٹیلی جنس مضبوط ہو، طلب و رسد کا درست ڈیٹا دستیاب ہو اور کسان، تاجر اور صارف کے درمیان مارکیٹ میکنزم شفاف ہو تو اس کا فائدہ صرف صارف کو نہیں بلکہ پوری معیشت کو پہنچتا ہے۔

سہولت بازار اور ماڈل بازار بھی اسی بڑے نظام کا حصہ ہیں، جہاں ضروری اشیا کی نسبتاً مناسب نرخوں پر فراہمی کے ساتھ چھوٹے کاروباری افراد کے لیے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ شفافیت اور مؤثر مانیٹرنگ کے ساتھ یہ نظام شہریوں کے لیے حقیقی ریلیف کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے: کسی بھی محکمے کی کامیابی کا اصل امتحان فائلوں، اجلاسوں، ایپس یا پریس ریلیزوں کی تعداد نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں آنے والی عملی تبدیلی ہے۔ ڈاکٹر کرن خورشید کا وژن بھی اسی عملی امتحان سے گزرے گا۔ اگر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سے مارکیٹ میں شفافیت بڑھے، شکایات پر بروقت کارروائی ہو، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر مؤثر گرفت ہو، محفوظ خوراک کی دستیابی بہتر ہو اور کسان و صارف دونوں کو منصفانہ مارکیٹ میسر آئے تو یہ انتظامی تبدیلی پنجاب میں مارکیٹ گورننس کے نئے ماڈل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

ساؤتھ ایشین کالمسٹ کونسل کے وفد کی ڈاکٹر کرن خورشید سے ملاقات میں بھی یہی پہلو زیر بحث آیا کہ خوراک، قیمت اور صارف کا مسئلہ براہ راست عوامی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ وفد نے محکمہ کے وژن اور مختلف شعبوں کو ایک مربوط نظام میں لانے کی کوشش کو سراہا۔ لیکن بطور صحافی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ تعریف کے ساتھ نگرانی بھی ضروری ہے۔ اچھی گورننس کا تقاضا ہے کہ اعداد و شمار عوام کے سامنے آئیں، کارروائیوں کے نتائج قابلِ پیمائش ہوں، شکایات کے ازالے کا وقت معلوم ہو اور شہری کو یہ احساس ہو کہ ریاستی نظام واقعی اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

حکومت کا سب سے بڑا اثاثہ عمارتیں نہیں، عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ اعتماد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بازار میں قیمت مناسب ہو، خوراک محفوظ ہو، پیمانہ درست ہو، شکایت سنی جائے، کارروائی نظر آئے اور کسان سے صارف تک پورا نظام شفاف ہو۔ اگر فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر کرن خورشید کے اس وژن کو اسی مربوط، ڈیٹا بیسڈ اور عوام دوست انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب رہتا ہے تو پنجاب میں خوراک اور مارکیٹ گورننس کے حوالے سے ایک ایسی مثال قائم ہو سکتی ہے جس میں ریاست کی نظر صرف قیمت پر نہیں بلکہ اس ہاتھ پر بھی ہو جو قیمت ادا کرتا ہے۔ اور شاید اچھی گورننس کی سب سے سادہ تعریف بھی یہی ہے: عوام کو محفوظ خوراک، مناسب قیمت، شفاف بازار اور اپنے حق کے لیے ایک مؤثر آواز مل جائے۔