چہرے نہیں حقیقی نظام بدلو

ہم عرصۂ دراز سے یہ نعرہ سنتے آ رہے ہیں کہ "چہرے نہیں، نظام بدلو"، لیکن آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس نعرے کا مخاطب کون ہے؟ نظام کس نے بدلنا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نظام ہوتا کیا ہے؟

شاید جماعت اسلامی والے جانتے ہوں کہ نظام کون بدل سکتا ہے، کیونکہ وہی سب سے زیادہ یہ نعرہ لگاتے ہیں۔ وہ نظام بدلنے والوں کے ساتھ رابطے میں بھی رہتے ہیں۔ کبھی احتجاج کرتے ہیں، ہڑتالیں کرواتے ہیں اور پھر بڑی شرافت اور خاموشی سے واپس چلے جاتے ہیں۔ بقول ہمارے محترم بھائی وجاہت مسعود صاحب، ’جماعت اسلامی چوروں کا تعاقب کرنے والی وہ لالٹین ہے جو عین وقت پر بجھ جاتی ہے‘۔ جماعت اسلامی کا نام تو ہم نے محض مثال کے طور پر  لے لیا، ورنہ اس ملک کا تقریباً ہر شخص نظام بدلنا چاہتا ہے۔

ملک کے طاقتور وزیر داخلہ بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔ بلکہ اب تو وہ یہاں تک فرما چکے ہیں کہ "میں عہدے پر رہوں یا نہ رہوں، نظام بدل کر ہی رہوں گا، مگر سوال پھر وہی ہے کہ نظام بدلنا، یا نیا نظام بنانا، کس کا کام ہے؟ آج کل میڈیا پر نظام بدلنے، نئے صوبے بنانے اور نئے انتظامی یونٹ تشکیل دینے کی جو زور و شور سے مہم چل رہی ہے، یہ کہاں سے شروع ہوئی ہے؟ کسی ایوان میں تو ایسی کوئی تحریک پیش نہیں ہوئی، نہ اس پر کوئی سنجیدہ بحث ہوئی اور نہ ہی کوئی قومی مکالمہ سامنے آیا۔ اگر اس ملک میں واقعی کوئی نظام موجود ہے اور وہ ناکارہ ہو چکا ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ نظام کس نے بنایا تھا؟ اور اب نیا نظام کون بنائے گا؟

کیا میڈیا کو بھی اچانک معلوم ہوا ہے کہ ملک کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے، اس لیے اب صوبوں کو نئی شکل دینا اور نیا نظام لانا ناگزیر ہو گیا ہے؟ ذرا دنیا کے دوسرے، بالخصوص ترقی یافتہ اور مہذب ممالک کی طرف بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہاں کون کون سے نظام رائج ہیں، یہ نظام کیسے وجود میں آئے اور انہیں کس نے بنایا؟ نظام کوئی پرزہ تو نہیں کہ کسی کاریگر سے بنوا لیا جائے، نہ ہی یہ کسی ایک حکم سے وجود میں آتا ہے کہ کسی سول یا فوجی افسر سے جاری کروا لیا جائے۔

کسی بھی ملک کا نظام اس ملک کے عوام بناتے ہیں۔ عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں اور انہی نمائندوں کو نظام سازی کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ عوامی نمائندے مختلف علاقوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں، اس لیے وہ اپنے اپنے علاقوں کے مسائل سے واقف ہوتے ہیں۔ وہ انہی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے قانون سازی، بحث اور مکالمے میں حصہ لیتے اور اپنی رائے دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اقتدار بدلتا رہا، حکومتیں مختلف جماعتوں کو ملتی رہیں، مگر لوگ وہی رہے اور کوئی واضح اور متفقہ نظام نہ بن سکا، ہمارے ملک میں نہ کوئی واضح نظام دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی عام آدمی کو یہ معلوم ہے کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے۔

پارلیمنٹ اور سینیٹ اکثر عضوِ معطل کی طرح دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب کبھی کسی کو ایکسٹینشن دینی ہو تو پھر "نہ کوئی بندہ رہتا ہے، نہ بندہ نواز" سب ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر کبھی کسی ریمنڈ ڈیوس جیسے شخص کو قتل کے الزام سے نکالنا ہو تو ہماری عدالتیں دنیا کی تیز رفتار عدالتیں بن جاتی ہیں اور گھنٹوں میں فیصلے سامنے آ جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان بھی کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔ دوسرے لفظوں میں، ہمارے ہاں نظام شاید یہ ہے کہ کسی طاقتور پر قانون پوری طرح لاگو نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض صورتوں میں قانون کو اس طرح بھی موڑا جا سکتا ہے کہ کسی ایک فرد کو عمر بھر کے لیے ایسا استثنیٰ حاصل ہو جائے کہ اس سے کسی بھی جرم پر پوچھ گچھ نہ کی جا سکے۔

اب جو بحث چل رہی ہے، وہ بھی ایسے نظام کی بحث نہیں جس میں عام آدمی کے لیے کوئی خیر، سہولت یا اختیار ہو۔ بظاہر کوشش ملک کی انتظامی شکل بدلنے اور ایک ایسا نظام بنانے کی ہے جس میں طاقت اور اختیار کا ارتکاز کسی ایک شخصیت یا چند ہاتھوں میں مزید بڑھ جائے۔ یقیناً کسی بھی ملک میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹ بنانا ایک خوش آئند قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہو اور فیصلہ عوام کی رائے سے کیا جائے۔ اس کام کے لیے یا تو عوام کے حقیقی نمائندے کردار ادا کریں یا پھر شفاف اور غیر جانب دار ریفرنڈم کے ذریعے براہِ راست عوام سے رائے لی جائے۔ اس وقت جو بھی نظام موجود ہے، وہ جن لوگوں کی گرفت میں ہے، نیا نظام بھی وہی لوگ بنائیں گے تو پھر اس میں عوام کے لیے کیا ہوگا؟ وہ تو لازماً اپنے تحفظ اور اپنے اختیار میں اضافے کے لیے قانون اور نظام کو اپنے مطابق ڈھالیں گے۔

اگر ان کی نظروں میں عوام کی کوئی حقیقی حیثیت ہوتی تو گزشتہ 79 برس سے عوام کو بار بار بائی پاس کیوں کیا جاتا؟ آج تک ملک میں کوئی حقیقی جمہوری سیاسی جماعت کیوں نہ بن سکی؟ منصفانہ اور شفاف انتخابات کا مستقل نظام کیوں نہ قائم ہو سکا؟ آمروں کے زیرِ انتظام بننے والی جمہوریت کو کچھ عرصے بعد اکھاڑ کر یہ دیکھنے کی کوشش کیوں کی جاتی رہی کہ اس کی جڑیں کہاں تک پہنچی ہیں؟
2024 کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات اور شکایات کا کیا بنا؟ اس وقت جیلوں میں کتنے سیاسی قیدی ہیں؟ الیکشن کمیشن اور عدالتوں کی کارکردگی پر عوام کو کتنا اعتماد ہے؟ عوام کا ریاست پر اعتماد کس سطح پر ہے؟ آزاد کشمیر سے بلوچستان تک امن و امان کی کیا صورتِ حال ہے؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس وقت ملک کی کوئی ایسی دو بڑی سیاسی جماعتیں موجود ہیں جن کے درمیان نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹوں کے قیام پر اتفاقِ رائے ہو؟ ایسے حالات میں اگر کوئی طالع آزما ملک کی انتظامی شکل بدلنے اور اپنی مرضی کا نظام مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ایسے نظام کی اخلاقی، سیاسی اور جمہوری حیثیت کیا ہوگی؟ اگر واقعی نظام کو درست کرنا مقصود ہے تو سب سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں، جیسی بھی ہیں، کو اعتماد میں لیا جائے۔ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، سیاسی ماحول کو سازگار بنایا جائے اور اس کے بعد کسی نئے نظام کی مکمل شکل عوام کے سامنے رکھی جائے۔ پھر شفاف، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد عوامی ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کیا جائے کہ عوام اس نظام کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

جہاں تک صوبوں کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹ بنانے کا تعلق ہے تو یہ فیصلہ سیاسی ضرورت، کسی شخصیت کی خواہش یا لسانی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی بنیاد صرف انتظامی ضرورت، عوام کی سہولت، بہتر حکمرانی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہونی چاہیے۔ کیونکہ مسئلہ صرف شکلیں بدلنے کا نہیں، اصل مسئلہ نظام درست کرنے کا ہے۔ نقشے پر نئی لکیریں کھینچ دینے سے نظام نہیں بدلتا۔ نظام اس وقت بدلتا ہے جب اختیار عوام تک پہنچے، قانون سب کے لیے برابر ہو، ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کریں اور عوام کو یہ یقین ہو کہ ریاست ان کی ہے اور ان کی رائے کی بھی کوئی حیثیت ہے۔