مکہ پر حملہ اور معاہدہ مکہ

سعودی عرب کی طرف سے اس اعلان کے بعد کہ یمن کے حوثیوں نے مکہ معظمہ پر میزائل سے حملہ کرنے کی کوشش کی جسے ناکارہ بنا دیا گیا ، اب کم از کم پاکستان کی حد تک یہ بحث ہونے لگی ہے کہ کیا حال ہی میں سعودی عرب،  ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے پر عمل کرنے کا وقت آگیا ہے؟  پاکستان کے کسی سرکاری ترجمان نے اس کا براہ راست جواب نہیں دیا۔

البتہ  وزیر دفاع خواجہ آصف اور دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ’حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا‘۔ ترجمان نے واضح کیا کہ  ’مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک گھناؤنا اور انتہائی تشویشناک اقدام ہے جس سے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب کی خودمختاری، امن اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے برادر ملک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔  پاکستان سعودی عرب کے شہری علاقوں اور تنصیبات پر حوثی شدت پسندوں کے حملوں کی پرزور مذمت کرتا ہے‘۔  پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے  مکہ معاہدے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔  البتہ پاکستان نے مکہ معاہدہ  کے نام سے  مشہور  سہ فریقی معاہدے کے علاوہ   سعودی عرب کے ساتھ گزشتہ ستمبر میں دو طرفہ دفاعی معاہدہ بھی کررکھا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد بھی یہی بتایا گیا تھا کہ  ایک ملک پر حملہ دوسرے پر  حملہ تصور کیا جائے گا۔

تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف نے موجودہ تنازعہ پر  بات کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں  کہا ہے کہ  اگر سعودی عرب کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو مکہ معاہدہ فعال ہوسکتا ہے۔ گویا پاکستان کی حکومت یہ اشارہ دے رہی ہے کہ پاکستانی فوج ضرورت پڑنے پر سعودی عرب کی اعانت  کے لیے تیار ہوگی۔ اس بارے میں اگرچہ سرکاری  طور پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی لیکن آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے حال ہی میں سعودی میڈیا العربیہ  کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مکہ معاہدہ کی دفاعی حیثیت کو واضح  کرنے کی کوشش کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر خود حفاظتی کے اصول پر  استوار ہے ۔ پاکستان یا اس معاہدے میں شامل کسی فریق کے کوئی ریجنل توسیعی عزائم نہیں  ہیں۔ تاہم موجودہ صورت حال  میں سعودی عرب کی امداد کرنے یا فوجی اعانت فراہم کرنے کے سوال  براہ راست سوال کے جواب میں جنرل شریف کا کہنا تھا کہ ایسا تعاون  مشترکہ طور سے تیار کیے گئے میکنزم کے تحت انجام پاتا ہے۔ ایسے اقدمات کے بارے میں نہ تو اعلان کیے جاتے ہیں اور نہ ہی انہیں مشتہر کیا جاتا ہے۔ اس بیان کے بین السطور یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ پاکستانی فوج صورت حال کی نزاکت سے آگاہ ہے اور اگر معاملہ حرمین الشریفین کی حفاظت کا ہؤا تو کسی بھی قسم کی عسکری امداد  میں کوتاہی نہیں کی جائے گی۔

ترکیہ میں بھی اس سوال پر بحث ہورہی ہے اور سوال کیا جارہا ہے کہ کیا ترکیہ کی فوج  مکہ معاہدہ کی وجہ سے  ’یمن کی دلدل‘ میں پھنس جائے گی۔  البتہ ترکیہ کی حکومت نے بھی حوثیوں کی جارحیت کی مذمت کے علاوہ  کسی قسم کے دفاعی  تعاون اور حالیہ معاہدے کے  تحت عملی کردار ادا کرنے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اگرچہ  پاکستان کی طرح وہاں بھی میڈیا اس سوال پر ہر پہلو سے بحث کررہا ہے اور بیشتر  تجزیہ نگار  متنبہ کررہے ہیں کہ ترکیہ کو اس جنگ میں شریک ہونے سے بچنا چاہئے۔  البتہ یہی لگتا ہے کہ اگر حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ حرمین شریفین کو براہ راست خطرہ لاحق ہؤا تو شاید  پاکستان کی طرح ترکیہ کے لیے بھی لاتعلق رہنا آسان نہ رہے۔ یہاں  معاملہ کا یہ پہلو فراموش نہیں کیاجاسکتا کہ   سعودی عرب نے ابھی تک مکہ معاہدہ یا پاک سعودی   دفاعی معاہدہ کے تحت  کسی قسم کی امداد طلب نہیں کی ہے۔ البتہ  ایک امریکی خبر رساں ادارے   نے یہ خبر ضرور دی تھی  کہ سعودی ولی عہد  محمد بن سلمان نے  صدر ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کی تھی لیکن ٹرمپ  جنگ کو  مزید پھیلانے پر راضی نہیں ہوئے۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے دورہ آئرلینڈ کے موقع پر کہا تھا کہ ’حوثیوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے ۔ وہ امریکہ کے ساتھ کسی تصادم کی خواہش نہیں رکھتے‘۔

امریکی نیوز ایجنسی کی خبر اور صدر ٹرمپ کے بیان کو متعدد تجزیہ نگار   پاکستان میں یوں بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ امریکہ نے مشکل وقت  میں سعودی عرب کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ اب وہ تنہا رہ گیا ہے۔ معروضی حالات میں یہ تجزیہ سطحی اور  کمزور ہے۔ ایک تو امریکہ یا سعودی عرب نے سرکاری طور سے فوجی تعاون کے حوالے سے باہمی بات  چیت کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ امریکی نیوز ایجنسی کی خبر کس حد تک درست ہے۔ یہ  فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایک سنگین جنگی صورت حال کا سامنا کررہا ہے۔ جنگ میں ہر فریق اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق بعض حقائق چھپانے اور بعض جھوٹ پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے نفسیاتی جنگی ہتھکنڈے بھی کہا جاتا ہے اور ان کا مقصد دشمن کو فریب دے کر ایسا وار کرنا ہوتا ہے جس کے لیے وہ تیار نہ ہو۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا  ’ایکسیوس‘ کی خبر  حقیقی صورت حال پر مشتمل  ہے یا اسے کسی خاص مقصد کے لیے عام کیا گیا ہے۔ اس دوران متعدد اعلیٰ امریکی فوجی جنرل سعودی عرب جا کر حوثیوں کی جارحیت اور خطرے کے بارے میں منصوبہ بندی میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

یہ جاننا بھی اہم ہے کہ حوثی اگرچہ یمن کے نصف علاقے پر قابض ہیں اور پہاڑی علاقوں میں ٹھکانوں کی وجہ سے  انہیں مستقل طور سے  تباہ کردینا  یا شکست دے کر ان سے مقبوضہ علاقوں کو واگزار کرالینا بھی آسان نہیں  ہے لیکن اس کے باوجود  ان کے پاس ایسے عسکری  یامالی وسائل نہیں ہیں کہ وہ سعودی عرب جیسی طاقت کا مقابلہ کرسکیں۔ اس فتنہ سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کو کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ البتہ حالیہ  جنگی طریقوں میں میزائل اور ڈرون کے استعمال کے سبب بعض کمزور اور کم وسیلہ فریق بھی مخالف کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایران جنگ  سے پہلے یوکرین جنگ میں بھی اس کا مشاہدہ کیا جاچکا ہے۔ یوکرین کو اگرچہ  یورپ و امریکہ کی امداد حاصل ہے لیکن وہ  بنیادی طور پر ڈرون و میزائل ہی کی وجہ سے روس کو اپنے ملک پر قابض ہونے سے روک پایا  ہے۔ اسی طرح ایران بھی کوئی بڑی عسکری طاقت نہ ہونے کے باوجود  امریکہ کو ناکوں چنے چبو راہا ہے ۔ ایک میزائل آبنائے ہرمز یا مشرق وسطیٰ میں سنسنی اور بے یقینی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس پس منظر میں یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے سعودی عرب  نے اس جنگ میں براہ راست فریق بننے سے گریز کیا ہے۔ اس کی قیادت امریکہ کو بھی مسلسل یہ مشورہ دیتی رہی ہے کہ اس جنگ کو پھیلانے کی بجائے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ سعودی عرب نے  ایرانی لیڈروں کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ رکھا ہے اور باہمی افہام و تفہیم سے معاملہ طے کرنے کی ضرورت  پر زور دیا ہے۔  موجودہ حالات میں بھی ریاض اس پالیسی کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ اور نہ ہی  ایران کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ دیا گیا ہے کہ  اس نے اب سعودی عرب کو ’دشمن‘ قرار دے کر ہدف بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حوثیوں کے  حالیہ حملوں کے بعد بھی تہران  نے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا اگرچہ ایرانی میڈیا میں حوثیوں کی ’کامیابیوں‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور  مغربی میڈیا بھی  حوثیوں کو ایران کی پراکسی قرار دیتا ہے۔

لگتا ہے  کہ امریکہ کے ساتھ عسکری تنازعہ میں پھنسے ہوئے ایران کی  حکمت عملی    یہ ہے کہ دنیا میں مالی بحران پیدا کرکے دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ہی آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک کو  روکا جاتا ہے اور اب آبنائے باب  المندب  میں ہراسانی پیدا کرکے یہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش  کی جارہی ہے۔ اگر  حوثیوں کو ایران کے حلیف   ہونے  کی وجہ  سے  متحرک سمجھا جائے تو یہ بھی جاننا چاہئے کہ سعودی عرب ان کا ہدف نہیں ہے بلکہ  باب المندب سے سعودی تیل کی سپلائی روک کر عالمی مالی بحران  پیدا کرنا ان کا اور ایران  کا اصل مقصد ہے۔   اس کے لیے ہونے والی کوششوں میں سعودی  عرب بالواسطہ نشانہ بنا ہے۔ یا حوثی سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ عداوت کا انتقام لینے  کی خواہش رکھتے ہیں۔

جنگی حالات میں ایک غلط فیصلہ یا اندازہ حالات کی شکل تبدیل کرسکتا ہے ۔ اس لیے  حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف جنگ جوئی میں اس عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ بادی النظر میں کوئی فریق بھی براہ راست طویل المدت جنگ کی طرف  نہیں بڑھنا چاہتا۔ مکہ معظمہ  پر میزائل  پھینکنا یا عراق سے سعودی آئل پائپ لائن پر حملہ ، ایسے ہی غلط اندازوں  یا فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ  فریقین اس بحران سے نکل آئیں گے۔ تاہم اگر یہ جنگ پھیلتی ہے اور سعودی عرب  میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کوئی بھی مسلمان ملک  ایران  کے حمایت یافتہ گروہوں  کی طرف سے ایسی کوشش کی حمایت نہیں کرے گا۔ مکہ معاہدہ ہو یا نہ ہو پاکستان کو پھر سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہی پڑے گا۔