سویڈن کے انتخابی نتائج

13 ستمبر کو سویڈن میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا 17ستمبر کو حتمی اعلان کر دیا گیا اور سویڈن کی جدید تاریخ کے انتہائی اعصاب شکن اور سنسنی خیز انتخابات نے آخری ووٹ کی گنتی تک تجسس کو برقرار رکھا۔ کیونکہ اس سے پہلے سویڈن کی تاریخ میں اتنا کانٹے دار انتخابی مقابلہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔

اس بات سے اندازہ لگائیے کہ ایک کروڑ کی آبادی والے ملک میں مخالف سیاسی دھڑوں کے درمیان فقط بتالیس ہزار ووٹوں کا فرق ہے جس کی بنیاد پر بائیں بازو کے چہار جماعتی اتحاد کو فاتح قرار دیا گیا ہے اور 349 رکنی پارلیمنٹ میں شکست خوردہ دائیں بازو کے اتحاد کو 173 نشتیں ملیں۔ جبکہ فاتح قرار پانے والے بائیں بازو کے اتحاد نے 176 نشستیں حاصل کیں ہیں۔ اور اب یہ قوی امکان ہے کہ بائیں بازو کی قیادت کرنے والی سب سے بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی اب حکومت سازی کی طرف بڑھے گی ۔

اگر ان انتخابات کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ سویڈن میں اس وقت انتہائی سیاسی تقسیم پائی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ملک کی سیاست بالکل نصف نصف میں تقسیم ہو چکی ہے اور کوئی بھی دھڑ ا کسی بڑے مینڈیٹ کا دعوئ نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے ہر سیاسی قدم بڑا سوچ سمجھ کر اُٹھانے کی ضرورت ہو گی۔ دوسرا یہ کہ انتخاب جیتنے والے اتحاد کے اندر بھی حکومت سازی پہ تضاد پایا جاتا ہے جس پر قابو پانے کے لیے سوشل ڈیموکریٹک لیبرپاڑٹی کی قائدانہ صلاحیتوں کو کڑے امتحان کا سامنا ہو گا۔ جیتنے والے بائیں بازو کے اتحاد میں چار جماعتیں شامل ہیں اور جنہوں نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی زیر قیادت حکومت تشکیل دینے کا عندیہ دے رکھا ہے۔ اس اتحاد میں سب سے بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی ہے جس نے 28 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں اور اس طرح یہ اس اتحاد کی ہی نہیں اس وقت سویڈن کی بھی سب سے بڑی جماعت ہے۔ لیکن اس کے باوجود سویڈن کی ایک سو سال سے زیادہ سیاسی تاریخ میں یہ اس پارٹی کا سب سے کم مقبولیت کا ریکارڈ بھی ہے۔ اس سے پہلے سوشل ڈیمو کریٹک لیبر پارٹی کی مقبولیت اتنی کم سطح پہ نہیں رہی۔ اسی اتحاد کی دوسری بڑی جماعت وینسترے ہے جو بائیں بازو کی جماعت ہے اس پارٹی کو 8.4 فی صد ووٹر کی حمایت ملی ہے۔ اس اتحاد کی تیسری بڑی جماعت سنٹر پارٹی ہے جسے فارمر پارٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کو 7 فی صد ووٹروں کی حمایت حاصل ہوئی ہے جبکہ اسی اتحاد کی چوتھی بڑی جماعت گرین پارٹی ہے جس کی مقبولیت 6 فیصد ہے۔

ان چاروں جماعتوں کو 176 نشستوں کی ساتھ سویڈش پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ جبکہ ان کے مخالف دائیں بازو کے اتحاد میں کنزوٹیو پارٹی 19.9 فیصد کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے جس کے پاس پچھلے چار سال سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ رہا ہے۔ جبکہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت سویڈن ڈیموکریٹس اس دفعہ مقبولیت کو کھوتے ہوئے 17.5 فی صد سطح پہ آ کر دوسری بڑی پارٹی بن پائی ہے۔ اس اتحاد کی تیسری بڑی جماعت کرسچن ڈیموکریٹ کو 6.2 فی صد ووٹ ملے ہیں جبکہ اسی اتحاد کی چوتھی بڑی جماعت لبرل پارٹی کو 5.3 فی صد ووٹروں کی حمایت ملی ہے۔ اس الیکشن کا اگر جائزہ لیا جائے تو دو باتیں بڑی واضع ہیں ایک تو یہ کہ ان انتخابات میں جس جماعت کی مقبولیت سب سے زیادہ کم ہوئی وہ تارکین وطن مخالف اور اینٹی مسلم نعرہ لگانے والی سویڈن ڈیموکریٹس ہے، جس کی مقبولیت میں تین فی صد کمی ہوئی ہے۔ اور اس پارٹی کی کم ہونے والی مقبولیت کو بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کو سویڈن یا سکنڈے نیویا ہی نہیں بلکہ یورپین تناظر میں پرکھا جا رہا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ کہ یورپ کے اندر انتہائی دائیں بازو کی سیاست کرنے والی تارکین وطن اور اسلام مخالف جماعتوں کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ جبکہ سویڈن میں اس بار تارکین مخالف جماعت کی مقبولیت میں واضح کمی ہوئی ہے اور اس کو کثیرالثقافتی اور کثیرالمذہبی نقطہ نظر سے مثبت گردانا جارہا ہے اور یہ تجزیہ سامنے آرہا ہے کہ اس جماعت کی طرف سے تارکین وطن مخالف نعروں سے شاید اب عوام اکتا چکے ہیں۔ یا پھر یہ کہ اس سوچ کے حامل افراد کی معاشرے میں اس سے زیادہ شرح نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک بات جو کہی جارہی وہ یہ بھی ہے کہ اب تارکین وطن پر جتنی سختیاں ممکن تھیں وہ ان پچھلے چار سالوں میں لگائی جا چکی ہیں۔ لہذا مزید تارکین وطن مخالف نعرہ میں وزن کم ہو رہا ہے۔ اسی طرح اس الیکشن کی جو دوسری نمایاں بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ان انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں کمی اور اضافہ جو ہوا ہے وہ ان دھڑوں کے اندر ہی ہوا ہے اور بہت ہی کم ووٹروں نے ایک اتحاد کو چھوڑ کر دوسرے اتحاد کو ووٹ دیا ہے۔ مثال کے طور پر بائیں بازو کے اندر سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تین جماعتیں جن کی مقبولیت میں اضافہ ہو ہے، وہ اضافہ مجموعی طور پر 2.9 فی صد ہے جبکہ اس اتحاد کی چوتھی پارٹی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کی مقبولیت میں 2.3 فی صد کمی ہوئی ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اس اتحاد میں سہ جماعتی 2.9 فی صد اضافہ میں 2.3 فی صد حصہ سوشلسٹ پارٹی سے چھینے گئے ووٹوں گا جبکہ صرف 0.6 فی صد اضافہ مخالف دائیں بازو کے اتحاد سے چھینی گئی ووٹوں پر مشتمل ہے، جو اس بات کی عکاسی ہے کہ بہت کم تعداد میں ووٹروں نے اتحادوں کے درمیان لکیر کو کراس کیا ہے۔ اسی طرح اگر دائیں بازو کے اتحاد میں شامل جماعتوں کی مقبولیت میں اضافے اور کمی کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کے اندر سب سے زیادہ مقبولیت میں کمی سے دوچار سویڈن ڈیموکریٹس ہوئی ہے جس کو 3 فی صد کم ووٹ ملے ہیں ۔ جبکہ باقی تین جماعتوں کی مقبولیت میں مجموعی طور پر 2.3 فی صد اضافہ ہوا ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دائیں بازو کے اتحاد اور موجودہ حکومتی اتحاد کے صرف 0.7 فی صد رائے دہندگان نے اتحاد سے ہٹ کر دوسرے اتحاد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ لہذا یہ کہا جاسکتا ہے دائیں اور بائیں اتحاد میں بہت کم ووٹروں نے دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کو مد نظر رکھ کر سیاسی ترجیح بدلی ہے۔ بلکہ دونوں اتحادوں کے اندر ہی ووٹروں نے اپنی جماعتوں کی ترجیح بدلی ہے۔

انتخابات میں سامنے آنے والے نتائج کے پیش نظر حکومت سازی کا مرحلہ بھی بہت گھمبیر دکھائی دے رہا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں یہ چہار جماعتی اتحاد دائیں بازو کے اتحاد کی مخالفت پر متفق ہے تو وہیں آپس میں بہت سے سیاسی تضادات کا بھی شکا ر ہے۔ مثال کے طور پر گرین پارٹی کی طرف سے نیوکلیر پلانٹ کی بندش کے مطالبہ پر دوسری جماعتوں کے سخت تحفظات ہیں۔ اسی طرح سنٹر پارٹی نے ببانگ بلند اعلان کر رکھا ہے کہ وہ بائیں بازو کی جماعت وینسترے کی حکومت میں شمولیت کی حمایت نہیں کرے گی ۔ ادھر انتخابات سے پہلے وینسترے نے بھی بڑے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ وہ بائیں بازو کے اتحاد کو اکثریت ملنے پر نئی تشکیل شدہ حکومت میں شامل ہو گی اور اپنا حصہ لے گی ۔ موجودہ نتائج کے مطابق وینسترے اس وقت بائیں بازو کے اتحاد کی دوسری بڑی جماعت ہے اور اس اتحاد کے اندر واحد جماعت ہے جس کی مقبولیت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ لہذا یہ بات  دکھائی دے رہی ہے کہ سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کی سربراہ اور متوقع وزیراعظم ماگدالینا اندرشن کے لیے حکومت سازی کا مرحلہ بہت ہی کٹھن ہو گا اور حکومت سازی کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔

اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو دائیں بازو کے اندر بھی ایسی صورتحال ہے جہاں سویڈن ڈیموکریٹس نے بھی کہہ رکھا ہے کہ وہ آئندہ بننے والی حکومت کا حصہ بنے گی اور صرف حمایت پر اکتفا نہیں کرے گی۔ گو ابھی موجودہ وزیراعظم کی طرف سے دائیں بازو کے لیے حکومت سازی کو خارج ازمکان ہی قرار دیا گیا ہے اور حتمی نتائج آنے پر وہ مستعفی ہو چکے ہیں ۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وہ سنٹر پارٹی کو جو اس وقت بائیں بازو کے اتحاد کا حصہ ہے، دعوت دیتے آئے ہیں کہ وہ دائیں بازو کے ساتھ آ کر حکومت میں شامل ہوں لیکن سنٹر پارٹی نے اسے رد کرتے ہوئے اسے ناممکن قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سنٹر پارٹی سویڈن ڈیموکریٹس کے ساتھ نہ تو حکومت میں شامل ہونا چاہتی ہے اور نہ ہی کسی ایسی مخلوط حکومت کا حصہ بننا چاہتی ہے جو سویڈن ڈیموکریٹس کی حمایت کے سہارے قائم ہو۔ لہذا صورتحال آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا والی ہے۔

سکنڈے نیویا میں مختلف نظریات اور سیاسی اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتوں میں وسیع تر قومی مفاد میں تعاون کرنے اور درمیان کا راستہ نکالنے کی روایات موجود ہیں لہذا توقع کی جا رہی ہے کہ مشکلات کے باوجود ضرور کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔ لیکن سوشل ڈیمو کریٹک لیبر پارٹی کو یہ سب کچھ ممکن بنانے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑے گی ۔ ناروے کے بر عکس سویڈن میں حکومت سازی ناممکن ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کے انعقاد کی گنجائش موجود ہے جو سیاسی جماعتوں کو نرمی دکھانے کا موجب بن سکتی ہے۔ کیونکہ تازہ انتخابات میں اچھی پوزیشن پانے کے بعد ایک نئے انتخابات کا خطرہ مول لینے کو سیاسی دانش تصور نہیں کیا جاتا کیونکہ حد سے زیادہ ہٹ دھرمی دکھانے والی جماعت سے ووٹر منہ بھی موڑ سکتے ہیں۔ لہذا کسی بھی جماعت کے لیے اس پہلو کو نظر انداز کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ اور یہ ایک ایسا دباؤ ہوتا ہے جو جماعتوں کو افہام و تفہیم پر مجبور کرتا ہے جس سے مشکل ترین حالات میں سے بھی کوئی راہ نکال لی جاتی ہے۔ ابھی تک متوقع وزیر اعظم کی طرف سے کوئی واضح مذاکراتی حکمت عملی سامنے نہیں آئی لیکن قرائن یہی ہیں کہ نئی بننے والی حکومت چہار جماعتی مخلوط اکثریتی حکومت نہیں ہوگی بلکہ دو جماعتی یا پھر یک جماعتی اقلیتی حکومت ہو گی جو پارلیمنٹ کے اندر حمایتی جماعتوں کی حمایت سے تشکیل پائے گی اور جس کے لیے حکومت کو کچھ بنیادی اصولوں پر مبنی ایک معاہدہ طے کرنا ہو گا۔ سکنڈے نیوین روایات کے مطابق ایسا معاہدہ حکومت کےلیے زیادہ سود مند نہیں ہوتا بلکہ حکومت کو پارلیمانی حمایت کی خاطر اکثر ان جماعتوں کو اُن کے حجم سے زیادہ مراعات دینی پڑتی ہیں اور یہی چیز ان جماعتوں کے لیے حمایت کی موجب ہوتی ہے۔

بہرحال ابھی اس کے بارے رائے مذاکرات کے آغاز پر ہی دی جاسکے گی۔ لیکن سویڈن کے حالیہ انتخابات نے ایک ایسی غیر یقینی صورتحال کی فضا کی بنیاد رکھی ہے جو اگلے انتخابات تک ایسے ہی برقرا رہے گی اور جس کے اثرات ملکی نظام اورمعیشت پر گہرے اثرات چھوڑیں گے ۔ لہذا یہ قیاس عام ہے کہ سویڈن میں آئندہ بننے والی حکومت ایک کمزور حکومت ہو گی اور طاقت کا سر چشمہ پارلیمنٹ ہو گی ۔ لیکن حکومت کے مدت پوری کرنے کو بھی رد نہیں کا جا سکتا کیونکہ اس وقت یوکرائن جنگ کی وجہ سے یورپ پر جو سیاسی، معاشی، دفاعی اور غیر یقینی کے چھائے ہوئے سیاہ بادلوں کے پیش نظر قومی سیاسی عدم استحکام سے اجتناب ہر طرح اول ترجیح بنی ہوئی ہے۔ لہذا سویڈن کے ارباب اقتدار اور سیاسی اکابرین بھی اس حقیقت سے غفلت برتنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔