پیپلزپارٹی کا اضطراب اور سونے کی چڑیا
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 05 / ستمبر / 2026
شیدا ریڑھی والا کبھی کبھی ملین ڈالر سوال کر دیتا ہے، جس کا جواب ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔اُس کی ریڑھی پر جانے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ کسی مشکل صورتِ حال کیلئے تیار رہو۔آج اس نے یہ پوچھ لیا کہ پاکستان کے سوا کسی اور ملک کے صدرِ مملکت بھی دو تین ہفتوں کیلئے ملک سے باہر قیام کرتے ہیں؟
مجھے پتہ تھا وہ صدر آصف علی زرداری کے لندن قیام اور اُس سے پہلے ویانا کے دورے کی بابت سوال کر رہا ہے۔میرے جواب کا انتظار کئے بغیر کہنے لگا اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی تین ہفتوں کے لئے امریکہ چھوڑ کر لندن آ بیٹھیں تو کیا امریکی نظام یا عوام برداشت کریں گے۔ میں نے کہا شیدے تم جانتے ہو، اوّل تو ہم امریکی نہیں پاکستانی ہیں اور پاکستان کے بارے میں ایک امریکی سینیٹر نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے،سو دنیا میں کوئی صدر باہر لمبے عرصے کیلئے قیام کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، پاکستان کا صدر کرتا ہے۔ پاکستان کا صدر ہی کیا،نواز شریف اپنے تیسرے دور میں وزیراعظم ہوتے ہوئے کئی کئی دن ملک سے باہر رہتے تھے اور پاکستانی نظام کی خوبی یہ ہے،ان کے بغیر بھی چلتا رہتا تھا۔
یہ سوال صرف شیدھے ریڑھی والے کے ذہن میں نہیں اُبھرا،اکثر لوگ یہی سوچتے اور پوچھتے ہیں کہ پاکستان جیسے غریب اور مقروض ملک کا صدر اگر سرکاری خرچ پر اپنے پورے سٹاف کے ساتھ لندن میں قیام پذیر ہو تو کیا یہ ملک کیلئے خوش آئند بات ہے؟ خیر اِس سوال کا جواب کون دے اور کہاں ملے، کوئی نہیں جانتا۔ قصے کہانیاں کچھ اور چل رہی ہیں اور ایک بار پھر لندن پلان کی خبریں زیرِ گردش ہیں،اِس بار پلان کیا بنتا ہے، کس کے خلاف بنتا ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہم پہلے ہی اُس لندن پلان کی وجہ سے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جو 2022میں رجیم چینج کا باعث بنا تھا۔ اِس بار معاملہ کچھ ٹیڑھا ہے۔سیاسی جماعتیں دباؤ میں ہیں اور انہیں شاید وہ کچھ کرنے کو کہا جا رہا ہے جو اُن کی ساری سیاسی بساط کو اُلٹا سکتا ہے۔ آصف علی زرداری خود تو لندن جا بیٹھے ہیں لیکن اُن کی پارٹی ایک خاص محاذ پر بہت متحرک ہو چکی ہے۔ سندھ میں جو کھلبلی مچی ہوئی ہے اُس سے صاف لگ رہا ہے پیپلزپارٹی کو سندھ میں نئے صوبے بننے کی فکر نے آ گھیرا ہے۔ صوبے تو پنجاب میں بھی بننے ہیں لیکن یہاں مسلم لیگ (ن) خاموش بیٹھی ہے، تیل دیکھوک تیل کی دھار دیکھو کے نظریے پر کار بند ہے۔پیپلزپارٹی نے سندھ میں ہلچل پیدا کر کے کوئی کام دکھا یا تو مسلم لیگ(ن) بھی پورے لنگر لنگوٹ کے ساتھ میدان میں آ جائے گی۔ اگر کہیں سے اسے سخت پیغام آ جاتا ہے تو مسلم لیگ(ن) بھی چپ سادھ کے بیٹھ جائے گی۔
فی الوقت تو ایسا لگ رہا ہے آصف علی زرداری نے لندن میں بیٹھ کے ایک غیر اعلانیہ تحریک کو لیڈ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فی الحال سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور پارٹی قیادت کو سندھ کی تقسیم کے خلاف پوری شدت سے آواز اٹھانے کا کہہ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مراد علی شاہ نے دو دن پہلے بڑا سخت پیغام دیا ہے کہ قومی اسمبلی سندھ کی تقسیم کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ یہ سندھ اسمبلی کا اختیار ہے اور سندھ کسی صورت کوئی نیا صوبہ نہیں بننے دے گا۔اُن کی اتنی دھواں دار تقریر کے بعد یہ تو واضح ہو چکا ہے،نئے صوبے اور کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کیلئے کہیں نہ کہیں دباؤ تو موجود ہے۔ اسی دباؤ سے بچنے کیلئے غالباً صدر آصف علی زرداری نے لندن میں قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے سندھ اسمبلی کے ارکان پر بھی اَن دیکھا دباؤ ہے یا اُن پر بالا بالا کام ہو رہا ہے۔ اس کا اندازہ فریال تالپور کی اُس تقریر سے ہوتا ہے جو انہوں نے اسمبلی میں کی۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی سے کہا وہ قیامت کے دن محترمہ بے نظیر بھٹو کو کیا منہ دکھائیں گے۔
یہ جذباتی کارڈ انہیں استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟پھر لوگ اس بات کا مضحکہ بھی اڑا رہے ہیں کہ روزِ قیامت تو اللہ کو منہ دکھانے سے ڈر لگتا ہے، یہ بے نظیر بھٹو کو منہ دکھانے کی بات کہاں سے آ گئی۔یوں لگتا ہے جیسے اندرونِ سندھ سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نئے صوبے کے حوالے سے دوسری طرف دیکھنے لگے ہیں۔ پھر کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے،اُس خواہش کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مگر قصور صرف ارکانِ اسمبلی کا کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ ترقی اگر نہیں ہوئی تو اس کی ذمہ دار سندھ حکومت اور براہِ راست وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ہیں، فریال تالپور انہیں کیوں نہیں کہتیں کہ وہ روزِ قیامت بے نظیر بھٹو کو کیا منہ دکھائیں گے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) یا پنجاب حکومت نئے صوبوں کے حوالے سے اتنی مضطرب اور متحرک نہیں جتنی پیپلزپارٹی نظر آتی ہے۔ بلکہ مسلم لیگ (ن) کے وزیر احسن اقبال تو حالیہ ایک تقریر میں یہ بھی کہہ چکے ہیں، ملک میں یکساں ترقی کے لئے کم از کم پندرہ صوبے بننے چاہئیں۔ اب دیکھنا یہ ہے اس حوالے سے ایک زرداری سب پر بھاری ثابت ہوتے ہیں یا پھر کوئی وعدے لے کر وہ بھی ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔جس دن وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریب میں نظام فیل ہونے کی بات ببانگ ِ دہل کی تھی،نقارہ اُسی دن بج گیا تھا۔ جنہوں نے یہ بات کہلوائی تھی انہوں نے طشت ازبام کر دی۔ یہ دراصل اُس منصوبے کی نقاب کشائی تھی جو مستقبل کے حوالے سے بنا لیا گیا ہے۔جب سیاسی قوتیں ہر وہ بات مانتی گئیں جو پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کاباعث بن رہی تھیں تو اب کیسے انکار کر سکتی ہیں۔
گیم بڑے دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اس میں عمران خان ایک ایسے کردار کے طور پر اُبھرے ہیں،جس کا کوئی شور شرابے والا کردار نہیں۔ البتہ اُس کا ڈراوا دے کر بات منوانے کی حکمت ِعملی جاری ہے۔ عمران خان کو عدالتوں سے تھوڑا بہت ریلیف بھی ملنے لگا ہے۔ یہ اقتدار موجودہ سیاسی جماعتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جب صرف اقتدار ترجیح ہو تو مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں۔ یہ آصف علی زرداری کی ایک بڑی کمزوری ہے کہ جب حالات اُن کے موافق نہیں ہوتے تو باہر ڈیرا جما لیتے ہیں، لیکن اس بار مقابلہ ذرا سخت ہے۔ مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں کا نعرہ شاید کارگر نہ ہو۔ کراچی صوبہ بن گیا تو سمجھو پیپلزپارٹی کے ہاتھ سے سونے کی چڑیا نکل گئی۔ اس چڑیا کو اُڑنے سے روکنا اب خاصا مشکل نظر آ رہا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)