پاکستان اور بھارت دیواریں گرائیں!

کرغستان میں شنگھائی تعاون تنظیم  کے سربراہی اجلاس  میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم بھی شریک ہوئے لیکن دونوں رہنماؤں نے اس موقع کو باہمی روابط میں دوریاں ختم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ غیر رسمی ملاقات تو دور کی بات دونوں نے مشترکہ اجلاسوں میں ایک دوسرے سے ملنے یا  مزاج پرسی کرنے  سے بھی گریز کیا۔ اس طرح ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی پیدا کرنے کا ایک اہم موقع ضائع کیا گیا ہے۔

اس پر مستزاد یہ کہ پاکستانی وزیر اعظم کے دفتر نے  سربراہی اجلاس کی جو ابتدائی تصویر شائع کی ، اس میں بھارتی وزیر اعظم کی تصویر کاٹ دی گئی تھی۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس پر  تبصروں اور حرف زنی کے  بعد میں مکمل تصویر جاری کی گئی۔ اس قسم کا طرز عمل   سردمہری اور فاصلوں میں اضافہ کا سبب بنتا ہے حالانکہ بوجوہ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے اور باہمی تعلقات میں حائل دیواریں گرانے کی ضرورت ہے۔

البتہ شنگھائی تعاون تنظیم  سربراہی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف  اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی  نے جو تقریریں کیں وہ اگرچہ ایک دوسرے کے  خلاف ’استغاثہ‘ ہی  کی حیثیت رکھتی تھیں لیکن خوش قسمتی سے  دونوں لیڈروں نے براہ راست ایک دوسرے پر حملہ کرنے یا کوئی سخت یا نازیبا الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا۔ اس سے یہ قیاس کرنے میں حرج نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان اور بھارت کے لوگوں اور دانشوروں ہی  میں نہیں بلکہ کسی حد تک سرکاری حلقوں میں بھی یہ احساس موجود ہے کہ ایٹمی طاقت کے حامل  دو ہمسایہ  ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں رہ سکتے۔ ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں اس ریجن میں اہم اسٹریٹیجک تبدیلیاں  دیکھنے میں آرہی ہیں۔ اگر اسلام آباد اور نئی دہلی ان تبدیلیوں میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہوگا۔ اگرچہ فی الوقت یہ لگتا ہے کہ دونوں ملک علاقائی ممالک سے روابط اور تعلق میں اپنی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ حالات باہمی تصادم اور تقسیم کی بجائے یک جہتی و افہام و تفہیم کا تقاضہ کرتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کو جنوبی ایشیا کے ڈیڑھ ارب لوگوں کے بہتر مستقبل کے علاوہ   مشرق وسطی اور وسیع تر ریجن میں سکیورٹی  کی نئی صورت حال میں  ذمہ دارانہ اور قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ دونوں ممالک بوجوہ اس قسم کے کردار کے اہل بھی ہیں لیکن اس کے لیے انہیں باہمی اختلافات ختم کرنے اور دشمنی کو ورکنگ ریلیشن شپ   میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اگر اس حساس اور مشکل صورت حال میں بھی وہ  ایک دوسرے کی مخالفت میں ’منی بلاک‘ بنانے کی کوشش کریں گے تو شاید ایسی کوئی کوشش عرب ممالک، ایران اور دیگر اہم ممالک کے لیے قابل قبول نہ ہو۔ پاکستان نے مکہ دفاعی معاہدہ کی صورت میں اور ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں سے اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اب بھارت کو  پاکستان کی ان کامیابیوں   میں اپنی ناکامیاں تلاش کرنے کی بجائے خود بھی ریجن میں ایک بڑے شفٹ کا حصہ بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کا سب سے بہتر طریقہ  نئی دہلی اور اسلام آباد میں سفارتی گرم جوشی اور تعاون  ہی ہوسکتا ہے۔

یہ مستحسن ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش اہم ترین معاملہ کا ذکر کیا۔ پانی  کی تقسیم اور سندھ طاس  معاہدے پر ہونے والے پاک بھارت اختلافات ایک سنگین  خطرہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی طرف سے اس مسئلہ کو ایک اہم عالمی پلیٹ فارم پر اٹھانے اور اسے جنگ کی بجائے پر امن طریقے سے حل کرنے کی اہمیت بیان کرنا ایک مثبت اور   خوش آئیند رویہ ہے۔ اس طرح شہباز شریف نے اس موقع پر موجود روس اور چین کے لیڈروں کو  صورت حال کی نزاکت اور اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔ خوش قسمتی سے نریندر مودی نے اپنی تقریر میں پاکستانی مؤقف  مسترد کرنے کی بجائے   خود کو دہشت گردی کے بارے میں بھارت کا مؤقف پیش کرنے  تک محدود رکھا۔  ان کی طرف سے پیش کیے گئے اس اصول سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ ’تنازعات میدانِ جنگ میں حل نہیں ہو سکتے اور مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں‘۔ اسی طرح  ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔

تاہم یہ صورت حال مضحکہ  خیز ہے کہ بھارت ایک طرف مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کرتا ہے اور جنگ کو مسائل کا حل نہیں سمجھتا لیکن گزشتہ سال خود ہی پاکستان پر براہ راست حملہ کرکے اپنے تئیں مسلح تصادم سے  مسائل حل کرنے کی کوشش بھی کرچکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ مؤقف بھارت کی اس پالیسی کے ساتھ بھی متصادم ہے کہ ایک طرف نئی دہلی جنگ سے گریز کی بات کررہا ہے تو دوسری طرف  ’آپریشن سندور‘ جاری رکھ کر پاکستان کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ دہشت گردی کے بارے میں نریندر مودی  کا یہ مؤقف بھی درست ہے  کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کے دوہرے معیار نہیں ہونے چاہییں‘۔  لیکن اس حوالے سے بھی بھارت کی عملی پالیسی ان کے اس بیان سے مطابقت نہیں رکھتی۔  مودی نے اسی تقریر میں افغانستان کی سلامتی کو خطے میں امن و استحکام  کے لیے ضروری قرار دیا  لیکن افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور ان کے بارے میں پاکستان اور عالمی برادری کے تحفظات کو نظر انداز کرکے اس معاملہ کو نہ تو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

بھارت کو شاید اندازہ ہونے لگا ہے کہ اب پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کرکے عالمی سطح  پر سفارتی پزیرائی حاصل نہیں کی جاسکتی۔   بھارتی وزیر اعظم کی باتوں  سے اس مزاج کا عکاسی بھی ہوتی ہے۔ جیسے شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدہ کو اہم قرار  دینے اور پانی کی تقسیم کے انتظام کو جاری رکھنے پر زور دینے کے باوجود بھارت پر الزام تراشی سے گریز کیا۔  اور پاکستان کی طرف سے امن اور بقائے باہمی کی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن  شہباز شریف  اور نریندر مودی  اپنی اپنی جگہ پر اس سے ایک قدم آگے بڑھا کر تعاون اور مکالمہ  کو دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست تعلق سے منسلک کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کی ایک وجہ تو شہباز شریف اور نریندر مودی کی  سیاسی مجبوریاں ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا قد آور لیڈر نہیں ہے جس سے  وسعت النظری اور قومی مفاد کو وسیع تر تناظر میں دیکھ کر اسے حاصل کرنے کے لیے قدم اٹھانے کا حوصلہ ہو۔

تاہم پاکستان اور بھارت کے لیڈروں کو یکساں طور سے جان لینا چاہئے کہ وہ نہ تو ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی دیواریں کھڑی کرکے اور اپنے اپنے لوگوں کو ایک دوسرے سے  نفرت پر آمادہ کرکے خطے اور ریجن  میں امن کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاریخ نے انہیں ایک  شاندار موقع عطا کیا ہے کہ   پورے ریجن میں  سکیورٹی اور امن کے حوالے سے نیا ماحول پیدا ہؤا ہے جس میں بیرونی طاقتوں کی بجائے علاقائی ممالک کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس میں کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے سے فاصلے کی بجائے  قربت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔