صوبوں کی بحث : کھودا پہاڑ نکلا چوہا
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 05 / ستمبر / 2026
اسٹبلشمنٹ کی مرضی اور بادی النظر میں عسکری قیادت کی سرپرستی کی وجہ سے وفاقی حکومت کا حصہ بننے اور سینیٹر ’منتخب‘ ہونے والے محسن نقوی اب پاکستانی عوام کو ان کے حقوق اور سیاسی پارٹیوں کو گورننس یا اسے ری سیٹ کرنے کے معنی سکھانے پر مامور ہیں۔ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی کے بغیر ایک صحافی اور میڈیا ہاؤس کی ملکیت سے سیاسی عروج حاصل کرنے والا شخص اب ملک میں سیاسی مکالمہ اور عوامی ضرورتوں کے بارے میں لیکچر دے کر روزی کما رہا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ محسن نقوی نے آج لاہور کی ایک یونیورسٹی میں ’قومی پالیسی مکالمہ‘ کے موضوع پر مہمان خصوصی کے طور پر جو گفتگو کی ہے ، وہ درحقیقت ان کی گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ’معاشی سمٹ‘ کے موقع پر تقریر ہی کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔ کیوں کہ اس دوران ملک میں نئے صوبوں کے قیام پر میڈیا مباحث کا مرکز بنا رہا ہے اور سیاسی لیڈروں نے بالواسطہ طور سے اس پر رائے زنی کی ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی نے اس معاملہ پر ملک گیر مؤقف اختیار کرنے کی بجائے سندھ کی حد تک اپنی پوزیشن واضح کی ہے اور کہا ہے کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ گزشتہ روز سندھ اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعے سندھ کی تقسیم کی ہمہ قسم تجویز کو مسترد کیاتھا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صدر آصف زرداری نے اسی معاملہ پر اختلاف کی وجہ سے لندن جاکر ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ محسن نقوی نے البتہ اب یہ اعلان کیا ہے کہ صوبوں کے بارے میں جو فیصلہ بھی ہوگا ،وہ اتفاق رائے اور عوام کی مرضی سے ہی ہوگا۔ اس سلسلہ میں کوئی غیر آئینی فیصلہ ٹھونسا نہیں جاسکتا۔ جبکہ وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کا اصرار ہے کہ ’ نئے صوبوں کے معاملہ پر کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے‘۔
محسن نقوی نے ایک طرف نئے انتظامی یونٹوں کے سوال پر غور خوض اور سیاسی مکالمہ پر زور دیا اور ساتھ ہی موجودہ نظام میں ’ری سیٹ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب نظام کی تبدیلی نہیں ہے بلکہ اسے عوامی ضرورتوں کے مطابق بہتر بنانا ہے۔ موجودہ حکومت یہ مقصدس حاصل کرنے کے لیے اقدام کررہی ہے۔ اس طرح انہوں نے اپنے سابقہ بیان سے رجوع کا راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے جس میں انہوں نے نظام تباہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے، اس میں تبدیلی کو ناگزیر قرار دیا تھا۔ 30 جولائی کو اسلام آباد میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ کولیپس کر چکا ہے (ڈھے چکا ہے)۔ مسائل حل کرنے کے لیے پاکستان میں نئے صوبے بنانا ضروری ہے‘۔اس بیان کے اگلے ہی روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران ملک میں ’گڈ گورننس‘ کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور ہونا چاہیے‘۔ یکے بعد دیگرے ان بیانات کی وجہ سے یہ خبریں عام ہونے لگیں کہ اسٹبلشمنٹ نئے صوبے بنانے اور موجودہ حکومت سے جان چھڑانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔
ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ ایک ایسے وزیر داخلہ کو اس اہم کام پر ’ پیغام رسانی ‘ کے لیے کیوں منتخب کیا گیا ہے، جوخود اپنی وزارت کامیابی سے چلانے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں ۔لیکن گورننس کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے انہیں اپنی کارکردگی پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ اس سوال کا جواب بھی دینے پر آمادہ نہیں ہوتے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور انٹیلی جنس میں رابطہ کاری جیسے اہم معاملہ میں ناکامی کے الزامات کی موجودہ صورت حال میں وہ پوری توجہ اپنی وزارت پر مبذول کرنے کی بجائے بدستور کیوں کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چئیرمین بنے ہوئے ہیں ۔ قومی کرکٹ ٹیم کی ناکامیوں پر بھی کوئی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرنے والے محسن نقوی البتہ ملک بھر کی سیاسی پارٹیوں کو عوام کی ابتر حالت اور تبدیلی کی ضرورت پر مشورے دینے کی شدید ضرورت محسوس کرنے لگے ہیں۔ اسی لیے شاید ان کی باتوں کو عسکری قیادت کی طرف سے ملک میں انتظامی تبدیلیوں کے مختلف اشارے سمجھا جاتا ہے اور ان پر مباحث کا آغاز ہوجاتا ہے۔ ایسے ماحول میں حقیقت اور خبر سے زیادہ قیاس آرائیاں عام کی جاتی ہیں ۔ پھر محسن نقوی کوئی نیا پیغام لے کر میدان میں اترتے ہیں۔ جیسے انہوں نے آج بتایا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کے سوال پر کوئی جلدی نہیں ہے بلکہ اسے عوام کی ر ائے سے ہی حل کیا جائے گا۔ البتہ انہوں نے یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ عوامی رائے کیسے حاصل کی جائے گی؟ شاید مخصوص علاقوں میں ریفرنڈم کے ذریعے یہ معاملہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ بیک وقت پورے ملک کو بحران کا شکار نہ کیا جائے۔
مثال کے طور پرآج ہی انہوں نے اسلام آباد کو علیحدہ صوبہ بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز ان کے دل کے بے حد قریب ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اسلام آباد میں آباد لوگوں کو نہ تو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ ملتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے طریقے سے کوئی حکومت ان کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اب یہ ناانصافی ختم ہونی چاہئے۔ اسلام آباد میں 2023 کے اعداد شمار کے مطابق شہری و دیہی آبادی ملاکر 23 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ اب وزیر داخلہ ان لوگوں کا وکیل بن کر 25 کروڑ آبادی پر مشتمل چار صوبوں کے مالی وسائل میں حصہ داری کی تجویز دینے کے علاوہ شاید سینیٹ میں اضافی نشستوں کا مطالبہ سامنے لائے ہیں۔ البتہ یہ طریقہ کشمیر سے باہر آباد کشمیریوں کی نشستوں کی طرح متنازعہ اور غیر معقول ثابت ہوسکتا ہے ۔کیوں کہ اسلام آباد وفاقی انتظامی یونٹ کے طور پر براہ راست مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اب اس چھوٹی سی آبادی کو ملک کے چار صوبوں کے برابر حیثیت دے کر ایک نئی بحث اور تنازعہ کھڑا ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود ملکی سیاست میں تبدیلیوں کی قبل از وقت خبر دینے والے نامور صحافی نے اسلام آباد صوبے کی حمایت و ضرورت پر کالم باند ھ دیا۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ’اندر کی خبریں‘ کیسے اور کیوں کرعام ہوتی ہیں۔
اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی تجویز درحقیقت کراچی کو صوبہ بنانے کی طرف پیش قدمی ثابت ہوسکتی ہے۔ ایم کیو ایم اور وزیر صحت مصطفی کمال اس کے مؤثر وکیلوں کے طور پر سرگرم ہیں۔ جبکہ پیپلز پارٹی کراچی کو سندھ کا ’اٹوٹ انگ ‘ قرار دے کر اس کی تقسیم کے سوال پر شدید پریشانی کا اظہار کررہی ہے۔ محسن نقوی کی باتوں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اصل مقصد کسی بھی طرح این ایف سی کے وسائل میں صوبوں کا حصہ تقسیم کرنا اور وفاق کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے۔ شاید اسی مقصد کے لیے زیادہ انتظامی یونٹوں کی بحث کا آغاز ہؤا ہے کیوں کہ پیپلز پارٹی ہی اس سے پہلے اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وسائل کی تقسیم کے موجودہ طریقے کو تبدیل کرنے کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ البتہ بحث کو نہ تو مناسب فورم پر پیش کیاجارہا ہے اور نہ ہی نظام تباہ ہونے کے نام پر سیاسی بے یقینی پیدا کرنے کے درپردہ اصل عزائم کی رونمائی کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا ہر صحافی اپنی صوابدید کے مطابق کبھی شہباز شریف کو گھر بھیجتا ہے اور کبھی عمران خان سے ڈیل کی خبر سامنے لائی جاتی ہے۔ یہ بے یقینی پہلے سے سیاسی بحران کا شکار ملک کی بے چینی میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔
لاہور یونیورسٹی میں کی جانے والی تقریر میں محسن نقوی نے نظام ری سیٹ کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے، سامعین کو عوامی محرومیوں کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ آج بھی ہر دس میں سے چار بچے وہ تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ آج بھی ہماری آبادی کے صرف 55 فیصد حصے کو صاف پینے کا پانی دستیاب ہے۔جبکہ ہماری عدالتوں میں اب بھی 20 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں‘۔ اس کے ساتھ ہی ان کا دعویٰ تھا کہ ’نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، اب پیچھے نہیں ہٹوں گا، جو مرضی کر لیں ممدانی اور محمد صادق تو اب آئیں گے‘۔
ظہران ممدانی نیویارک کے مئیر منتخب ہوئے ہیں جبکہ صادق خان لندن کے مقبول مئیر ہیں۔ ان دو عوامی لیڈروں کا نام لیتے ہوئے محسن نقوی یہ سمجھنا یا سمجھانا بھول گئے کہ عوام کی خواہش کے مطابق لیڈروں کی جگہ تب ہی بن سکے گی جب حیلوں وسیلوں سے ان کی طرح وزیر اور سینیٹر بننے والے پیچھے ہٹیں گے۔ اور ناجائز طریقوں سے اقتدار اور عوامی نمائیندگی کے طریقے اختیار کرنے سے گریز کیا جائے گا۔