پیرس میں ہندو مذہبی گروہ کے ایفل ٹاور کے دورے پر تنازع

  • منگل 08 / ستمبر / 2026

فرانس میں ہندو مذہبی گروہ کے ایک وفد کے ایفل ٹاور کے دورے کے بعد ایک تنازع کھڑا ہوا ہے اور ملک میں صنفی مساوات سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایفل ٹاور پر کام کرنے والے ملازمین کی ہڑتال کے باعث اسے پیر کے روز بند کیا گیا ہے۔

ملازمین اور انتظامیہ کے مطابق جب ہندو مذہبی وفد نے ایفل ٹاور کا دورہ کیا تو اس دوران خواتین ملازمین کو ان کی کام کی جگہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ہندو مذہبی تنظیم بوچاسانواسی اکشر پروشوتم سوامی نارائن سنستھا (بی اے پی ایس) سے وابستہ تقریباً 100 افراد پر مشتمل ایک وفد نے ہفتہ کے روز فرانس کے دار الحکومت پیرس میں اس معروف مقام کا دورہ کیا تھا۔

ملازمین کی یونین کی نمائندہ ڈایان ڈاووئن نے بتایا کہ وفد کی آمد پر خواتین سے کہا گیا کہ وہ وہاں سے ہٹ جائیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’اس وفد کے دورے کے دوران خواتین سے کہا گیا کہ وہ اپنی کام کی جگہ چھوڑ دیں تاکہ وہاں مرد ملازمین کو تعینات کیا جا سکے۔‘

ڈاووئن نے یہ بھی کہا کہ بعد میں انتظامیہ نے اس واقعے پر ملازمین سے معذرت کی۔ ادھر بی اے پی ایس کا کہنا ہے کہ ان کا دورہ ٹاور کی انتظامیہ کے ساتھ پہلے سے طے شدہ تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی شخص کو رسائی سے محروم نہیں کیا گیا۔ تاہم گروہ نے اُن تمام افراد سے معذرت کی ہے جنہیں ’دکھ پہنچا یا کسی قسم کی زحمت اٹھانا پڑی۔‘

ڈاووئن نے کہا کہ ’اس سے ملازمین، خاص طور پر خواتین، کو بہت بُرا لگا۔ جو کچھ ہوا اور جس طرح بعض خواتین کے ساتھ برتاؤ کیا گیا، اس سے انہیں تحقیر کا احساس ہوا‘۔ ہفتے کے اختتام پر کشیدگی بڑھتی رہی۔ اسی لیے منگل کی صبح ملازمین نے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلا مقصد انتظامیہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنا تھا اور دوسرا یہ یقینی بنانا تھا کہ آئندہ کمپنی میں خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ ہو۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرس میں اس یادگار کی نگرانی کرنے والی کمپنی ایس ای ٹی ای نے اس بات کی تصدیق کی کہ وفد نے درخواست کی تھی کہ دورے کا انتظام اس طرح کیا جائے کہ خواتین کے ساتھ رابطہ کم سے کم ہو۔ کمپنی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ شرائط ’ایس ای ٹی ای کی اقدار اور مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کے اصولوں کے مطابق نہیں تھیں۔‘ ایس ای ٹی ای کے صدر ایریل ویل نے کہا ہے کہ ’یہ واضح طور پر ناقابل قبول طرزِ عمل ہے۔ میں ایفل ٹاور کی جمہوری اقدار اور مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات سے وابستگی کا اعادہ کرتا ہوں۔‘

بی اے پی ایس نے اتوار کو پیرس میں اپنے پہلے بڑے مندر کے لیے ایک تقریب منعقد کی تھی۔

پیرس میں قائم بی اے پی ایس مندر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ایفل ٹاور انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کر کے طے کیا تھا کہ دورہ ٹاور کے کھلنے کے وقت ہو گا تاکہ دیگر افراد کو کسی قسم کی دشواری یا زحمت نہ ہو۔ مندر نے اس سے پیدا ہونے والی کسی بھی پریشانی پر معذرت کی اور کہا کہ ’ہم باہمی احترام اور خدمت کی آفاقی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔‘

بی اے پی ایس اپنی ویب سائٹ پر خود کو ایک روحانی اور رضاکاروں کے ذریعے چلنے والی تنظیم قرار دیتی ہے جو ہندو اقدار کے ذریعے معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرتی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں اس کے مندر موجود ہیں، جن میں لندن، لاس اینجلس اور سڈنی شامل ہیں۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ متعدد صارفین اور سیاسی شخصیات خواتین ملازمین کو ہٹانے کی اطلاعات پر تنقید کر رہی ہیں اور اسے صنفی مساوات اور خواتین کی آزادی سے متعلق اقدار کے منافی قرار دے رہی ہیں۔