انتظامی یونٹس کا قیام اور عوام
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- جمعہ 18 / ستمبر / 2026
ملک میں صوبوں کی تعداد بڑھانے یا مزیر انتظامی یونٹس بنانے کی بحث اب کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچنے والی ہے۔ یقیناً حکومت عوام اور پارلیمان کی مشاورت سے یہ اونٹ کسی نہ کسی کروٹ ضرور بیٹھے گا۔ بہرحال نت نئے تجربات کی بجائے ماضی کی صورت حال اور مستقبل کے خدشات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ بڑھتی ہوئی آ بادی ملکی مسائل بے روزگاری اور مہنگائی پر قابو پانے کے لئے بھی مزید انتظامی یونٹس کا ہونا اب وقت کی ضرورت ہے۔ بلدیاتی نظام کی بدولت عوام کی دہلیز پر سہولیات پہنچانے میں آ سانی ہوتی ہے اور ماضی میں اس نظام کے ثمرات آور مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں مگر بعض حکومتی اور سیاسی وجوہات کی وجہ سے بلدیاتی نظام کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔
برطانیہ سمیت اکثر ترقی یافتہ ممالک میں یونین کونسل اور ٹاؤن کمیٹیوں کے ذریعے عوام کی بنیادی سہولتوں اور ان کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔
صفائی ستھرائی اور دیگر معاملات زندگی درست سمت میں چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم بھی احساس محرومی سے بچاتی ہے۔ اور پارلیمان کے پاس قانون سازی کے مواقع زیادہ میسر ہوتے ہیں۔
ہمارے ہاں سیاسی منافرت اور مخالفت کی وجہ سسے پارلیمان مچھلی بازار کا منظر پیش کرتے نظر آ تے ہیں۔ وفاق اور مرکز کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ دفاع، کرنسی اور خارجہ و داخلہ پالیسی پر تمام صوبوں کا ہم آ ہنگ ہوں۔ جبکہ صوبائی خود مختاری اور صوبوں کو ان کا حق دینا وفاق کی ذمہ داری ہے۔ صوبے اپنا ریونیو بھی بڑھائیں اور اخراجات بھی خود کریں تب ہی معاملات صحیح سمت میں چل سکتے ہیں۔
عوامی مسائل کو جلد حل کرنے اور وسائل کی کمی کو دور کرنے کے لئے مزید انتظامی یونٹس بنانے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اچھی بات یہ ہے حکومت نے اس سلسلے میں سیاسی رہنماؤں پارلیمان اور عوام کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتظامی یونٹس کا قیام بلاشبہ کسی جماعت صوبے یا شہر کی بالادستی کے خلاف نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد وسائل میں اضافہ اور عوامی مسائل کو بروقت حل کرنا ہے۔ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول آ زاد کشمیر میں عوام کے ساتھ ساتھ حکومت اور انتظامیہ کو بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ شکوہ بھی ہے کہ مراعات اور سہولیات اور انعام واکرام کی بارشیں چند شہروں اور ان کے مکینوں کے لئے مخصوص ہیں جبکہ دیگر شہر ان سہولتوں سے یکسر محروم ہیں۔
سرائیکی وسیب میں بھی ایک عرصے سے احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے یقیناً جنوبی پنجاب کے عوام کا دیرینہ مطالبہ بھی ہورا ہو سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا قیام بھی عوامی محرومیوں اور مسائل کے خاتمے میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکا اور عوام مسائل کے حل کےلئے ابھی بھی تخت لاہور کی دست نگر ہیں۔
پنجاب حکومت کی طرف سے حال ہی میں الیکٹرونک بسوں کا تحفہ بھی ملا ہے جبکہ ملتان کے میگا سیوریج پراجیکٹ پر کام بھی جاری ہے۔ ملتان کے علم اور ادب دوست کمشنر عامر کریم خان کی ذاتی کوششوں اور فالو اپ کی وجہ سے ملتان ایونیو اور دیگر ترقیاتی منصوبوں بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ ملتان کی قدیم تاریخی میونسپل کارپوریشن کی لائیبریری کو بھی جدیدیت کے ساتھ بحال کیا جارہا ہے جہاں شہریوں کو کیفے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ اسی طرح اگر مزید انتظامی یونٹس بھی قائم ہوتے ہیں تو دیگر شہروں کے شہری بھی اس قسم کی سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
کسی بھی ملک کی خوشحالی کے لئے ٹیکس کی وصولی بہت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے کوئی بھی حکومت ٹیکس گزاروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکی۔ ترقی یافتہ ممالک میں شہری از خود ٹیکس دیتے ہیں اور اس کے عوض شہری سہولیات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں ٹیکس دینے کی بجائے ٹیکس چھپانے اور بچانے کے طریقے تلاش کئے جاتے ہیں۔ ایک عرصہ سے صرف سرکاری ملازمین اور گنے چنے طبقے ہی ٹیکس دے کر ملک کی بھاری بھر کم معیشت کا بوجھ اٹھانے ہوئے ہیں۔ ملکی معیشت کو بہتر کرنا اور ٹیکس کا نیٹ ورک وسیع کر کے ملکی خزانہ بھرنا ہی دراصل وزیر خزانہ اور وزارت خزانہ کی اولین ذمہ داری ہے۔
انتظامی یونٹس کے قیام میں اس اہم نکتے کو بھی مد نظر رکھنا چائیے کہ ہر انتظامی یونٹ ٹیکس کی وصولی اور ریونیو بڑھانے میں اپنا اہم مثبت اور فعال کردار ادا کرے۔ ہمارے بلدیاتی ادارے ایک عرصے سے غیر فعال ہیں انہیں فعال کرنے کے لئے انتخابات کا انعقاد بھی ضروری ہے چائیے۔ یہ غیر جماعتی بنیادوں پر ہی کیوں نہ ہوں۔ بلدیاتی انتخابات سے ملک میں ایک صحت مند مقابلے کی فضا بھی پیدا ہوگی اور عوام بھی اپنے ووٹ کے حق کو استعمال کر کے مطمئن ہوں گے۔
بلدیاتی اداروں کے فعال ہونے سے صفائی اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے مسائل حل ہوں گے۔ عوامی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے می آسانی ہوگی اور مہنگائی کو بھی کنٹرول کیا جا سکے گا۔ جس کے لئے مشاورتی اور نگران عوامی کمیٹیاں فعال کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اسی طرح مختلف شہروں کی بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی مقامی سطح پر اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔
حکومت پارلیمان اور عوام کو ایک پیج پر اکھٹے ہو کر انتظامی یونٹس کے قیام کے اس اہم عمل اور مسئلے پر اپنا اپنا مٹبت کردار ادا کرنا چاہیے کہ مشاورت اور ڈائیلاگ ہی تمام ملکی اور قومی مسائل کا بہترین حل ہے:
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے