امریکہ حوثیوں سے براہ راست بات چیت کررہا ہے: وینس

  • سوموار 14 / ستمبر / 2026

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ وہ یمن اور اس کے اطرف میں صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور حوثیوں سے بھی رابطے میں ہیں۔ امریکی ریاست کنساس میں ایک صحافی نے جے ڈی وینس سے پوچھا کہ کیا انہیں بحیرہ احمر میں واقع بریم جزیرے پر حوثیوں کے قبضے سے پریشانی ہے؟

امریکی نائب صدر نے جواب دیا کہ ہم اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اماراتیوں، سعودیوں اور خطے میں دیگر متاثرہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں اور وہ ’حوثیوں سے بھی براہ راست بات‘ کر رہے ہیں۔

ہم اس صورتحال کی نگرانی کرتے رہیں گے اور یقینی بنائیں گے کہ امریکہ کے مفادات کا تحفظ کریں۔

اس دوران یمن میں حوثی مخالف میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے تعز کے محاذ کے قریب کئی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ استنبول سے شائع ہونے والی یمنی ویب سائٹ بلقیس نے صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے حوالے سے بتایا کہ حکومتی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران مختلف محاذوں پر پیش قدمی کی ہے۔

یمن کی صدارتی قیادت کونسل کو بین الاقوامی سطح پر یمنی حکومت تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ حکومتی فورسز ایران کے اتحادی حوثیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ رشاد العلیمی نے تعز میں حوثی مخالف فورسز کی جنگی تیاری اور درست کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’مأرب، الجوف، البیضا اور الضالع کے علاقوں میں بھی فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

بلقیس کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فورسز نے مغربی تعز میں پیش قدمی کرتے ہوئے حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی فورسز کی کارروائیوں کو سعودی جنگی طیاروں کی فضائی مدد بھی حاصل رہی۔

دوسری جانب بلقیس اور سعودی ملکیت والے العربیہ نیٹ ورک نے یمن کے مختلف محاذوں پر حوثی ٹھکانوں کے خلاف مزید فضائی حملوں کی بھی اطلاع دی ہے۔ ان حملوں میں باب المندب کے قریب مغربی یمن کے ساحلی شہر ذباب کے علاقے میں حوثی پوزیشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔