قلم ہمارے ہاتھ میں ہے یا اے آئی کے؟
- تحریر فہیم اختر
- ہفتہ 05 / ستمبر / 2026
کبھی زمانہ تھا کہ لکھنے والے کے پاس قلم، کاغذ، ایک لغت اور چند کتابیں ہوتی تھیں۔ کسی لفظ کا مطلب معلوم کرنا ہو تو لغت کھولی جاتی، کسی واقعے کی تصدیق کرنی ہو تو کتابوں کی ورق گردانی ہوتی اور کسی مضمون کے لیے مواد درکار ہو تو کئی دن تحقیق میں گزر جاتے۔پھر کمپیوٹر آیا، انٹرنیٹ آیا، گوگل آیا اور اب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی آگئی۔
اب صورتحال یہ ہے کہ لکھنے والے کو صرف یہ بتانا پڑتا ہے کہ ”مجھے فلاں موضوع پر ایک اچھا مضمون چاہیے“ اور چند لمحوں بعد اسکرین پر ایسا مضمون موجود ہوتا ہے کہ مصنف خود بھی حیران رہ جائے کہ یہ میں نے لکھا ہے یا کسی اور نے!اور شاید یہی آج کے ادبی منظرنامے کا سب سے دلچسپ اور پریشان کن سوال ہے:کیا ہمارے نئے لکھنے والے ای آئی کا استعمال کر رہے ہیں یا اے آئی ان کی جگہ لکھ رہی ہے؟یہ سوال معمولی نہیں۔ اس کے اندر آنے والے ادب کا ایک پورا منظرنامہ چھپا ہوا ہے۔
مصنوعی ذہانت بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کو آسان بنانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔ اے آئی چند لمحوں میں ہزاروں صفحات کے مواد کو دیکھ سکتی ہے، معلومات کو ترتیب دے سکتی ہے، پیچیدہ موضوعات کو آسان زبان میں سمجھا سکتی ہے، ترجمہ کر سکتی ہے، املا درست کر سکتی ہے اور ایک منتشر خیال کو باقاعدہ خاکے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ایک لکھنے والے کے لیے تو یہ کسی ایسے ذہین معاون کی طرح ہے جو دن رات دستیاب ہے اور جسے چاہے بھی نہیں چاہیے۔ لیکن ہر سہولت ایک امتحان بھی ہوتی ہے۔سوال یہ نہیں کہ اے آئی ہمارے لیے کیا کر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس سے کیا کروا رہے ہیں؟اگر ہم اے آئی سے معلومات حاصل کرتے ہیں، اپنے خیالات کو ترتیب دیتے ہیں، اپنی تحریر کی اصلاح کرواتے ہیں اور پھر اپنی سوچ، تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر اسے مکمل کرتے ہیں تو یہ ایک مفید ٹیکنالوجی ہے۔لیکن اگر ہم نے اپنا موضوع بھی اے آئی کو دے دیا، خیال بھی اس سے لیا، مواد بھی اسی کا، جملے بھی اسی کے اور آخر میں صرف اپنا نام لگا دیا تو پھر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اس تحریر میں ہمارا حصہ آخر کتنا ہے؟
نام ہمارا، قلم اے آئی کا!یہ صورت حال ذرا مضحکہ خیز بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔نئے لکھنے والے اور تیار شدہ ادب۔ مجھے سب سے زیادہ تشویش نئے لکھنے والوں کے حوالے سے ہے۔نیا لکھنے والا دراصل ایک زیرِ تعمیر عمارت کی مانند ہوتا ہے۔ اس کے اندر امکانات بہت ہوتے ہیں، مگر ابھی بنیاد مضبوط نہیں ہوئی ہوتی۔وہ غلطیاں کرتا ہے،جملے توڑتا ہے،دوبارہ لکھتا ہے۔اپنے شعر سے خود ناراض ہوتا ہے۔کسی بزرگ شاعر سے اصلاح لیتا ہے۔کسی استاد سے ڈانٹ کھاتا ہے۔اور کبھی ایک معمولی سا جملہ لکھنے میں پورا دن گزار دیتا ہے۔یہی مشقت اسے لکھنے والا بناتی ہے۔اگر وہ ہر بار اپنی مشکل کا حل اے آئی سے حاصل کر لے تو اس کی تحریر شاید جلد خوب صورت ہوجائے، مگر اس کی اپنی تخلیقی عضلات کیسے مضبوط ہوں گے؟ہم نے اگر لکھنے کی تکلیف ہی ختم کردی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لکھنے کی صلاحیت بھی ختم ہوجائے۔
ایک نوجوان شاعر اگر ہر غزل اے آئی سے لکھوائے گا تو شاید اس کے پاس اشعار کی کمی نہ رہے، مگر ایک دن جب موبائل کی بیٹری ختم ہوجائے گی تو ممکن ہے شاعر بھی ختم ہوجائے۔یہ مذاق نہیں، ایک سنجیدہ ادبی مسئلہ ہے۔ادب صرف الفاظ کا کھیل نہیں، اے آئی خوب صورت زبان پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن ادب صرف خوب صورت زبان کا نام نہیں۔ادب میں زندگی شامل ہوتی ہے۔ایک ماں کی موت کا دکھ، ایک باپ کی خاموشی، پہلی محبت کی بے قراری، ہجرت کا کرب، غربت کی اذیت، تنہائی کی رات، دوست کی جدائی، شہر کی گلیاں، بچپن کی یادیں،یہ سب ادیب کے اندر سے نکلتے ہیں۔اے آئی ان سب پر ہزاروں صفحات لکھ سکتی ہے، لیکن جس شخص نے یہ سب جھیلا ہو، اس کے تجربے کی جگہ محض الفاظ نہیں لے سکتے۔ایک مشین بارش پر ایک خوب صورت پیراگراف لکھ سکتی ہے، لیکن جس شخص نے برسوں بعد اپنے آبائی شہر میں بارش دیکھی ہو، اس کے لیے وہ بارش صرف موسم نہیں ہوتی،وہ یاد ہوتی ہے اور ادب یاد، احساس اور تجربے سے جنم لیتا ہے۔
لیکن اے آئی کو دشمن بھی نہ بنائیں۔یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے۔ہمیں اے آئی کو ادب کا دشمن قرار دینے کی بھی ضرورت نہیں۔اگر کوئی لکھنے والا اے آئی سے پوچھتا ہے کہ کسی موضوع پر کن پہلوؤں سے غور کیا جاسکتا ہے، اسے چند حوالہ جاتی نکات ملتے ہیں، اپنی تحریر کی زبان بہتر کرواتا ہے، املا درست کرتا ہے یا اپنے مضمون کا ابتدائی خاکہ بناتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔آخر ایک ادیب صدیوں سے دوسروں کی کتابیں پڑھ کر ہی تو لکھتا آیا ہے۔کتاب سے معلومات لینا چوری نہیں۔لغت سے لفظ دیکھنا چوری نہیں۔استاد سے اصلاح لینا چوری نہیں۔تو اے آئی سے مدد لینا بھی بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔اصل مسئلہ دیانت داری کا ہے۔اگر اے آئی آپ کی معاون ہے تو ٹھیک ہے۔اگر اے آئی آپ کی مصنف ہے اور آپ صرف دستخط کرنے والے ہیں تو معاملہ گڑبڑ ہے۔کیونکہ مشین بھی غلطی کرتی ہے۔
ایک اور خطرناک غلط فہمی یہ ہے کہ اے آئی چونکہ مشین ہے اس لیے وہ غلط نہیں ہوسکتی۔حقیقت اس کے برعکس ہے۔اے آئی کبھی کبھی بڑے اعتماد کے ساتھ ایسی بات بھی بتا دیتی ہے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتی۔حوالہ ایسا دے سکتی ہے جس کا کوئی وجود نہ ہو۔شخصیت کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرسکتی ہے۔اور کبھی ایک غلط بات کو اتنے خوب صورت انداز میں پیش کرتی ہے کہ قاری کو شک بھی نہیں ہوتا۔یہاں مصنف کی ذمہ داری پہلے سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔اے آئی سے معلومات لینا آسان ہے، معلومات کی تصدیق کرنا اب بھی انسان کا کام ہے۔خصوصاً اردو ادب میں یہ ذمہ داری بہت اہم ہے، کیونکہ ہمارے ادبی حلقوں میں پہلے ہی کئی ایسی روایات موجود ہیں جہاں حوالہ کم اور ”سنا ہے“ زیادہ ہوتا ہے۔اب اگر ”سنا ہے“ کے ساتھ اے آئی بھی شامل ہوگئی تو خدا خیر کرے!
تو کیااے آئی تعصب سے پاک ہے؟یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اے آئی انسانوں کے مقابلے میں غیر جانب دار ہے۔یہ بات بھی مکمل طور پر درست نہیں ہے۔اگر اے آئی کو متعصبانہ یا ناقص ڈیٹا سے تربیت دی جائے تو اس کے نتائج بھی متعصبانہ ہوسکتے ہیں۔یعنی مشین کے پاس اپنا تعصب شاید نہ ہو، لیکن انسان کا تعصب اس کے ڈیٹا میں داخل ہوسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اے آئی کے نتائج کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔
ادب میں تو یہ احتیاط اور بھی اہم ہے، کیونکہ ادیب کا کام صرف معلومات اکٹھی کرنا نہیں بلکہ ان معلومات پر غور کرنا اور اپنا نقطہ نظر قائم کرنا بھی ہے۔اصل خطرہ ملازمت نہیں، انسانی صلاحیت ہے۔اے آئی کے بارے میں سب سے زیادہ بات ملازمتوں کے ختم ہونے کی ہوتی ہے۔یقیناً بہت سے شعبوں میں کچھ کام خودکار ہوں گے اور بعض ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہوگی۔لیکن میرے نزدیک اس سے بھی بڑا خطرہ یہ ہے کہ کہیں انسان اپنی سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرنا ہی نہ چھوڑ دے۔اگر مشین ہمارے لیے حساب کرے، مشین ہمارے لیے ترجمہ کرے، مشین ہمارے لیے تحقیق کرے، مشین ہمارے لیے فیصلہ کرے اور آخر میں مشین ہمارے لیے لکھے بھی، تو پھر انسان کے پاس باقی کیا بچے گا؟شاید صرف یہ کام کہ وہ کہے:”اے آئی صاحب! ذرا میرا نام بھی نیچے لکھ دینا۔“
پھرقلم کا مالک کون ہے؟یہ سچ ہے کہ ٹیکنالوجی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔اے آئی آچکی ہے، اس سے مزید ترقی بھی ہورہی ہے اور اب یہ ہماری زندگی کا پہلے سے زیادہ حصہ بن چکی ہے۔ہم اسے روک بھی نہیں سکتے ہیں اور شاید اسے روکنا بھی نہیں چاہیے۔ہمیں صرف یہ طے کرنا ہے کہ ہم اس کے ساتھ اپنا تعلق کس طرح قائم کرتے ہیں۔ایک ادیب اے آئی سے مدد لے سکتا ہے، لیکن اپنی تخلیقی شناخت اس کے حوالے نہیں کر سکتا۔وہ اس سے سوال کرسکتا ہے، مگر ہر جواب قبول نہیں کرسکتا۔وہ اس سے خاکہ لے سکتا ہے، مگر تحریر میں اپنا تجربہ شامل نہیں کر سکتا ہے۔وہ زبان سنوار سکتا ہے، مگر اپنی آواز نہیں بدلے گا۔کیونکہ آخرکار ادب کی اصل قدر اس بات میں نہیں کہ تحریر کتنی شاندار ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ اس تحریر میں لکھنے والا کتنا موجود ہے؟ممکن ہے آنے والے زمانے میں اے آئی ہماری کتابوں کے مسودے تیار کرے، ہمارے مضامین کے خاکے بنائے، ہماری زبان درست کرے اور ہمارے خیالات کو ترتیب دے۔یہ سب خوش آئند بھی ہوسکتا ہے۔لیکن ہمیں ایک لکیر ضرور کھینچنی ہوگی۔اے آئی سے قلم کو مدد ملے، قلم اے آئی کے حوالے نہ ہو۔کیونکہ جب تک قلم ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم لکھنے والے ہیں۔
جس دن قلم بھی مشین کے ہاتھ میں چلا گیا، اس دن شاید ہمارے نام سے کتابیں تو شائع ہوتی رہیں گی، کالم بھی چھپتے رہیں گے، شعر بھی داد حاصل کرتے رہیں گے۔مگر ان سب کے پیچھے ایک سوال مسلسل ہمارا پیچھا کرے گا:”یہ لکھا کس نے ہے؟“اور شاید اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں اپنے دستخط سے زیادہ اپنی آواز کی ضرورت پڑے گی۔