حوثیوں کا سعودی عرب میں آرامکو پر حملوں کا دعویٰ

  • بدھ 16 / ستمبر / 2026

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجو گروہ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات اور خمیس مشیط ایئر بیس کے خلاف دو الگ فوجی کارروائیاں کی ہیں۔

بدھ کو یمن کے دارالحکومت صنعا سے جاری حوثی گروہ کی مسلح افواج کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں یمن کے خلاف سعودی قیادت میں جاری فوجی مہم اور محاصرے کے جواب میں کی گئیں۔

بیان کے مطابق پہلی کارروائی میں ینبع میں واقع سعودی آرامکو کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری کارروائی میں خمیس مشیط ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ حوثیوں نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ دونوں حملوں میں اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ تاہم اس دعوے کی بی بی سی آزادنہ تصدیق نہیں کر سکا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یمن کی مسلح افواج سعودی عرب کے اندر اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یمن کے خلاف فوجی کارروائیاں اور محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے قائم عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کی فضائی دفاعی فوج نے حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ڈرون مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک کر تباہ کر دیا تھا۔

یمن کے حوثیوں نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ تاہم یہ اطلاعات منظر عام پر آنے کے بعد سے ہی نہ صرف سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں پر بات ہو رہی ہے، بلکہ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ ریاض فضائی خطرات سے بچاؤ کے لیے مکہ سمیت دیگر شہروں میں کون سا فضائی دفاعی نظام استعمال کر رہا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ اس کی جانب سے اس مبینہ ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے کس دفاعی نظام کا استعمال کیا گیا ہے، تاہم رواں برس مئی میں ملک کی وزارت دفاع نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں کچھ میزائل لانچرز، ریڈارز اور اینٹی ایئر کرافٹ طرز کی بڑی گنز دیکھی جا سکتی ہیں۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق ان ہتھیاروں سے لیس ایئر ڈیفنس فورسز کو ’مقامات مقدسہ کے تحفظ اور فضائی خطرات سے بچاؤ‘ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔