جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 06 / ستمبر / 2026
پاکستان نے آج ’یوم دفاع ‘ قومی جذبے سے منایا۔ صدر و وزیر اعظم کے علاوہ متعدد لیڈروں نے قومی ولولے اور عزم سے بھرپور طویل بیانات جاری کیے اور مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اہم شہروں میں توپوں کی سلامی سے دن کا آغاز ہؤا اور ٹیلی ویژن پر خصوصی پروگرام بھی نشر ہوئے۔ تاہم اس سال یہ دن منانے میں پہلے جیسا جوش و خروش اور عوامی شرکت دیکھنے میں نہیں آئی۔
اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عسکری فتحیابی کے لیے 1965 میں ہونے والی جنگ کی بجائے گزشتہ سال بھارتی حملے کی یاد میں 10 مئی کو ’یوم معرکہ حق‘ منانے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ گزشتہ سال بھارتی جارحیت کا کامیابی سے دفاع کرنے پر اس سال مئی میں اس دن کو زیادہ شان و شوکت و تمکنت سے منایا گیا تھا۔ تاہم ابھی تک ساٹھ سال پہلے لڑی جانے والی جنگ کی یاد میں یوم دفاع منانے کی روایت ختم نہیں کی گئی ۔ دوسرے معرکوں کی طرح ستمبر 1965 کی جنگ کے بارے میں بھی پاکستان و بھارت یک طرفہ کامیابی کے دعوے کرتے ہیں۔ البتہ بھارت دسمبر 1971 میں ڈھاکہ میں پاکستانی افواج کے ہتھیار ڈالنے کے موقع کو ایک قومی یادگار کے طور پر یاد کرتا ہے۔ پاکستان میں اس روز ملک ٹوٹنے اور نئے پاکستان کے قیام پر بات کی جاتی ہے۔
یوم دفاع کے موقع پراس سال بھی صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیانات میں ملکی دفاع کے لئے پاک فوج کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بیانات جاری کیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر دونوں ملکوں کے تنازعات حل نہیں کیے جاسکتے۔ اگرچہ صدر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ پاکستان خطے اور دنیا بھر میں امن، مکالمے اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ اور خطے میں امن و سلامتی کے استحکام کے مؤثر و ذمہ دار ستون کے طور پر ابھرا ہے۔ مکہ معاہدہ پاکستان کے اجتماعی سلامتی اور علاقائی امن میں بڑھتے ہوئے کردار کا مظہر ہے‘۔ اسی طرح وزیر اعظم کے بیان میں اگرچہ پاکستانی فوج کی کامیابیوں کا احاطہ کیا گیا ہے اور ملکی دفاع پر زور دیا گیا ہے لیکن یہ اعتراف بھی موجود ہے کہ ’ آج پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج جہالت، غربت اور پسماندگی کا خاتمہ ہے۔ پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کے ویژن کے مطابق ڈھالنا ہے جبکہ حقیقی طاقت متحد، پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط قوم میں مضمر ہے‘۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ملکی سلامتی، خودمختاری اور دفاع مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔جبکہ معاشی ترقی، سیاسی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیحات ہیں۔
ان عزائم کے اظہار کے باوجود ملکی قیادت ایک بنیادی نکتہ فراموش کرتی ہے کہ ملک میں معاشی ترقی کے لیے جنگ اور عسکری طاقت پر توجہ مرکوز کرنے یا اسے قومی سطح پر اہم ترین پہلو کے طور پر پیش کرنے سے خوشحالی اور عوامی بہبود کے بیشتر منصوبے نظر انداز ہوتے ہیں۔ کسی کو اس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ ملکی دفاع کو مضبوط رکھا جائے۔ اسی طرح حکومت پاکستان کی طرف سے علاقائی تعاون اور دوست ممالک کے ساتھ عسکری معاہدوں کے ذریعے پائیدار امن کے لیے کوششیں بھی قابل تحسین ہیں۔ لیکن جنگوں میں کامیابی یا سرخروئی کی یاد کے طور پر دن منانا اور عسکری قوت کو گلوری فائی کرنے کا طریقہ امن اور معاشی بحالی کے امور کو نظر انداز کرنے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بعد ایک محفوظ ملک بن چکا ہے۔ اب بھارت تو کیا دنیا کا کوئی بھی ملک کبھی پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ اسی لیے ایٹم بم کو ’ڈیٹرنٹ‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ پاکستان تو اپنے جوہری منصوبہ کو خاص طور سے برصغیر میں پائیدار امن کے لیے اہم ترین پروجیکٹ کے طور پر پیش بھی کرتا ہے۔ اس لیے ایسا مؤثر ڈیٹرنٹ تیار کرنے کے بعد پاکستان کو دفاع کے شعبہ کو ہی تما تر توجہ کا مرکز نہیں بنانا چاہئے۔
سادہ لفظوں میں یہ بات یوں کی جاسکتی ہے کہ جنگ کی بجائے امن کی بات کی جائے۔ عسکری کامیابی کی خواہش کرنے یا دعوے کرنے کی بجائے امن قائم کرنے اور عوام کے لیے سہولتوں میں اضافہ کو موضوع بحث بنایا جائے۔ عوام کو محسوس کرایا جائے کہ ان کی بہبود اور ملکی امن پاکستانی حکمرانوں کی اولین ترجیح ہے۔ جنگ سے امن کی طرف فوکس میں تبدیلی سے نام نہاد دشمن ہمسایہ ملک کو بھی یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان کے عزائم جارحانہ نہیں ہیں اور وہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ تصادم کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کے ساتھ ہی عسکری مکالمے کو سفارتی مواصلت میں تبدیل کرکے مسائل حل کرنے کا کوئی مناسب اور قابل قبول حل تلاش کرنا اہم ہوگا۔ اس کے بغیر بے یقینی کی کیفیت موجود رہے گی اور امن و خوشحالی کا مقصد بھی حاصل نہیں ہوگا۔ امن کے لیے سب سے پہلے جنگ جوئی کا طرز عمل ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ہمسایہ ملک سے آنے والے سیاسی بیانات کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان اپنے طور پر اگر جنگ سے امن کی طرف شفٹ کا پیغام دے تو بھارت میں رائے عامہ ازخود پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے ہموار ہونا شروع ہوجائے گی۔
صدر ور وزیر اعظم نے خاص طور سے مسئلہ کشمیر کے حل کو بھارت کے ساتھ تنازعات ختم ہونے یا امن سے مشروط کیا ہے۔ اسے حالات کی ستم ظریفی ہی کہنا چاہئے کہ کشمیر کا مسئلہ اب دیگر اہم مسائل کے سامنے کم اہم ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کی فوری اور اشتعال انگیز صورت حال بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور پاکستان کے لیے دریاؤں کےپانی کے حصول میں مشکلات پیدا کرنے کا رویہ ہے۔ بھارت اگر اس معاملہ پر کوئی ایسا قدم اٹھانے کی غلطی کرتا ہے کہ پاکستان کا پانی حقیقی معنوں میں بند ہوجائے تو زندگی بحال رکھنے اور پاکستانی عوام کو خوراک اور بنیادی سہولت کی فراہمی کے لیے پاکستان کو بھارت کے ساتھ محاذ کھولنا پڑے گا۔ یہ جنگ نہ چاہنے کے باوجود مجبوری بن جائے گی۔ کوئی بھی ملک اپنے علاقے کو ویران اور قحط زدہ ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اس صورت حال میں بدستور کشمیر کے مسئلہ کو تنازعہ کی بنیاد قرار دینا سطحی سیاسی طرز عمل ہےجسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
کشمیر کی موجودہ صورت حال تبدیل ہونے یا کشمیر کے دو حصوں کے درمیان قائم جنگ بندی لائن ختم ہونے کا امکان موجود نہیں ہے۔ پاکستان ضرور اس سوال پر اصولی مؤقف پر قائم رہ سکتا ہے لیکن حقائق کے تناظر میں اسے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنی ترجیحات تبدیل کرنی چاہئیں۔ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے اہم مسئلہ کشمیر کی بجائے پانی کی تقسیم کا سوال ہے۔ ابھی تک دونوں ممالک اسے نظر انداز کرکے سیاسی بیان بازی سے کام چلانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن آبادی میں اضافے اور روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتے ہوئے موسمی حالات کی وجہ سے یہ صورت حال زیادہ مدت تک جاری نہیں رہ سکے گی۔
پاکستان کے لیے ملک میں امن کو فوکس کرنے اور عوامی ضرورتوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ مکالمہ کے لیے مؤثر اور مسلسل کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد اگر امن کے اشارے دے گا اور روائیتی بیانات کو تبدیل کیا جائے گا تو مصالحت و مواصلت کا راستہ کھلنے کی امید پیدا ہوسکے گی۔ اس حوالے سے پہلا قدم جنگوں کے یادگاری دن منانے کی روایت ختم کرنے کی صورت میں اٹھایا جاسکتا ہے۔