یمن میں حوثی فورسز کی پیش قدمی، باب المندب پر قبضہ مکمل
یمنی حکومتی فورسز کے انخلا کے بعد حوثیوں نے باب المندب کی آبی گزرگاہ کے دہانے پر واقع اہم جزیرے میون پر قبضہ کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے یمنی حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرکاری فورسز جزیرہ میون سے نکل گئی ہیں۔
جزیرہ میون، جسے بعض اوقات باب المندب جزیرہ بھی کہا جاتا ہے، اس آبی گزرگاہ کے وسط میں واقع ہے اور اسے دو بحری راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔
اس سے قبل ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ یمن کے ساحلی شہر ذباب پر بھی حوثیوں نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ایسی صورت میں باب المندب کی آبی گزرگاہ پر حوثیوں کا کنٹرول تقریباً مکمل ہو گیا ہے۔ یہ آبی راستہ سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کی تھی۔
دوسری جانب حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے آج دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے درجنوں فضائی حملے کیے ہیں اور حالیہ حملوں میں دو مرتبہ المخا ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
المخا کی بندرگاہ بھی حالیہ دنوں میں حوثیوں کے قبضے میں آ چکی ہے۔
اس دوران خبریں سامنے آئی ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کو مسترد کردیا۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں سےلاحق خطرے پر سعودی ولی عہد نے گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ سے دو بار ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق محمد بن سلمان نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کریں تاہم امریکی صدر نے حوثیوں کے خلاف کارروائی سے انکار کردیا۔ایگزیوس کے مطابق ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران اور آبنائے ہرمز پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت کی ہے، ٹرمپ یمن کی صورت میں ایک اور محاذ کھولنے سے گریزاں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کرے گا، امریکا بحیرہ احمر میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ پر توجہ دے گا، حوثیوں سے نمٹنے کے لیے علاقائی اتحادیوں کو آگے رکھا جائے گا۔ایکسیوس کے مطابق امریکی عسکری اور سول حکام نے حالیہ ہفتوں میں سعودی ہم منصبوں سے رابطہ کیا جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر ہنگامی رابطہ اجلاسوں کے لیےگزشتہ روز سعودی عرب گئے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے اور وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔واضح رہے چند روز قبل سعودی عرب میں یمن کی حوثی جماعت انصاراللہ نے حملےکیے تھے جس میں 73 افراد زخمی ہوئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔