وہ ایک بادشاہ تھا مگر ۔۔۔۔

وہ ایک بادشاہ تھا اور آج خاموش تھا۔ آج وہ اپنے آخری سفر پر روانہ تھا۔ پروقار انداز میں اپنے تابوت میں لیٹا، لوگوں کے آنسوؤں، پھولوں کے ڈھیروں، اپنے نام لکھے گئے ہزاروں تہنیتی پیغامات پر اچٹتی نگاہ ڈالتا، اپنے نام سے جلائی جانے والے ان گنت  دیوں  کی روشنی میں تمکنت کے ساتھ  اپنے آخری سفر پر روانہ ہورہا تھا۔ ایک مطمئن اور خاموش انسانی جسم لیکن پچاس لاکھ زندہ انسان اسے الوداع کہنے کے لئے مجسم تصویر بنے ، سر جھکائے الوداع کہہ رہے تھے۔

وہ ناروے کا شاہ ہیرالڈ پنجم تھا۔ وہ جس کے بارے میں شاعر نے لکھا وہ میرا بادشاہ تھا۔ کیوں؟ کیوں کہ :

میرا بادشاہ،

سر پیچھے کو پھینک کر ہنستا ہے،

 یوں کہ اس کے مسوڑھے بھی نظر آتے ہیں
ایسا کوئی دوسرا بادشاہ نہیں کرتا‘ (شاعر و موسیقار تھرگوے اسکاؤگ)

بچوں کی طرح ہنسنے والا بادشاہ بے اختیار حکمران تھا۔ وہ ملک کے اس آئین کا پابند تھا جس کے تحت فیصلے اس کے محل سے  ایک کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر قائم پارلیمنٹ کی عمارت میں لوگوں کے منتخب نمائیندے کرتے  ہیں اور بادشاہ ان کا تابع فرمان  ہے۔

وہ سب کا ہمدرد تھا لیکن وہ اپنے احساسات کو زبان دینے کا حقدار نہیں تھا۔ ملک کا ہر بالغ فرد سیاسی مباحث میں حصہ  لے کر اپنے خیالات عام کرسکتا ہے لیکن آئین کا پابند بادشاہ سیاست سے بالا تھا۔ یہ نہیں کہ اس کے کوئی سیاسی خیالات نہیں تھے بلکہ وہ جانتا تھا کہ بادشاہ کے  طور پر اسے ان کا بھی احترام کرنا ہے جن سے وہ اتفاق نہیں کرتا۔ اور یہ بھی کہ وہ کسی سیاسی بیانیے کے ساتھ وابستہ نہیں ہوسکتا  اور نہ ہی   اپنی پسند و ناپسند کا  اظہار کرسکتا ہے۔ اسے بتانا تھا کہ اس کے لیے سب برابر ہیں اور وہ سب کا احترام کرتا  ہے۔ ان کے خیالات کچھ بھی  ہوں لیکن اس کے لیے وہ ناروے کے شہری ہیں اور قابل احترام ہیں۔

پھر بھی بادشاہ بولتا تھا۔ اس نے کہا کہ  یہ ملک سب کا ہے۔ یہاں بہت لوگ رہتے ہیں۔  ایسی لڑکیاں بھی جو لڑکیوں سے محبت کرتی ہیں، ایسے لڑکے بھی جو  لڑکوں کو پسند کرتے ہیں، وہ بھی جو خدا، اللہ ، کائنات یا کسی بھی شے کو نہیں مانتے۔ اور ان  میں ہر رنگ اور ہرطرح کے لوگ ہیں۔ لیکن یہ میرے لوگ ہیں۔ یہ کوئی بھی کام کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں ان سب کا ہوں اور وہ  سب میرے ہیں۔

وہ بے اختیار تھا۔ حکم صادر نہیں کرسکتا تھا لیکن جب اس ملک  میں   22 جولائی  کا سانحہ وقوع پزیر ہوتا ہے تو وہ  اسی طرح   رنج و غم سے آنسو  بہا رہاتھا جیسے ملک کے ہر گھر میں صف ماتم بچھی تھی۔ وہ لوگوں کے ساتھ تھا۔ اس نے یہ نہیں کہا  کہ وہ تو بادشاہ ہے اور اس کا تو کوئی نہیں مرا۔ اس نے بتایا نہیں جو بھی مرا وہ میرا ہے اور جو بچے ہیں میں انہیں اپنے گلے لگاؤں گا۔

بادشاہ کا انتقال ہؤا تو یہ ایک خاندان کے بزرگ کی موت نہیں تھی، ناروے میں ہر گھر کے باسیوں نے محسوس کیا جیسے ان کے گھر ہی کا کوئی فرد چلا گیا ہو۔ اسے محبت سے سب ’ناروے کا دادا‘ کہتے تھے۔ وہ بچوں بڑوں  سب کا دوست تھا۔ بچوں سے محبت کرنے والا، ان کی باتیں سننے والا، ان کے ساتھ ہنسنے مسکرانے والا اور ان کی معصوم باتیں سن کر  حوصلہ دینے والا کہ یہ باتیں اسے کتنا خوش کررہی ہیں۔  پھر کیوں حیرت  ہو کہ  ملک کے بچے اور جوان کمر پر بستے ،  ہاتھوں میں پھول اٹھائے ،اپنے اس دوست کو الوداع کہنے شاہی محل کے سامنے خراج محبت پیش کرنے کے لیے جوق در جوق جمع ہورہے تھے۔

ملک کا آئین  تقاضہ کرتا ہے کہ بادشاہ  عیسائت کا پیروکار ہو لیکن اس کا دل ہر عقیدے اور ہر طرح کے لوگوں کے

لیے کھلا تھا۔ اس نے سب عقیدے کے لوگوں کو محل میں بلا کر ان سے ان کے عقیدے کے بارے میں جاننے  کی کوشش کی۔ اس نے بتایا کہ عقیدے یا رنگ و نسل یا عادات و خصائص سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ سب ناروے کے باشندے ہیں اور میں ان سب کا بادشاہ ہوں، سرپرست ہوں، دوست ہوں۔۔۔ وہ گیا تو محل کے باہر پھول رکھنے والے صرف سفید فام نہیں تھے، ان میں بے عقیدہ  لوگ اور مساجد میں پنجگانہ ادا کرنے والے بھی شامل تھے۔  ان میں سفید فام تھے تو کالے بھی وہاں سر جھکائے ، نم آنکھوں سے  اپنے آنجہانی بادشاہ کو اس کی آخری منزل کی طرف روانہ کررہے تھے۔

اس کا تابوت عام دیدار اور آخری تعظیم کے  لیے محل  کی عبادت گاہ میں رکھا گیا تو پورا ہفتہ صبح سے  رات گئے  تک لوگ وہاں حاضری  دیتے رہے۔ ہر عمر ہر عقیدے کے لوگ کئی کئی گھنٹے قطار میں کھڑے ہوئے تاکہ بادشاہ کے تابوت کے سامنے آخری بار اس کا شکریہ ادا کرسکیں۔ اس سے کہہ سکیں کہ وہ احسان مند ہیں کہ انہیں آپ کی شفقت و توجہ حاصل ہوئی۔   بادشاہ سے یہ محبت کسی غرض و طمع کے لیے نہیں تھی بلکہ ویسی ہی بے لوث تھی جیسی بادشاہ نے اپنے لوگوں سے کی تھی۔۔۔ کسی امتیاز اور تفریق کے بغیر ۔ اسی لیے  اوسلو کے چرچ میں آخری رسومات کے وقت پادری نے کہا کہ ’ہیرالڈ سے محبت و عقیدت ہمیشہ جاری  رہے گی۔ وہ اس دنیا سے چلے گئے لیکن لوگوں کے دلوں میں رہیں گے‘۔

کوئی بادشاہ کیسے مرنے کے بعد بھی لوگوں کے  دلوں میں بسیرا کر سکتا ہے؟    طاقت  کے زور پر جبر کے ذریعے  لوگوں سے احترام و محبت حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو اس  راز کو  پانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اگر  یہ عناصر  آج اوسلو  کی  سڑکوں پر  کھڑے خاموش لوگوں، گھروں کی تنہائی میں مقررہ وقت پر سب کام چھوڑ کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے والوں اور  بادشاہ کے تابوت کا آخری دیدار کرنے  کے لیے سینکڑوں کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے اوسلو آنے والوں کو دیکھ لیتے تو جان  سکتے  کہ احترام کیسے حاصل کیا جاتا  ہے اور لوگ کسی  سے کیوں محبت کرتے ہیں۔

چھوٹے سے ملک ناروے کے دارالحکومت اوسلو کی فضا آج ایک ایسا منظر پیش کررہی تھی جسے دنیا کی کوئی طاقت خرید نہیں سکتی۔ بادشاہ  کے تابوت کے ساتھ فوجی سپاہی ہی نہیں، عام لوگوں کا جم  غفیردو طرفہ کھڑا احترام و محبت  سے ایک ایسے شخص کو رخصت کررہا تھا جس نے ساری زندگی اپنا سب کچھ اس ملک کو دیا اور یہاں آباد سب لوگوں کو پنا مانا۔

ناروے ایک بادشاہ سے محروم ہوگیا۔ دوسرا بادشاہ فوری  طور سے  تخت نشین ہؤا۔ کوئی خلا پیدا نہیں ہؤا ۔ لیکن ہیرالڈ پنجم  لوگوں کے بیچ نہ ہونے کے باوجود نازک احساس اور   آنسو کا گداز قطرہ بن کر لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بن گیا:

بادشاہ کا شفیق دل،
اس وقت کانپ اٹھتا تھا
جب وہ غم زدہ لوگوں سے ملتا تھا

بادشاہ رویا،
ہم سب نے اسے روتے دیکھا۔
اور اسے دیکھ پانا،
اچھا لگا۔

بے چینی، اختلاف اور رنگا رنگی کے بیچ
وہ اس ایک سادہ یقین پر قائم رہا:

ہمیں سب کو اپنے دامن میں سمیٹنا ہوگا۔

بادشاہ نے ناروے کو
مزید وسیع، مزید کشادہ بنا دیا

’کیا بادشاہ کھیلتا ہے؟‘
بچہ حیرت سے پوچھتا ہے

’بادشاہ کھیلتا ہے‘،
ہوا جواب دیتی ہے،
جب وہ وقت کے سمندر پر
پراسرار گہرائیوں کے اوپر
اپنی کشتی لیے آگے بڑھتا ہے۔

(شاعر و ادیب  آئیوند اسکائی)