نائن الیون سے باب المندب تک

11ستمبر 2026 کو پوری دنیا بالخصوص امریکا میں نائن الیون ٹریجڈی کی پچیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ اس سانحہ میں نیو یارک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ایک سو دس منزلہ ٹوئنز ٹاورز سے دو جہازوں کو ٹکراتے ہوئے جو انسانی المیہ وقوع پذیر ہوا اس میں یکا یک تین ہزار ہنستے مسکراتے انسان لقمہ اجل بنا دیے گئے۔

ہزاروں زخمی ہوئے اور لاکھوں بیروزگار، حملے سے اٹھنے والی زہریلی دھول اور گیسوں سے کتنے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہوئے اس کا ادراک نائن الیون ہیلتھ پروگرام کی تازہ رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد آج بھی زیر نگہداشت و علاج ہیں۔ مالی نقصان اربوں ڈالرز پر محیط شاید 83 ارب سے بھی زائد۔

ردعمل میں افغانستان اور پھر 2003 میں عراق کے اندر جو تباہی ہوئی کم وہ بھی نہیں تھی۔ درویش نے ربع صدی قبل اس پر بہت لکھا اور آج اس سوچ و بچار میں گم تھا کہ یہ تباہیاں ڈھانے والوں کو کیا ملا؟حاصل حصول کیا ہوا؟ یہ تو ایسے ہی تھا جیسے ہماری جبر پر استوار سوسائٹی میں ایک جنونی اپنی روٹھی بیوی کو منانے میں ناکامی پر معصوم بچوں سمیت نہ صرف اسے بلکہ پورے سسرال والوں کو اور مابعد خود کو گولی مارتے ہوئے المیہ کہانی چھوڑ جائے۔ اور دیکھنے والے اس سے کوئی سبق تک نہ سیکھیں۔

آج کی مہذب دنیا میں جبر و جنون کتنی بھیانک بلائیں ہیں جو امڈتی انسانی ترقی و خوشحالی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنی کھڑی ہیں۔ ان سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ ہمارے ملک بد نصیب کا المیہ یہ ہے کہ یہاں حریت فکر اور حقیقت بیانی کے لئے کوئی گنجائش چھوڑی ہی نہیں گئی۔ نائن الیون کے پیچھے جو جنونی اپروچ کارفرما تھی افسوس وہ آج بھی اسی طرح ہمارے شعور و وجدان پر براجمان ہے۔ ناچیز  نے اوپر” نائن الیون سے باب المندب تک” کا جو عنوان باندھا ہے، تھوڑی اس کی بھی وضاحت پیش خدمت ہے۔

باب المندب بھی ہرمز جیسی ہی آبنائے، تنگنائے یا سٹریٹ ہے۔ دونوں کو بند کرنے میں کوشاں ایک ہی مائنڈ سیٹ ہے۔ بلا شبہ نو کروڑ روشن خیال ایرانی عوام سیال سونے کی دولت سے مالا مال عظیم قوم ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے نصف صدی قبل وہ اگر ایک شاہی جبر کا شکار تھے تو آج اس سے بھی بدتر مذہبی جبر و آمریت کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آج سٹریٹ آف ہرمز کو اسلامی پاسداران ایران نے بند کر رکھا ہے تو یمن میں انہی کی پراکسی حوثی باغی شیعہ تنظیم انصار اللہ نے سعودی عرب کا ناطقہ بند کرنے کے لئے نہ صرف یہ کہ باب المندب کا گھیراؤ کر رکھا ہے بلکہ عرصہ دراز سے کنگڈم آف سعودیہ عربیہ پر ڈرونز اور میزائل کے ساتھ بارود پھینک رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر تازہ حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کئی رپورٹس میں اموات کا بھی اندراج ہے۔ یہ حملے یمن کی اطراف بحرۂ احمر سے ملحق سعودی شہروں ابہا، خمیس، مشیط، نجران اور جازان میں ہوئے ہیں۔ جازان میں آرامکو کی آئل ریفائنریز ان حملوں کی زد میں آئی ہیں اور کئی مقامات پر آگ لگی ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ یہ 2022 کے بعد سعودی عرب پر ہونے والا بڑا حملہ ہے جسے خود حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جوابی فوجی کارروائی قرار دیا ہے۔ جبکہ سعودیوں نے اسے خطرناک جارحیت کہتے ہوئے جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم نے ڈپلومیسی کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔

امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے سعودی عرب پر اس حملے کا ذمہ دار ایرانی پاسداران کو قرار دیا ہے جن کی یہ حوثی باغی پراکسی ہیں۔ جبکہ ایرانی تسنیم نیوز نے اپنے جزیرے خارگ اور جاسک شہر پر امریکی حملوں کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھی جواباً امریکی فوجی اڈوں پر حملے کریں گے۔ علاوہ ازیں حوثی سرکاری میڈیا نے بیان جاری کیا ہے کہ ہمارے میزائلوں نے ابہاانٹرنیشنل ایئرپورٹ، کنگ خالد ایئر بیس اور جازان میں سعودی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو ٹارگٹ کیا ہے۔ ایرانیوں نے ایک امریکی آبدوز پر قبضہ کرنے اور ایک ڈرون مار گرانے کا دعوی بھی کیا ہے۔

پاکستان سے لے کر یو این سیکریٹری جنرل تک سبھی نے سعودی عرب پر ہونے والے تازہ شیعہ حوثی حملوں کی مذمت کی ہے۔ ہمارے پرائم منسٹر نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حالیہ حملہ علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ میڈیا میں اس نوع کے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ حال ہی میں جو مکہ معاہدہ ہوا ہے اس کی مطابقت میں اقدام کب اٹھایا جائے گا؟

اگرچہ سعودی کنگڈم یمنی حکومت کے ساتھ مل کر شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے لیکن انہیں شکست دینا اتنا آسان نہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ زمینی فورسز کو آگے بڑھاتے ہوئے جانی نقصانات کا رسک لینا پڑے گا۔ (جاری)