حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے اقتصادی اور عسکری اہداف پر درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے ہیں۔ اعلان کے مطابق یہ حملے یمن پر سعودی حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’یمنی مسلح افواج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والی ایک بڑے پیمانے کی عسکری کارروائی انجام دی، جس میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔‘ یہ حملے سعودی عرب کے مختلف اقتصادی اور فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے اور ان کا مقصد حالیہ سعودی حملوں کا جواب دینا تھا۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے ان دعوؤں یا حملوں کی تفصیلات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کی صبح آگاہ کیا گیا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں ابہا، خمیس، مشیط، جیزان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 سعودی شہری زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل یمن میں ایران نواز حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ شب سعودی عرب نے صوبہ الجوف کے شہر الحزم میں ایک جیل پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ حوثیوں کے ترجمان ذرائع ابلاغ ’المسیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے شہر الحزم کی جیل ’سینٹرل کریکشنل فیسلٹی‘ کی تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے ایک خاتون سمیت 11 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں، جبکہ مزید 20 افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
حوثی فوج کے ترجمان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کے چار جاسوس ڈرون مار گرائے ہیں، جن میں ایک سی ایچ-4 ڈرون بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔