کلکتے کا جو ذکر کیا تو سر جھک گیا میرا!

کلکتہ کے مسلمانوں کی تاریخ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ وہ شہر ہے جہاں مسلمانوں نے صرف عبادت گاہیں نہیں بنائیں بلکہ تعلیمی ادارے قائم کیے، کتابیں لکھیں، اخبار نکالے، ادب تخلیق کیا اور ہندوستان کی سیاسی و تہذیبی زندگی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ کلکتہ کبھی اردو صحافت کا ایک اہم مرکز تھا۔

 یہاں سے نکلنے والے اخبارات نے صرف خبریں نہیں دیں بلکہ ایک پوری تہذیبی اور فکری دنیا کو زندہ رکھا۔یہی وہ کلکتہ ہے جہاں مسلمانوں کی کئی نسلوں نے محنت، تجارت، تعلیم، صحافت اور ادب کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔ مگر آج اسی کلکتہ کے مسلمان ایک ایسے سوال کے سامنے کھڑے ہیں جس سے فرار ممکن نہیں:آخر ہم اپنی اس شاندار تاریخ سے کہاں سے کہاں پہنچ گئے؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ آج صحافت، اردو اور مسلم اداروں کے نام پر سیاست کرنے والوں کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ اور جب انگلیاں اٹھتی ہیں تو صرف ایک شخص یا ایک ادارہ نہیں، پوری برادری کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

صحافت جب چمچہ گری بن جائے توصحافت کا کام اقتدار کی چاپلوسی کرنا نہیں، اقتدار سے سوال کرنا ہے۔صحافی کا قلم کسی سیاسی جماعت کا غلام نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا قلم عوام کی امانت ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایک ایسی صحافت بھی پروان چڑھی جس نے سوال پوچھنے کے بجائے حکمرانوں کے سامنے سر جھکانا سیکھ لیا۔حکومت کی ہر غلطی میں مصلحت تلاش کی گئی، ہر ناکامی کا دفاع کیا گیا اور ہر سوال کرنے والے کو مخالف قرار دے دیا گیا۔یہ صحافت نہیں، سیاسی چمچہ گری ہے۔اور جب یہی چمچہ گری اردو کے نام پر ہونے لگے تو معاملہ اور بھی سنگین ہوجاتا ہے۔کیونکہ اردو کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں۔ اردو کسی حکومت کی ملکیت نہیں۔ اردو کسی اخبار یا کسی فرد کی میراث نہیں۔اردو ہم سب کی زبان ہے۔اس لیے جو شخص اردو کے نام پر اپنی سیاسی دکان چلاتا ہے، اسے سب سے پہلے اردو والوں کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔

 انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 7 ستمبر 2026 کو ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ندیم الحق سے وابستہ مقامات پر کارروائی کی۔ رپورٹس کے مطابق کولکتہ، دہلی اور رانچی میں متعدد مقامات کی تلاشی لی گئی، جن میں پارک سرکس میں واقع اردو اخبار ”اخبارِ مشرق“ کا دفتر بھی شامل تھا۔ای ڈی کے مطابق تقریباً 60 کروڑ روپے کے لین دین سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی جانچ کی جارہی ہے اور تحقیقاتی افسران مالی و ڈیجیٹل ریکارڈ کا جائزہ لے رہے ہیں۔یہاں ایک بات ابتدا ہی میں واضح کردینی چاہیے:تفتیش الزام ہے، جرم کا ثبوت نہیں۔کسی بھی شخص کو عدالت کے فیصلے سے پہلے مجرم قرار دینا نہ قانوناً درست ہے نہ اخلاقاً۔لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال پوچھنے کا حق بھی عوام کو حاصل ہے کہ آخر یہ کارروائی اب کیوں ہوئی؟اگر اتنی بڑی رقم کے لین دین کے بارے میں شبہات موجود تھے تو تحقیقات اتنے عرصے تک کہاں تھیں؟اگر ایف آئی آر پہلے درج ہوچکی تھی تو کارروائی میں تاخیر کیوں ہوئی؟

کیا متعلقہ اداروں کے پاس پہلے سے مالی ریکارڈ موجود نہیں تھا؟اور اگر یہ سب کچھ واقعی قانونی عمل کا حصہ ہے تو پھر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اس کی تفصیلات عوام کے سامنے بھی آنی چاہئیں۔کیونکہ شفافیت صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں، تحقیقاتی اداروں کے لیے بھی ضروری ہے۔نہ سیاسی انتقام کا شور، نہ اندھی حمایت یہاں ایک اور خطرناک رویہ سامنے آتا ہے۔جب کسی سیاسی شخصیت کے خلاف مرکزی تحقیقاتی ادارہ کارروائی کرتا ہے تو اس کے حامی فوراً اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔دوسری طرف مخالفین فوراً اسے جرم کا ثبوت سمجھ لیتے ہیں۔دونوں رویے غلط ہیں۔اگر یہ سیاسی انتقام ہے تو ثبوت کے ساتھ سامنے لایا جائے۔اگر مالی بے ضابطگی ہوئی ہے تو ثبوت کے ساتھ سامنے لائی جائے۔عوام کو سیاسی نعرے نہیں، حقیقت چاہیے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی مسلمان سیاست دان کے خلاف کارروائی کو فوراً مسلمانوں کے خلاف کارروائی قرار دینا بھی مسلمانوں کے مفاد میں نہیں۔مسلمان اگر قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں ہر شخص کے لیے ایک ہی اصول ماننا ہوگا۔اپنا ہو یا پرایا، طاقتور ہو یا کمزور، حکمران جماعت سے وابستہ ہو یا مخالف جماعت سے،اگر قانون کے مطابق سوال بنتا ہے تو جواب دینا ہوگا۔

توآج کلکتہ کے مسلمانوں کا سر کیوں جھکا ہے؟اصل تکلیف یہاں سے شروع ہوتی ہے۔جب کسی مسلمان کے نام سے وابستہ ادارے پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگتے ہیں، جب اردو اخبار کا نام کسی مالیاتی تحقیقات میں آتا ہے، جب مسلم اداروں کے نام پر سیاست کرنے والوں پر سوال اٹھتے ہیں تو اس کا اثر صرف متعلقہ افراد تک محدود نہیں رہتا۔عام مسلمان بھی سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا محسوس کرتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ کلکتہ کے بہت سے سنجیدہ اور باشعور مسلمان اس صورتحال سے دل گرفتہ ہیں۔لیکن ہمیں دوسروں کو الزام دینے سے پہلے خود سے بھی سوال کرنا ہوگا۔کیا ہم نے اپنے اداروں کی نگرانی کی؟کیا ہم نے پوچھا کہ اردو کے نام پر آنے والا پیسہ کہاں خرچ ہوا؟کیا ہم نے پوچھا کہ مسلم اداروں کے نام پر حاصل ہونے والی مراعات کا فائدہ عام مسلمان تک پہنچا یا چند مخصوص لوگوں تک محدود رہا؟کیا ہم نے اپنے نمائندوں سے حساب مانگا؟یا ہم نے صرف اس لیے خاموشی اختیار کی کہ وہ ہماری سیاسی پسند کے آدمی تھے؟یہ خاموشی بھی کسی جرم سے کم نہیں۔

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے طویل سیاسی دور نے مسلمانوں اور اردو سے متعلق بہت سے وعدوں، دعوؤں اور سیاسی بیانیوں کو جنم دیا۔یقیناً حکومتوں نے کچھ کام بھی کیے ہوں گے اور ان کا اعتراف ہونا چاہیے۔ لیکن کسی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ جذبات سے نہیں بلکہ اعداد و شمار سے لیا جانا چاہیے۔مسلم اداروں کے نام پر کتنی رقم آئی؟اردو کے فروغ کے لیے کتنے منصوبے بنے؟کتنے منصوبے مکمل ہوئے؟کتنی رقم خرچ ہوئی؟اور اس کا فائدہ کس کو ملا؟یہ سوال کسی حکومت کے خلاف تعصب نہیں۔یہ عوام کے پیسے کا حساب ہے۔افسوس یہ ہے کہ کلکتہ میں خود بہت سے مسلمان برسوں سے یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ اردو اور مسلم اداروں کے نام پر کچھ لوگوں نے اپنے مفادات ضرور حاصل کیے، مگر عام مسلمان اور اردو کا طالب علم اپنی جگہ کھڑا رہا۔اگر یہ شکایت غلط ہے تو اسے مستند اعداد و شمار کے ذریعے غلط ثابت کیا جائے۔اور اگر اس میں کچھ حقیقت ہے تو پھر ہمیں اپنے اندر کے ان کرداروں کا بھی احتساب کرنا ہوگا جنہوں نے اردو اور مسلمانوں کے جذبات کو اپنی ذاتی ترقی کا زینہ بنایا۔

اردو کو سیاسی سیڑھی نہ بنائیں۔اردو آج کسی ایک حکومت کی محتاج نہیں ہونی چاہیے۔اردو کو سیاست دانوں کے دروازے پر کھڑے ہوکر اپنی بقا کی بھیک نہیں مانگنی چاہیے۔اردو کی بقا کتاب میں ہے، اسکول میں ہے، یونیورسٹی میں ہے، لائبریری میں ہے، اخبار میں ہے، گھر میں ہے، نئی نسل کے ہاتھ میں ہے۔اگر ہم واقعی اردو سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اردو کے نام پر شفاف ادارے بنانے ہوں گے۔ایسے ادارے جن کا حساب عوام دیکھ سکیں۔ایسے ادارے جن میں عہدے ذاتی جاگیر نہ ہوں۔ایسے ادارے جہاں اختلاف کرنے والے کو دشمن نہ سمجھا جائے۔اور ایسے اخبار جو حکومت سے قربت کے بجائے سچ سے قربت کو اپنا شعار بنائیں۔

مسلمانوں کا عدم تحفظ صرف باہر سے نہیں آتاآج کلکتہ کے مسلمان اپنے مستقبل اور تحفظ کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔یہ احساس صرف سیاسی ماحول کا نتیجہ نہیں ہوتا۔کسی قوم کا اندرونی اعتماد اس وقت بھی کمزور ہوتا ہے جب اس کے اپنے ادارے شفاف نہ ہوں، جب اس کے نمائندے جواب دہ نہ ہوں، جب اس کے نام پر سیاست کرنے والے خود سوالوں سے بھاگنے لگیں۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قوم کا وقار صرف باہر کے خطرات سے نہیں بچتا۔قوم کا وقار اندر کی دیانت داری سے بھی محفوظ ہوتا ہے۔اگر ہم اپنے اداروں کو صاف رکھیں، اپنے نمائندوں سے حساب لیں، اپنی صحافت کو آزاد رکھیں اور اپنی زبان کو سیاسی مفاد سے بالاتر رکھیں تو کوئی ہمیں آسانی سے بدنام نہیں کرسکتا۔لیکن اگر ہم خود اپنے اداروں کے اندر ہونے والی خرابیوں پر خاموش رہیں تو پھر شکایت کا حق بھی کم ہوجاتا ہے۔ہمیں سیاسی چمچوں نہیں، بے باک صحافیوں کی ضرورت ہے آج کلکتہ کو ایسے صحافیوں کی ضرورت ہے جو حکومت سے بھی سوال کریں اور اپوزیشن سے بھی۔جو اپنے دوست کے خلاف خبر چھاپنے کا حوصلہ رکھیں اور مخالف کے حق میں سچ لکھنے کی دیانت بھی۔ہمیں ایسے قلم کار چاہئیں جن کی وفاداری کسی لیڈر سے نہیں بلکہ سچ سے ہو۔اور ہمیں ایسے سیاسی کارکن چاہئیں جو اپنی جماعت کی غلطی کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔کیونکہ اندھی حمایت قوموں کو مضبوط نہیں کرتی۔تنقید قوموں کو مضبوط کرتی ہے۔احتساب قوموں کو مضبوط کرتا ہے۔سچ قوموں کو مضبوط کرتا ہے۔اور دیانت داری قوموں کو عزت دیتی ہے۔

اب فیصلہ کلکتہ کے مسلمانوں کو کرنا ہے۔ یہ وقت کسی ایک فرد کے دفاع میں سڑکوں پر نکلنے یا کسی دوسرے فرد کو پہلے ہی مجرم قرار دینے کا نہیں ہے۔یہ وقت سوچنے کا ہے۔ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو کیا دیں گے؟سیاسی وابستگی؟شخصیت پرستی؟چمچہ گری؟یا دیانت، علم، صحافت، ادب اور کردار؟اگر کسی ادارے میں مالی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کا حساب ہونا چاہیے۔اگر الزام جھوٹا ہے تو الزام لگانے والے کو جواب دینا چاہیے۔اگر سیاسی انتقام ہوا ہے تو اس کے خلاف قانونی جدوجہد ہونی چاہیے۔لیکن ہر صورت میں ایک اصول قائم رہنا چاہیے:سچ سامنے آنا چاہیے۔کیونکہ سچ سے کسی قوم کا نقصان نہیں ہوتا۔نقصان ہمیشہ جھوٹ سے ہوتا ہے۔

کلکتہ کے مسلمانوں کی تاریخ بہت بلند ہے۔ ہمیں اس تاریخ پر صرف فخر نہیں کرنا، اس کے معیار پر پورا بھی اترنا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں علم کے چراغ جلائے، اردو صحافت کو زندہ رکھا، ادب کی خدمت کی اور ہندوستان کی تہذیبی تاریخ میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔آج پھر ایک امتحان ہمارے سامنے ہے۔یہ امتحان کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں۔یہ امتحان کسی ایک اخبار کا نہیں۔یہ امتحان کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ یہ کلکتہ کے مسلمانوں کی اجتماعی ساکھ کا امتحان ہے۔ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ اردو کے نام پر کوئی ذاتی دکان نہیں چل سکتی۔مسلمانوں کے نام پر کوئی ذاتی مفاد نہیں چل سکتا۔صحافت کے نام پر سیاسی چمچہ گری نہیں چل سکتی۔اور عوام کے پیسے کا حساب عوام سے چھپایا نہیں جاسکتا۔اگر کسی پر الزام ہے تو قانون اپنا کام کرے۔ اگر کوئی بے گناہ ہے تو اسے انصاف ملے۔ مگر اس سارے عمل کے بعد بھی ہمیں اپنی صفوں میں جھانکنا ہوگا۔ہمیں اپنے ادارے صاف کرنے ہوں گے۔اپنی صحافت کو آزاد کرنا ہوگا۔اپنی سیاست کو جواب دہ بنانا ہوگا۔اور اپنی نئی نسل کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ مسلمان ہونے کا مطلب صرف نعرہ نہیں، کردار بھی ہے۔

مجھے کلکتہ کے مسلمانوں سے آج بھی امید ہے مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی تاریخ، اپنی تہذیب اور اپنی آنے والی نسلوں کے سامنے سرخرو ہوں گے۔وہ اپنی ایمانداری، دیانت داری، اتحاد اور اجتماعی شعور سے ثابت کریں گے کہ چند افراد کے الزامات پوری قوم کی شناخت نہیں بن سکتے۔مجھے کلکتہ کے مسلمانوں سے امید ہے کہ وہ اپنی ایمانداری اور دیانتداری سے ثابت کریں گے کہ وہ آج بھی ایک متحد، باوقار اور باعزت قوم ہیں۔اور یہی کلکتہ کی اصل پہچان ہوگی۔اردو زندہ رہے گی، اگر اردو والے اپنے کردار کو زندہ رکھیں گے۔