نائن الیون سے باب المندب تک (2)

مستقبل میں خبر آ سکتی ہے کہ صنعا پر باغیوں کی بجائے یمنی حکومت کا کنٹرول ہو گیا ہے۔ ساحلی شہروں سے حملوں کو روکنے کے لیے بھی کئی کامیابیاں مل سکتی ہیں لیکن یمن کے اندرونی علاقوں سے انصار اللہ کے میزائلوں کو روکنے کی کوئی صورت نہیں دکھ رہی، سوائے بوٹ اتارنے کے۔

یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ مکہ معاہدہ کی مطابقت میں پاکستان اور ترکیہ سعودیوں کی معاونت میں کہاں تک جا سکتے ہیں؟ یقیناً اس حوالے سے پلاننگ ہو رہی ہے لیکن ہر دو ممالک کو اندرونی طور پر اپنی شیعہ کمیونٹی کا ایک طرح سے دیدہ و نادیدہ دباؤ بھی ہے۔ بات شروع ہوئی تھی نائن الیون کے القاعدہ حملوں اور انصار اللہ کے تازہ حملوں میں مماثلت کی، بظاہر القاعدہ اور انصار اللہ میں مذہبی افتراق ہے۔ القاعدہ ایک سنی العقیدہ جہادی تنظیم تھی یا ہے جس کا خمیر سعودی عرب سے ہی اٹھا تھا۔ اسامہ بن لادن کی سعودی بیک گراؤنڈ کا سبھی کو علم ہے جبکہ یمن اگرچہ سعودی عرب کا ہمسایہ عرب ملک ہے لیکن یہاں کی جہادی تنظیم انصار اللہ زیدی شیعہ عقیدے کی حامل ہے جس کی دنیا بھر میں پہچان لبنانی حزب اللہ کی طرح ایرانی پراکسی کی ہے۔

سوال یہ ہے کہ عربوں میں شیعہ سنی کی اتنی زیادہ منافرت کے باوجود القاعدہ اور انصار اللہ کی اپنے ٹارگٹس کے حوالے سے اتنی مماثلت کیوں ہے؟ گہرائی میں جا کر جائزہ لیا جائے تو دونوں کا بنیادی ٹارگٹ سعودی معتدل کنگڈم کا خاتمہ کرتے ہوئے حجاز مقدس میں اپنی خلافت و امامت کا قیام ہے، جس میں بڑی رکاوٹ امریکا کو سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت و دشمنی ضروری خیال کی جا تی ہے۔ مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں تو ہمارے آقا کے دنیا سے رخصت فرماتے ہی سقیفہ بنو ساعدہ جیسے مراحل پیش آ گئے، جن کی تفصیلات تاریخ طبری یا سیرت ابن ھشام کے علاوہ بخاری و مسلم جیسی مستند صحاح ستہ میں موجود ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری اکثریت انہیں پڑھتی ہے نہ ان پر اظہار خیال کرنا مناسب سمجھتی ہے۔

اختصار کے ساتھ عرض ہے کہ خلافت راشدہ کے دوران ہی شیعان علی کا ظہور ہو چکا تھا۔ شیعہ عقیدے میں خلافت کے بالمقابل امامت کا الگ اور منفرد تصور بنیادی عقیدے کی حیثیت حاصل کر گیا تھا۔ حرمین شریفین یعنی مکہ مدینہ کی اسلام اور مسلمانوں میں اہمیت کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ مسلمانوں میں زیادہ تقدس و احترام اسی کو حاصل رہا ہے جس کی یہاں حکمرانی ہو، پہلے تین خلفا کا دارالخلافہ مدینہ ہی رہا مگر چوتھے خلیفہ کیلیے بہت سی ایسی مجبوریاں بنا ڈالی گئیں کہ انہیں اپنا دارالخلافہ کوفہ کو قرار دینا پڑا۔ اس سب کے باوجود شیعان علی کی ہمیشہ حسرت رہی کہ وہ اپنی حکمرانی حرمین شریفین میں بھی قائم کر پائیں۔ اگرچہ مصر کی شیعہ فاطمید ایمپائر  نے اپنے عروج میں ایک عرصے کیلیے یہ مقام حاصل کر لیا لیکن وہ بھی ایک طرح سے بالواسطہ ہی رہا۔ شریف مکہ ان کے نام کا خطبہ پڑھتے رہے مگرعثمانی ترکوں نے انہیں زیادہ مدت یہاں ٹکنے نہیں دیا۔ ویسے بھی آبادی کے لحاظ سے شیعہ ہمیشہ کم اور سنی زیادہ رہے۔

شیعہ کمیونٹی عامہ المسلمین میں بالعموم اور عرب ممالک میں بالخصوص پاپولرٹی حاصل کرنے اور اقتدار کی غلام گردشوں میں اثر و رسوخ حاصل کرنے سے بالعموم قاصر رہی۔ امویوں کے بعد اگرچہ شیعوں کے تعاون سے عباسی آئے مگر علویوں کے لیے وہ بھی امویوں اور عثمانیوں سے شاید بڑھ کر ہی ظالم ثابت ہوئے۔ شیعان علی کو بالعموم کربلا جیسی ہولناکیوں سے ہی گزرنا پڑتا رہا۔ ایران میں اگرچہ شاہ اسماعیل صفوی کا فاطمید کے بعد شیعان علی کے لیے سنہری دور تھا لیکن اس کا عرصہ سنی العقیدہ خلافتوں کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ 1979 میں امام خمینی کی قیادت و امامت نے شاہی آمریت کے خلاف نعرہ حیدری بلند کرتے ہوئے جو انقلاب برپا کیا، تودہ جیسی دیگر پارٹیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خمینی نے اس کی تان ولایت فقیہ پر توڑی۔ جو بارھویں امام مہدی کی غیابت میں نائب الامام کے مقدس ہاتھوں میں رہے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ نعرۂ مستانہ بھی اپنی شیعہ کمیونٹی کے دماغوں میں انڈیل دیا کہ ہم اپنے اس انقلاب کو دیگر مسلم ممالک میں برآمد کریں گ۔

ے یہ اسی تگ و دو یا جدوجہد کا ثمر تھا کہ تقریباً تمام مسلم ممالک میں شیعہ کمیونٹی نے ایک نئی انگڑائی لی جن کے نعروں کا آہنگ خمینی کی سوچ سے پوری طرح ہم آہنگ تھا۔ دیگر مسلم ممالک کے بالمقابل ان کا اصل ٹارگٹ سعودی عرب ہی تھا جسے وہ سعودی عرب کہنا بھی درست نہیں سمجھتے تھے۔ وہ اپنی تقاریرو بیانات میں ہمیشہ اس کا تذکرہ عربستان کہتے ہوئے کرتے جبکہ سعودیوں کو وہ عامتہ المسلمین کی نظروں میں گرانے کے لیے نجدی اور آل سعود کہتے ہوۓ آل یہود کے ساتھ لاکھڑا کرتے۔ سعودی عرب اور اسرائیل دونوں کا محافظ و پاسبان وہ امریکا کو قرار دیتے ہوئے اپنے پیروکاران کو یاد دلاتے کہ امریکا وہ شیطان بزرگ ہے، جس نے خلیجی ممالک میں اپنے فوجی اڈے قائم کرتے ہوئے آل سعود کو حرمین شریفیں پر مسلط کر رکھا ہے (جاری ہے)