اس تکیہ کلام کو بدلیں

پاکستان کے بارے میں جب یہ بات کوئی کہتا ہے کہ فلاں کام کی وجہ سے پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے تو جی چاہتا ہے اس کا منہ توڑ دوں۔ کوئی چیز بھی اب پاکستان کو توڑ نہیں سکتی۔ جب یہ بات کہی جائے تو پھر یہ بھی کہا جاتا ہے، کیا ملک ٹوٹا نہیں تھا۔ ایک حصہ علیحدہ نہیں ہوا تھا؟

ہاں ہوا تھا، مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تھا لیکن اس وقت زمینی حقائق اور کیمسٹری بہت مختلف تھی، دونوں حصوں کے درمیان ایک ہزار کلومیٹر کا فاصلہ اور درمیان میں سمندر، اس یکجہتی کو کمزور کرنے کا باعث بنا۔ پھر دونوں حصوں کے عوام میں وہ لسانی و ثقافتی روابط بھی نہیں تھے۔یہ بھی درست ہے کہ کچھ حکومتی پالیسیاں اور معاشی محرومیاں بھی درمیان میں تھیں، سب سے بڑی بات اس حقیقت کو بھی نظر انداز کیا گیا تھا جو جمہوری حوالے سے زمین پر موجود تھی۔پاکستان ٹوٹ گیا تھا مگر پھر ہم نے بہت سی چیزوں کو درست بھی کیا، آئین بنایا، فیڈریشن بنائی، چار صوبے بنائے اور ایک نظام کو جاری و ساری کیا۔ اس کے مثبت اثرات بھی نکلے اورمنفی نتائج بھی آئے۔ اس میں خامیاں بھی رہیں اور خوبیوں نے بھی جنم لیا۔ سب کچھ اپنی جگہ پر مگر یہ بات بے بات کہہ دینا کہ فلاں عمل کرکے ملک کو تقسیم کرنے کی سازش یا کوشش کی جا رہی ہے، میرے نزدیک پرلے درجے کی سفاکی ہے۔

 کیا پاکستان کوئی کیک ہے جسے جب چاہے کوئی تقسیم کردے۔ ارے نہیں بھائی ملک کے چاروں صوبوں میں ایک ہی قوم بستی ہے، ہم چند فیصد لوگوں کی سرگرمیوں کو سامنے رکھ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ ملک کو تقسیم کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک رہنا ہے اور چاروں اکائیاں بشمول آزادکشمیر و گلگت بلتستان یہ ایک گلدستہ ہے جس کے ہر پھول کی حفاظت 25کروڑ عوام کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اگر دوسرے صوبے میں جاتا ہے تو یہ اس کا حق ہے تاہم اگر سیاسی معاملات کے حوالے سے کسی صوبے کی انتظامیہ اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش کہہ دیا جائے۔ اوّل تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ پنجاب حکومت چند سو یا چند ہزار لوگوں کے جمع ہونے سے اتنی خوفزدہ کیوں ہو جاتی ہے۔ کیوں صوبے کی وزیراطلاعات کو بار بار ایسی ویڈیوز شیئر کرنا پڑتی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو لاہور میں بندے نہیں مل رہے۔ بندے ملیں گے کیوں نہیں ملیں گے۔ ایک سیاسی جماعت ہے جس کی زمینی حقیقت موجود ہے، جس کے منتخب صوبائی ارکان بھی پنجاب اسمبلی میں موجود ہیں، وہ اگر چند ہزار لوگ باہر لے آتی ہے تو کون سا ریفرنڈم ہو گیا ہے۔ اس مصنوعی سوچ سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔ سب کو پتہ ہے کون اس وقت کہاں کھڑا ہے۔ ایک ایسا ماحول بنانے کی کیا ضرورت ہے کہ جس میں خوامخواہ دوسرے کو اہمیت ملنا شروع ہو جائے۔

پھر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی اس با ت کو تکیہ کلام بنانے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں اگر روکا گیا ہے، کارکنوں کو پکڑا یامارا گیا ہے تو یہ ملک توڑنے کی سازش ہے۔ یہ سب ایک سیاسی کھیل تماشہ ہے۔ یہ بات بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ وزیراعلیٰ جیسا بڑا حکومتی عہدیدار کسی صوبے کی بہت بڑی ذمہ داری بھی ہوتا ہے۔ اگر فرض کریں پنجاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو کچھ ہوجاتا ہے تو کتنا بڑا طوفان آئے گا؟ پنجاب حکومت یہ نہیں کہہ سکتی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سیکیورٹی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ لاکھ انکار کریں، ذمہ داری تو پھر بھی صوبے کی بنتی ہے۔ سہیل آفریدی جب لاہور میں پولیس والوں کو کہہ رہے تھے آپ واپس چلے جائیں، مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے تو خطرہ ہی آپ سے ہے۔ میرے نزدیک یہ اس نظام کی حدود کو پار کرنے کے مترادف ہے، جس میں سارے انتظامات چل رہے ہیں۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف جو بہت بڑی سیاسی جماعت ہے،اس وقت ایک وزیراعلیٰ میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ وہ سندھ جائے، پنجاب جائے تو سٹریٹ موومنٹ ہوتی ہے۔ اس بڑی جماعت کے عہدیدار کہاں ہیں۔ ارکان اسمبلی کدھر چھپے ہوئے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کی موجودگی میں بھی باہر نہیں آتے۔

یہ درست ہے کہ سختیاں بہت ہیں۔ پولیس گھروں میں داخل ہوجاتی ہے۔ گزشتہ دنوں پولیس کوٹ لکھپت جیل میں بند پی ٹی آئی کے رہنما محمود الرشید کے گھر داخل ہوئی اور ان کی اہلیہ کے ساتھ بھی بدتمیزی کی، جس پر جناب مجیب الرحمن شامی نے بھی تأسف کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی توجہ اس کا نوٹس لینے کی طرف دلائی، لیکن جدوجہد تو پھر قربانیاں مانگتی ہے۔ کیا ایک جماعت کو صرف کسی صوبے کا وزیراعلیٰ پورے صوبے میں متحرک کر سکتا ہے جبکہ باقی ساری قیادت سوئی رہے۔

بات شروع ہوئی تھی اس نکتے سے سیاسی اقدامات یا سیاسی معاملات کی وجہ سے ہم یہ کہنا کیوں شروع کر دیتے ہیں کہ ملک کو توڑنے کی سازش ہو رہی ہے۔ نئے صوبوں کی بات ہونے لگے تو یہی راگ شروع ہو جاتا ہے۔ کسی صوبے کا وزیراعلیٰ اپنے مسائل کے حوالے سے کوئی دکھ بیان کر دے تو یہی بات کی جاتی ہے، کسی دہشت گردی کو روکنے کیلئے کہیں سختی ہو تو شامت بے چارے پاکستان کی آ جاتی ہے کہ اسے توڑا جارہا ہے۔ذرا ذرا سی بات پر اس اضافہ تراشی کو بند ہونا چاہیے۔ ہاں درست ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں۔ کیا حالات خراب ہوں گے تو اس کامطلب صوبہ ملک سے علیحدہ ہو جائے گا۔ کیا بھارت میں کئی صوبے علیحدگی پسندوں کی لپیٹ میں نہیں ہیں۔ کیا وہاں آئے روز یہ گردان کی جاتی ہے کہ بھارت کو توڑنے کی سازش ہو رہی ہے۔

 کیا اس بات کو فارمولا بنایا جا سکتا ہے کہ جہاں چند گروہ اکٹھے ہو کر امن و امان کی صورتِ حال خراب کر دیں، وہاں ملک ٹوٹنے کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے عناصر کی دنیا بھر میں سرکوبی کی جاتی ہے، ناکہ انہیں سرپر سوار کرلیا جائے۔ یہ ہمارے سیاسی نمائندوں کی کمزوری ہے کہ وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور دہشت گرد ان سے آگے نکل جاتے ہیں۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت اتنی غیر فعال کیوں ہے، سامنے کیوں نہیں آتی اوریہ واضح بیان کیوں نہیں دیتی کہ مٹھی بھر دہشت گرد ہماری سلامتی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

 اب یہ گھسا پٹا ناٹک بند ہونا چاہیے کہ اونچی سانس لینے سے بھی پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ پاکستان تاابد قائم رہے گا اور اس کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)