لڑی سے لڑی جڑی ہے

دنیا کی سیاست میں بعض تبدیلیاں خاموشی سے رونما ہوتی ہیں، مگر ان کے اثرات بہت دور تک محسوس ہوتے ہیں۔ پاکستان اس وقت اسی نوعیت کے ایک مرحلے سے گزر رہا ہے۔

بظاہر معاملات الگ الگ دکھائی دیتے ہیں ؛ گوادر، امریکہ کی مالی معاونت، مکہ معاہدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور نئے صوبوں کی بحث۔ لیکن ذرا گہرائی میں جائیں تو ان سب کے پیچھے ایک ہی سوال کھڑا نظر آتا ہے : بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان اپنی جگہ کہاں متعین کر رہا ہے؟ چین میں اب یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ گوادر کو محض ایک تجارتی منصوبے کے طور پر دیکھنا شاید حقیقت پسندانہ نہیں۔ پاکستان میں اسے ”پاکستانی شینجن“ کہا گیا، مگر شینجن کی کامیابی کے پیچھے ہانگ کانگ جیسا پہلے سے قائم عالمی تجارتی مرکز موجود تھا۔ وہاں سرمایہ، صنعت، تجارت اور انسانی وسائل پہلے ہی جمع تھے۔ گوادر کے سامنے ایسی کوئی معاشی بنیاد موجود نہیں۔ بنیادی سہولتوں کی کمی اپنی جگہ، سکیورٹی کے مسائل نے بھی سرمایہ کاری اور تجارت کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔ چنانچہ یہ بات قابلِ غور ہے کہ شاہراہِ قراقرم اور ایم ایل ون جیسے منصوبوں کے لیے پاکستان اب چین کے بجائے ایشیائی ترقیاتی بینک سے بات کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین نے گوادر سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ گوادر کی اسٹریٹجک اور سیاسی اہمیت بدستور موجود ہے، لیکن شاید اس کی معاشی افادیت کے بارے میں چینی سوچ پہلے جیسی نہیں رہی۔ گوادر کی ترقی اب زیادہ تر تزویراتی ضرورت کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

اسی پس منظر میں پاکستان کی امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی بائی لیٹرل ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلیٹی حاصل کرنے کی خواہش بھی اہم ہے۔ امریکہ اس نوعیت کی مالی مدد یوراگوئے اور ارجنٹائن کو دے چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان کے لیے واشنگٹن کے مفادات کیا ہیں؟ ارجنٹائن کے معاملے میں کریٹیکل منرلز، چینی اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور بعض دوسرے امریکی مفادات واضح تھے۔ پاکستان کے معاملے میں صورت حال اتنی سادہ نہیں۔ اسی لیے یورپی حلقوں اور بیجنگ میں یہ رائے سنائی دیتی ہے کہ امریکہ پاکستان کو شاید دو یا اڑھائی ارب ڈالر سے زیادہ کی مدد نہ دے، کیونکہ واشنگٹن کی نظر میں پاکستان کی فوری ضرورت بھی شاید اسی حد تک ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر 10 ارب ڈالر کی خواہش اور امریکی مفاد کے درمیان فاصلے کو سمجھنا ہو گا۔ دوسری طرف مکہ معاہدہ چین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ اس خطے میں سکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر کب تک اور کس حد تک موجود رہنا چاہتا ہے۔ اگر علاقائی سلامتی کا کوئی نیا بندوبست تشکیل پاتا ہے تو اس میں مکہ معاہدے کی تزویراتی حیثیت کیا ہو گی؟

بیجنگ اسی سوال کا جواب تلاش کر رہا ہے۔ اس معاہدے کے اثرات یورپ میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مشرقی یورپ میں اس پیش رفت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ یونان پہلے ہی بھارت کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک قربت بڑھا رہا تھا۔ اب ترکی کی شمولیت والا مکہ معاہدہ ایک نئی علاقائی حقیقت کے طور پر اس کے سامنے موجود ہے۔ مغربی یورپ فی الحال خاموش ہے، مگر اس خاموشی کو بے خبری نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہاں اس نئی صف بندی کا گہرا جائزہ لیا جا رہا ہے ابھی انگلینڈ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی ملاقات پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات طے تھی مگر نہیں ہو سکی اور امید ہے کہ جلد ہی ہو گی۔ اس ملاقات کے بعد یہ زیادہ بہتر سے تعین کیا جا سکے گا کہ یورپ مکہ معاہدے کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے۔ پھر شنگھائی تعاون تنظیم ہے۔ ایس سی او کا نام آتے ہی چین ذہن میں آتا ہے، لیکن چین اسی وقت تنظیم سے باہر اپنے الگ معاہدے اور شراکتیں تشکیل دے رہا ہے۔ حالیہ اجلاس میں توقع تھی کہ ایس سی او بینک کے قیام کا اعلان ہو گا، مگر یہ اعلان نہ ہو سکا۔ پاکستان کو اب اگلے اجلاس کے لیے رسمی سفارت کاری سے آگے بڑھنا ہو گا۔ اسے ایسا ایجنڈا تیار کروانا چاہیے جو صرف رکن ممالک نہیں بلکہ پوری دنیا کی توجہ حاصل کرے۔

اور صوبوں کی ایک بحث جو اندرونِ ملک جاری ہے۔ اصولاً انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی ضرورت پر بحث میں کوئی قباحت نہیں۔ بہتر حکمرانی، انتظامی سہولت اور عوامی نمائندگی کے لیے نظام میں تبدیلی وقت کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ بحث شروع کیسے کی جا رہی ہے؟ اسلام آباد کے سفارتی حلقوں سے لے کر ملک کے مختلف سنجیدہ طبقات تک یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ طریقۂ کار ناقص ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے قومی منصوبے محض نعرے یا طاقت سے کامیاب نہیں ہوتے۔ ون یونٹ کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ مقصد کچھ بھی بیان کیا گیا ہو، نتیجہ یہ نکلا کہ صرف ون یونٹ باقی رہا اور دوسرا یونٹ جدا ہو گیا، سیاسی ردعمل نے پورے نظام کو ہلا دیا کہ جس کی کڑواہٹ ابھی تک منہ کا ذائقہ خراب کر دیتی ہے۔ نئے صوبوں کا معاملہ بھی اسی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ اب دیکھئے اس اہم قومی مسئلے پر بحث کے لیے ایسے فورم کا انتخاب کیا گیا جہاں اسٹیج پر بس لاہور ہی لاہور کے افراد تھے اور افراد بھی وہ کہ جن کا کوئی سیاسی یا دانش ورانہ تعارف نہیں بلکہ بس تعلیم کے شعبے سے پیسے کما لئے ہیں۔ جب اس نوعیت کے حساس ترین موضوع پر گفتگو کرنے والے قومی سیاسی، انتظامی اور تاریخی تجربے رکھنے والے اہلِ فکر نمایاں نہ ہوں، تو پھر سوال تو اٹھیں گے۔

ملک کو نئے صوبے چاہئیں یا نہیں، یہ فیصلہ جذبات، نعروں، طاقت یا نمائشی مباحث سے نہیں ہو گا۔ اس کے لیے آئینی ماہرین، مؤرخین، ماہرینِ معیشت، انتظامی ماہرین، سیاسی جماعتوں اور متعلقہ علاقوں کے حقیقی نمائندوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہو گا۔ دنیا بدل رہی ہے۔ چین اپنی ترجیحات دیکھ رہا ہے، امریکہ اپنے مفادات، یورپ اپنی سلامتی اور خطہ اپنی نئی صف بندی۔ ایسے میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ دوسروں کے بنائے ہوئے ایجنڈے کا حصہ بنے گا یا اپنا ایجنڈا خود تشکیل دے گا اور سیاست کو طاقت سے حل کرے گا یا معاملہ فہمی سے؟ بس اصل امتحان یہی ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)