یوم دفاع: ہمارے غیر مسلم جنگی ہیرو

کیپٹن راجا سرور شہید کو تو ہم سب جانتے ہوں گے جو تل پترا کی پہاڑی فتح کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے اور انہیں پاکستان کا پہلا نشانِ حیدر ملا تھا۔ لیکن کیا آپ اور میں وہیں پانڈو کی اسی چوٹی پر کیپٹن کے ساتھ ہی وطن پر جان قربان کرنے والے لانس نائیک یعقوب مسیح کو بھی جانتے ہیں؟

ان کے جسم میں درجنوں گولیاں پیوست ہو چکی تھیں، بازو کہنی سے ٹوٹ چکا تھا، پیٹ گھائل تھا اور سینہ چھلنی تھا لیکن انہوں نے ہاتھ میں جس سبز ہلالی پرچم کو تھاما ہوا تھا، اسے گرنے نہیں دیا اور فتح کے اعلان کے طور پر اسے پانڈو ٹاپ پر لہرا کر اس کے سائے میں وطن پر قربان ہوگئے۔ ایم ایم عالم بھی یقیناً کسی تعارف کے محتاج نہیں، سب کے ہیرو ہیں، اور ہم سرگودھا والوں کا معاملہ تو الگ ہی ہے کہ ہمیں ماؤں نے لوریوں میں ایم ایم عالم کے قصے سنا رکھے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو ونگ کمانڈر مارون لیزلے مڈل کوٹ جیسے قومی ہیرو کو جانتے ہیں؟ ونگ کمانڈر مارون لیزلے مڈل کوٹ 65 کی جنگ میں فلائٹ لیفٹیننٹ کے طور پر کراچی میں تعینات تھے۔ دشمن نے کراچی پر حملہ کیا تو انہوں نے بھارت کے 2 جہاز مار گرائے۔ جیسے ایم ایم عالم نے سرگودھا کی فضاؤں کو دشمن سے محفوظ رکھا تھا، ویسے ہی کمانڈر مڈل کوٹ کو کراچی کے شہریوں نے ’کراچی کا محافظ‘ قرار دیا، انہیں دو مرتبہ ستارہ جرات عطا کیا گیا۔

پھر 1971 کی جنگ آگئی۔ کمانڈر مڈل کوٹ ایک ہی دن پہلے اردن سے پاکستان لوٹے تھے، تھکاوٹ بھی نہی اتری ہوگی کہ ایک مشن آن پڑا۔ کمانڈر مڈل کوٹ نے خود کو پیش کردیا، کامیاب حملے کے بعد واپسی پر بھارت کے مگ طیاروں نے ان پر حملہ کردیا، ان پر میزائل فائر ہوئے، ایک میزائل جہاز کو آ لگا۔ انہوں نے پیرا شوٹ سے جمپ کیا۔ تب سے اب تک ان کی کوئی خبر نہیں۔ مڈل کوٹ ان پائلٹس میں سے تھے جنہوں نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔ یہ کہانی اس کالم میں بیان کرنا ممکن نہیں، بس اتنا جان لیجیے کہ اردن کے شاہ حسین مڈل کوٹ کے بہت بڑے مداح تھے۔ اتنے بڑے مداح کہ شاہ حسین نے پاکستان سے باقاعدہ درخواست کی تھی کہ کمانڈر مڈل کوٹ کے جسد خاکی کو تو آپ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کریں گے لیکن ہماری درخواست ہے کمانڈر کے سر کے نیچے اردن کا قومی پرچم بھی رکھ دیجیے۔ یہ ایک عظیم کمانڈر کو ہمارا خراج عقیدت ہوگا۔ لیکن شاہ حسین کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی کیوں کہ کمانڈرمڈل کوٹ کا جسد خاکی کبھی مل ہی نہ سکا۔

تو کیا آپ سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی کو جانتے ہیں؟ اپنے دل کو بھی ٹٹول کر دیکھ لیجیے اور دائیں بائیں اہل خانہ اور دوست احباب سے بھی پوچھ کر دیکھیے کہ پیٹر کرسٹی کون تھے؟ آج ہماری اکثریت پیٹر کرسٹی سے بھی بے خبر ہوگی، حالانکہ وہ بھی ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ وہ 1965 کی جنگ میں شریک رہے۔ جب 1971 کی جنگ شروع ہوئی تو پیٹر کرسٹی ڈیپوٹیشن پر پی آئی اے میں کام کر رہے تھے، چھوڑ کر واپس آگئے۔ کراچی کے بیس کمانڈر ایئر کموڈور نذیر لطیف بھی مسیحی تھے۔ انہوں نے کہا دشمن کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جام نگر ایئرپورٹ کو تباہ کردیا جائے لیکن جس نے جانا ہے اس نے واپس نہیں آنا، اس مشن میں واپسی نہیں ہے۔ پوچھا گیا کون جائے گا؟ پیٹر کرسٹی نے کہا اس دن کا تو انتظار تھا، میں جاؤں گا۔ پیٹر کرسٹی گئے اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے۔ وطن کا ایک اور بیٹا وطن پر قربان ہوگیا۔

تو کیا آپ اور میں جانتے ہیں کہ کیپٹن میخائل ولسن اورسیکنڈ لیفٹیننٹ دانیال کون تھے؟ یقیناً نہیں جانتے۔ 13 دسمبر کی صبح ایک مشن سے واپس لوٹ کر ناشتہ کررہے تھے کہ خبر ملی 31 پنجاب کی پلٹون پر حملہ ہوگیا ہے۔ دانیال نے ناشتہ بیچ میں چھوڑ دیا اور دشمن کے گھیرے میں آئے ساتھیوں کو بچانے نکلے اور برسٹ سینے میں ترازو ہوگیا۔ وطن پر قربان ہونے سے پہلے، آپریشن کی میز پر آخری پیغام کیا چھوڑا: میرے سینے سے نکالی گئی گولیاں میری ماں کو پہنچا دینا۔ کیپٹن میخائل ولسن 1971 میں چھمب سیکٹر میں تعینات تھے۔ زخموں سے بدن چور تھا لیکن کپتان کو اپنی نہیں، مرتے وقت بھی اپنے ملک کی فکر تھی۔

وطن عزیز پر قربان ہونے والے غیر مسلم سپوتوں کی شجاعت اور قربانیوں کی ایک لمبی داستاں ہے۔ کیسے کیسے جواں مرد اس وطن پر قربان ہوئے لیکن ہم نہیں جانتے۔ ایک پاکستانی کے طور پر میری ہتھیلی پر انگارے کی صورت یہ سوال رکھا ہے کہ ہم کیوں نہیں جانتے؟ ہمارے نصابوں میں ان کا ذکر کیوں نہیں۔ ہمارے لکھنے والوں نے ان کی کہانیاں ہم تک کیوں نہیں پہنچائیں۔ کچھ وہ تھے جو وطن پر قربان ہوگئے اور کچھ وہ تھے جو زندہ رہے اور اپنے کارناموں کی صورت جگمگاتے اور دمکتے رہے۔ سیسل چوہدری تھے، ایئر وائس مارشل ایرک جی ہال تھے، ایک موقع پر جہاز کم پڑ گئے تو انہوں نے یہ حیران کن حکم دیا کہ سی ون تھرٹی کو بمبار طیارے کے طور پر استعمال کیا جائے، اور صرف حکم نہیں دیا بمباری کرنے بھی خود گئے کیونکہ سی ون تھرٹی اس کام کے لیے نہیں بنا تھا اور یہ مشن بہت خطرناک تھا۔ کسی اور کی جان خطرے میں نہیں ڈالی۔ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر خود گئے اور کامیاب لوٹے۔

لمبی فہرسست ہے، کالم میں کتنا لکھا جائے؟ موتیوں کی ایک مالا پروئی ہوئی ہے۔ کس کس کا تذکرہ کیا جائے۔ ایک خلش مگر تیر کی صورت دل میں ترازو ہے کہ اپنے ان ہیروز کے بارے میں ہم سے جانے انجانے میں کہیں کوئی بڑی کوتاہی ہوگئی ہے۔

(بشکریہ: وی نیوز)