نائن الیون سے باب المندب تک؟

امریکا، آل یہود کی طرح آل سعود کی بھی سرپرستی کرتا ہے جسے توڑنے کا مجرب نسخہ یہی ہے کہ شیطانِ کبیر اور شیطانِ صغیر کے خلاف عامہ المسلمین کے دلوں میں اتنی منافرت بھر دی جائے جو امڈ کر ان کے اتحادی آل سعود کا اس خطے میں اقتدار یا اعلیٰ مقام زمین بوس کر دے۔

شیطان بزرگ جب اس خطے سے ذلیل ہو کر نکلے گا تو ہمارے مجاہدین ومومنین کیلیے آل سعود کو دبوچنا تر نوالہ ہو جائے گا۔ اس پس منظر میں عربوں کے اندر ان ساری شیعہ ایرانی پراکسیوں کا مدعا واضح ہو جانا چاہیے کہ امریکا و اسرائیل دشمنی تو درحقیقت بہانہ ہے، نجدی وہابی آل سعود اصل نشانہ ہے۔ درویش کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ اصلی تنازعہ اسرائیل سے ہے نہ امریکا سے، اصلی جھگڑا ہے سعودیوں سے۔ فلسطینیوں کی محبت بھی محض ثواب دارین یا وسیع تر سنی عوام میں پزیرائی کیلیے ہے۔

اب آتے ہیں القاعدہ یا بن لادن کی اپروچ پر۔ سچائی یہی ہے کہ ان کا بھی یہی فہم و شعور تھا۔ امریکی فورسز کو عربستان سے نکالنے جیسا بن لادن کا بنیادی نعرہ اور اس کے مقاصد سعودی کنگڈم کو توڑنا اور اس خاندان کی حکمرانی کو لپیٹتے ہوئے حرمین شریفین میں بن لادن کی خالص سچی اور راسخ العقیدہ خلافت کا قیام تھا۔ اس مقدس مشن کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ وہ ولایت فقیہ کی طرح امریکیوں کو خیال کرتے تھے۔ حالانکہ جہاد افغانستان میں بن لادن انہی امریکیوں کی معاونت سے مستفید ہوتے رہے تھے۔ اگرچہ اصل ٹارگٹ تک پہنچنے کیلیے تمام اقدامات مرحلہ وار چلتے ہیں۔ جونہی افغانستان میں طالبان کی جیسی تیسی امارت وخلافت میں ان کی حکمرانی قائم ہو گئی، انہوں نے امریکا کو زیر کرنے اور اپنی اہمیت منوانے کے علاوہ اسرائیل کے خلاف عامہ المسلمین کی منافرت سے فائدہ اٹھانے کی خاطر اسی نوع کے نعرے خوب اچھالے۔ فلسطینیوں کے غم میں بھی وہ اکثر ٹسوے بہاتے دکھائی دیے۔

یہ ہے وہ پس منظر جس میں نائن الیون کا سانحہ وقوع پذیر ہوا اور پوری دنیا کو حیرت ہوئی کہ نائن الیون کے انیس دہشت گردوں میں سے 18 یا 15 کا تعلق سعودی عرب سے کیوں تھا؟ سعودی تو اسرائیل کی طرح ہمیشہ سے قریبی امریکی اتحادی مانے و گردانے جا رہے تھے۔ آج مجاہد اسلام اسامہ بن لادن اور بانی اسلامی انقلاب آیت اللہ خمینی کے پیروکاران کو سب سے بڑھ کر خوشی ہونی چاہئے کہ خود امریکی عوام نے اپنے ہاتھوں سے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نامی بلا کو لا بٹھایا گیا ہے جس نے امریکی عسکری و عالمی عظمت کے پر خچے اڑا کر رکھ دیے۔ اپنی تمام تر جدوجہد اور جہادی توانائیوں کے باوجود جو کام بن لادن اور خمینی نہ کر سکے، وہ کارنامہ ایک احمق امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے ایسے بھیانک اسلوب میں سر انجام دیا کہ امریکی طاقت و عظمت پر یقین رکھنے والے تمام سنجیدہ طبقات سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔

ٹرمپ نے یکے بعد دیگرے نہ صرف دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تمام امریکی اتحادیوں کو امریکا سے دور کر ڈالا بلکہ خود امریکی عوام میں بھی ایک نوع کا افتراق و انتشار پیدا کر دیا۔ تمام سابق امریکی صدور بالخصوص اوباما پر کیچڑ اچھالنا جیسے ان کی آئینی و صدارتی ذمہ داری ہے۔ گویا امریکا ہلکا اور ٹرمپ اس سے کہیں زیادہ بھاری ہے، جس کی نظروں میں یو این کی کوئی اہمیت ہے نہ یو این ہیومن رائٹس چارٹر کی۔ نہ امریکی تہذیبی اقدار کوئی ویلیو رکھتی ہیں اور نہ خلیجی عرب اتحادی بشمول سعودی کراؤن پرنس کی کوئی عزت ہے۔ کس کس امریکی اتحادی کا اس مسخرے نے مذاق نہیں اڑایا۔ اس نے پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ نائن الیون کی جو بلا امریکا کا کوئی بہت زیادہ نقصان نہیں کر پائی تھی، یہ ٹرمپ جیسی بلا امریکا کیلیے اس سے بدتر ثابت ہوئی ہے۔

شکر ہے امریکی آئینی، جمہوری اور عدالتی ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ اس گھناؤنے وار کو سہہ جائیں گے۔ اور جب یہ مسخرہ ہٹے گا تو امریکی قوم کیلیے چار سالہ اندھیری رات کے بعد ایک نئی صبح کا آغاز ہوگا۔ امید واثق ہے کہ اس حساس دورانیے میں کراؤن پرنس ایم بی ایس حکمت و تدبر کے ساتھ اپنی کنگڈم اور ملکی یکجہتی کے سسٹم کو بچا لے جائیں گے، جس طرح بن لادن کی مذہبی جنونیت بالآخر سمندر برد ہو گئی اسی طرح ولایت فقیہ یا پاسدران کی اسلامی جنونیت بھی ایک دن ہرمز اور باب المندب میں سمندر برد ہو جائے گی۔

القاعدہ، پاسداران یا حوثیوں کے کارن خلیجی امریکی اتحادیوں بالخصوص سعودی عرب، امارات یا اسرائیل جن مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں انگلینڈ سمیت بارہ یورپی اتحادی ممالک آل ابراہیم کے سامنے آ رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ایسی ہر منافرت دریا برد ہو جائے گی کیونکہ اکیسویں صدی کا فیوچر جنونیوں اور دہشت گردوں کا نہیں، انسانی تہذیبی اقدار، انسان نوازی وامن و سلامتی پر ایمان رکھنے والوں کا ہے۔