نظام نہیں نیت درست کرنے کی ضرورت
- تحریر نسیم شاہد
- منگل 08 / ستمبر / 2026
اس وقت فضا میں اتنی آوازیں ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ صوبے، یونٹس، نیا ڈھانچہ، نئی بیورو کریسی، نظام، انتظام اور نجانے کیا کیا کچھ، پتہ نہیں اس ملک میں کیا کیا تجربات ہونے ہیں۔ ایک وہ تجربہ نہیں ہو رہا، جس کا عوام انتظار کر رہے ہیں کہ پاکستان کو بھی دنیا کے ترقی یافتہ، منظم اور خوشحال ممالک جیسا ملک بنا دو۔
ستتر سال کا عرصہ کچھ کم نہیں ہوتا۔ ہمارے بعد بننے والے ممالک بھی کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے قیام کے بعد ایک نظام بنایا اور پھر اس پر کاربند ہو گئے۔ یہاں ایک عرصے تک توآئین نہیں بن سکا، کبھی بنا اور کبھی بگڑ گیا۔پھر 1973 میں جو آئین بنا ہم نے اسے بھی متفقہ نہیں رہنے دیا۔27 ترامیم کے باوجود ہماری تسکین نہیں ہو رہی نہ ہی یہ ملک چل رہا ہے۔ اب نئے تجربات کی بازگشت ہے، ایک ایسا شور ہے جس میں کہیں نہیں لگتا کہ کوئی ڈھنگ کا راستہ نکل آئے گا کیونکہ اس وقت اس مسئلے پر کوئی اتفاق نظر نہیں آ رہا۔ بھانت بھانت کے مشورے اور دعوے کئے جا رہے ہیں۔اگر اس وقت بھی ہمارے رہنما، جماعتیں اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں آئیں گی تو کب آئیں گی؟
اگر اتفاقِ رائے سے تبدیلیاں نہیں ہوتیں تو ایک نئے انتظار کی زد میں آ جائیں گے، پھر اس انتشار کو ختم کرنے کے لئے نئی ترامیم اور نئی راہیں نکالنا پڑیں گی۔ اگر صوبے بنانے ہیں تو بیٹھ جائیں فیصلہ کریں، نہیں بنانے تو بھی بیٹھنا پڑے گا۔ یہ داؤ پیچ کا انداز ایک دوسرے کو گرانے، مات دینے کی صورت تو ایک ایسی ہلچل بن گئی ہے جو نہ صرف استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ عوام کو بھی ایک ایسی کیفیت میں پہنچا چکی ہے جو بے یقینی سے عبارت ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے نظام آپ کوئی سا بھی لے آئیں۔ جب تک آپ کی نیت ٹھیک نہیں، تبدیلی نہیں آ سکتی۔ ایک صوبہ اگر بڑا ہے تو کیا ہوا، جب ون یونٹ تھا تب بھی تو پاکستان چل رہا تھا۔ سوال تو یہ ہے کہ بڑے صوبے کو کیا آئین و قانون کے مطابق چلایا جا رہا ہے؟ وہی صوبہ اگر چھوٹا ہو جائے گا، کئی صوبوں میں بدل جائے گا تو نیت پھر بھی ٹھیک نہیں ہو گی تو قانون کی بے بسی، نظام کی بے توقیری اور عوام و خواص کے درمیان تفریق تو پھر بھی برقرار رہے گی۔ اس ساری مشق سے کیا حاصل وصول ہو گا، الٹا اخراجات بڑھ جائیں گے۔ ایک صوبے کی بیورو کریسی یا عوامی نمائندے سنبھالے نہیں جاتے، زیادہ صوبوں کے گورنرز، وزرائے اعلیٰ، بیورو کریٹس کے ناز نخروں کے لئے وسائل کہاں سے آئیں گے؟ عوام کی حالت تو وہی رہے گی جو اب ہے۔ ٹھیک کرنا چاہیں تو سب کچھ اب بھی ٹھیک ہو سکتا ہے، مگر کون چاہتا ہے اس کی زندگی میں جو بہار آئی ہوئی ہے اس میں کمی آئے۔
اگر واقعی یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ نظام بیٹھ چکا ہے اور چل نہیں رہا تو پھر اسے واقعی تسلیم کریں۔ ایسا نہ کریں کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر بن جائے۔ پہلے تو نیک نیتی اور کھلے دل سے اس بات کا جائزہ لیا جانا چاہئے کہ نظام بیٹھ گیا ہے، اسے چلنے ہی نہیں دیا گیا۔ یہ بیورو کریسی ناکام کیوں ہوئی ہے؟ اس کا جائزہ کس نے لیا، عدلیہ کیوں ڈیلیور نہیں کر سکتی اور دنیا میں 129ویں نمبر پر آ گئی، کبھی اس کا کھلے دل سے تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی؟ یہ اسمبلیاں جنہیں ہم متفقہ کہتے ہیں خود کو کیوں نہیں منوا سکیں اور ان پر اکثر ربڑ سٹیمپ کا گمان کیوں ہوتا رہا؟ اس کا مطالعہ کیا گیا کہ یہ ادارے جو آئین کے تحت ایک خاص حدود میں رہنے کے پابند ہیں، حدود سے باہر نکل کر کیسے کھیلتے رہے، اس پر کبھی بحث ہوئی؟
صوبوں کے حقوق کا بہت واویلا کیا جاتا ہے، کبھی سنجیدگی سے اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کون سے حقوق ہیں جو صوبوں کو نہیں ملے پھر یہ بھی اہم نکتہ ہے کہ صوبے اپنے حقوق کی بات تو کرتے ہیں کبھی انہوں نے صوبے کے اندر عوام اور علاقوں کو یکساں حقوق دیئے؟ یہ این ایف سی ایوارڈ جس کا ہمیشہ صوبے شور مچاتے ہیں کبھی صوبوں کے اندر آبادی کے تناسب سے خرچ ہوا، نہیں ہوا۔ پنجاب کی مثال ہی لے لیں، لاہور اور اپر پنجاب پر اگر 70فیصد خرچ ہوتا ہے تو باقی پنجاب پر تیس فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔ اس پر بھی تو کوئی محاسبہ کوئی مباحثہ ہونا چاہئے۔ نظام فیل نہیں ہوا ، اسے تو فیل کیا گیا ہے۔اس کے بعد آپ کوئی بھی نیا نظام لے آئیں گے تو کیا ضمانت ہے کہ اسے سیدھی طرح چلنے دیا جائے گا۔ جب عقل عیار ہو تو سو بھیس بنا لیتی ہے۔ جب ملک یا صوبے کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کی راہیں نکالنی ہوں تو ایسا ہی ہوتا ہے، جیسے اب ہو رہا ہے۔
25کروڑعوام اس ملک کے حقیقی مالک ہیں، مگر ان کا حال مہاجرین جیسا کیا ہوا ہے۔ ان کے سامنے حقیقت کہی ہی نہیں جاتی،رائے لینا تو دور کی بات ہے۔ انصاف تو یہ ہے کہ جو بھی کرنا چاہتے ہیں اس کا سارا خاکہ عوام کے سامنے رکھیں، ان سے رائے لیں، بحث و مباحثہ، سیمینار کرائیں، ان سیمینار میں اپنی پسند کے لوگوں کو شامل نہ کریں بلکہ معاشرے کے صاحب الرائے افراد کو ساتھ ملائیں۔ اگر نیت واقعی اس ملک کے نظام کو درست کرنے کی ہے تو پھر سب کچھ ظاہر ہونا چاہئے۔ حالات تو یہ ہیں کہ اسمبلی میں پلک جھپکتے ہی ترامیم منظور ہو جاتی ہیں اور اسمبلی کے ارکان تک کو ان کے نفسِ مضمون کی خبر نہیں ہوتی۔ یہ آنکھ مچولی کیوں؟
ملک سب کا ہے تو سب کو پتہ بھی ہونا چاہئے کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، صرف یہ شور مچا دینے سے کہ نئے صوبے ہی مسائل کا حل ہیں، حقائق سے نظریں چرانے والی بات ہے۔ ان خرابیوں کا جب تک تدارک نہیں ہوتا جو ہمارے نظام میں درآئی ہیں، اس وقت تک تبدیلی کیسے آ سکتی ہے؟ صرف لیپا پوتی کے ذریعے نظام کو درست کرنے کا سوانگ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے مترادف ہے، جس پر اب کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)