حوثیوں کو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا: سعودی عرب
سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے حملوں کا ’فیصلہ کن‘ جواب دیا جائے گا۔ حوثیوں کے حالیہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں سعودی عرب میں 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کے اتحادی حوثیوں نے بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحل اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے کے بعد باب المندب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب فرانس کی درخواست پر باب المندب کی صورتِ حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج نیویارک میں طلب کیا گیا ہے۔
قطر نے بھی اہم بحری گزرگاہ باب المندب کی بندش کے ممکنہ سنگین نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ابراہیم ہاشمی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے دوچار ہے، اس لیے باب المندب کو بھی اس صورتحال میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’بحیرۂ احمر کے جنوبی راستے کی بندش پوری دنیا کے لیے ’تباہ کن‘ ہو گی اور اس کے اثرات پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق قطر اس صورتحال کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیتا ہے۔
حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحل اور باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کے بعد خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ وہ نہرِ سویز تک بحری رسائی روک سکتے ہیں۔
باب المندب پر قبضے کے بعد حوثیوں نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ باب المندب تمام بحری جہازوں کے لیے کھلا رہے گا، تاہم سعودی بحری جہاز اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
آبنائے باب المندب یمن کے ساتھ بحیرہ احمر کے کنارے پر اور جبوتی و اریٹیریا کے ساتھ افریقی کنارے پر واقع ہے۔ بحرِ ہند اور خلیج عدن سے آنے والی بحری ٹریفک کو نہر سویز تک رسائی کے لیے لازمی طور پر اس آبنائے سے گزرنا پڑتا ہے۔
115 کلومیٹر لمبی اور 36 کلومیٹر چوڑی یہ آبنائے 1869 میں نہر سویز کی تعمیر کے بعد عالمی تجارت میں ایک ایسی ناگزیر کڑی بن گئی تھی، جس نے یورپ اور ایشیا کے درمیان سب سے مختصر سمندری راستہ فراہم کیا۔
بحیرہ احمر میں موجود یہ آبنائے اب دنیا کے مصروف ترین راستوں میں سے ایک ہے اور تقریباً ایک چوتھائی عالمی بحری ٹریفک اسی راستے سے گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کو سپلائی ہونے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے جبکہ اندازوں کے مطابق آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش مزید 12 فیصد عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرے گی۔