ایرانی جزیرے خارگ پر امریکی میزائل حملہ

  • ہفتہ 05 / ستمبر / 2026

ایرانی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ملک کی مرکزی آئل پورٹ خارگ جزیرے کے قریب ’کئی دھماکوں‘ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اس کے نمائندے نے دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی، تاہم دھواں نظر نہیں آیا۔

ادھر مقامی سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ نے خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی نیوز ویب سائٹس، جن میں عصر ایران بھی شامل ہے، نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ٹینکر کو خالی کرانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے میڈیا ادارے نور نیوز نے کہا ہے کہ مقامی ذرائع نے خارگ کے قریب ایک ایرانی ٹینکر پر امریکی فورسز کے میزائل حملے کی اطلاع دی ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’ایران خطے میں نیا سکیورٹی نظام تشکیل دینے کی چین کی تجویز کا خیرمقدم کرتا ہے۔‘ قالیباف نے کہا کہ مشترکہ سکیورٹی کو مضبوط بنانے پر چین کی توجہ ان باتوں کی عکاسی کرتی ہے جن پر ایران برسوں سے زور دیتا آیا ہے۔

اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر بہت جلد ایران میں واقع کوہ کلنگ (جسے مغربی ذرائع ابلاغ میں پکیکس ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے) پر حملہ کر سکتا ہے۔ یہ زیرِ زمین سرنگوں کا ایک کمپلیکس ہے جو نطنز کی جوہری تنصیبات کے قریب واقع ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ خلا کے شعبے میں سب سے آگے ہے، ’ہمیں ہر اس فرد کے بارے میں معلوم ہے جو کوہ کلنگ میں حرکت کر رہا ہے، ہمیں ایران بھر میں ہر فرد کی نقل و حرکت کا علم ہے۔‘ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو ہم انہیں (ایران کو) نشانہ بنائیں گے۔

صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا۔ ’اگر ہم وہاں مداخلت نہ کرتے تو آج اسرائیل موجود نہ ہوتا، مشرقِ وسطیٰ موجود نہ ہوتا، اور غالب امکان ہے کہ اس کے بعد وہ یورپی شہروں اور ہمارے شہروں کو بھی نشانہ بناتے۔ لیکن ہم نے انہیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا۔‘

امریکی صدر نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکہ کے لیے ’کوئی بڑی بات نہیں‘ ہے۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ’جنگ‘ قرار نہیں دیتے۔

جمعے کے روز ایک صحافی نے سوال کیا کہ اگر ایران کے ساتھ تنازع ’جنگ‘ نہیں تو پھر اسے کیا کہا جائے؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’دیکھیں، بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے۔ میں اسے ایک فوجی تنازع کہتا ہوں کیونکہ ہمارے لیے یہ نسبتاً ایک چھوٹا معاملہ ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔