نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کی موجودہ حکومت گرانے کیلئے کام کر رہا ہے اور ان کی ہدایت پر تمام متعلقہ اسرائیلی ادارے ایرانی حکومت کو شکست دینے کیلئے سرگرم ہیں۔
اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی پائلٹس ایران میں کارروائی کیلئے کسی بھی وقت پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کا مقصد ایرانی نظام کو ختم کرنا ہے۔غزہ سے متعلق نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اہم اہداف میں حماس کو غیر مسلح کرنا، اسے غیر عسکری بنانا اور غزہ کو مستقبل میں اسرائیل کیلئے خطرہ بننے سے روکنا شامل ہے۔
دریں اثنا ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’ایران کے ساتھ جنگ کے بعد امریکی افواج پانچ سو میل دور چلی گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز نہ کھول سکنے کے باعث وہ ایسے اقدامات کر رہی ہیں۔‘
ابراہیم عزیزی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ نے ایران کے جنوبی علاقوں میں کئی حملے کیے ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔ ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔