سی ایس ایس امتحان: میرٹ کی سیڑھی یا وقت کے ساتھ بدلنے کی ضرورت؟
- تحریر ضمیر آفاقی
- جمعہ 18 / ستمبر / 2026
پاکستان میں مقابلے کا امتحان محض ایک امتحان نہیں بلکہ اس نوجوان کے خواب کی علامت ہے جو کسی سیاسی خاندان، جاگیردارانہ پس منظر، سرمایہ دارانہ طاقت یا سفارش کے بغیر اپنی قابلیت اور محنت کے ذریعے ریاست کے اہم ترین انتظامی عہدوں تک پہنچنا چاہتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں جہاں طاقت کے مراکز تک رسائی ہر شہری کے لیے آسان نہیں، وہاں یہ امتحان میرٹ کی وہ سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر ایک عام گھر کا بچہ بھی بڑے عہدے تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے سی ایس ایس کے امتحان کو صرف ایک امتحانی نظام سمجھنا درست نہیں۔ یہ ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کا امتحانی نظام اس پاکستان کی ضروریات پوری کر رہا ہے جو تیزی سے بدل رہا ہے؟
پاکستان میں سول انتظامیہ کا موجودہ ڈھانچہ نوآبادیاتی دور کی انتظامی روایت سے نکلا ہے۔ آزادی کے بعد اس نظام میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں کی گئیں۔ 1973 کی سول سروس اصلاحات کے بعد مختلف انتظامی شعبے اور گروپ قائم ہوئے اور مقابلے کے امتحان کے ذریعے اعلیٰ سرکاری افسران کے انتخاب کا موجودہ تصور مضبوط ہوا۔ لیکن گزشتہ نصف صدی میں دنیا بدل گئی ہے۔ آج حکومتیں صرف فائلوں، دفاتر اور روایتی انتظامی طریقوں سے نہیں چلتیں۔ آبادی میں اضافہ، شہروں کا پھیلاؤ، بے روزگاری، مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی، پانی کا بحران، صحت، تعلیم، جرائم، سائبر خطرات اور نئی ٹیکنالوجی نے حکمرانی کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہمارا انتخابی امتحان بھی اسی رفتار سے تبدیل ہوا ہے؟
حالیہ اعدادوشمار اس بحث کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ رواں سال مقابلے کے امتحان کے لیے 24 ہزار 321 امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائیں۔ 17 ہزار 351 امیدوار کم از کم ایک پرچے میں شریک ہوئے، جبکہ صرف 476 امیدوار تحریری مرحلہ کامیاب کر سکے۔ یعنی تحریری امتحان میں کامیابی کی شرح تقریباً 2.74 فیصد رہی۔ گزشتہ سال بھی صورتحال تقریباً یہی تھی۔ 2025 میں 18 ہزار 139 امیدواروں نے درخواست دی، 12 ہزار 792 امیدوار تحریری امتحان میں شریک ہوئے اور تقریباً 350 امیدوار تحریری مرحلہ عبور کر سکے۔ آخرکار تمام مراحل مکمل کرنے والوں میں سے بھی محدود تعداد ہی کو سرکاری ملازمت اور مختلف گروپوں میں جگہ مل سکی۔
یہ اعدادوشمار کسی ایک سال کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تحریری امتحان پاس کرنا اور سرکاری عہدہ حاصل کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ محدود نشستوں، قومی و صوبائی حصوں اور مختلف گروپوں کی دستیاب جگہوں کے باعث بہت سے امیدوار تمام مراحل کامیابی سے طے کرنے کے باوجود مطلوبہ ملازمت حاصل نہیں کر پاتے۔ یعنی ایک نوجوان کئی سال اپنی تعلیم، تیاری اور خواب کے ساتھ اس امتحان میں آتا ہے، تحریری مرحلہ طے کرتا ہے، گفتگو اور شخصیت کے امتحان سے گزرتا ہے، لیکن آخر میں چند نشستوں کی کمی کے باعث اس کی تمام صلاحیتیں ریاست کے کام نہیں آتیں۔ یہاں سے اصلاح کی ایک بڑی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
میرا سوال یہ نہیں کہ سی ایس ایس میں کامیابی کی شرح کیوں کم ہے۔ مقابلے کا امتحان یقیناً مشکل ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم مشکل امتحان کے ذریعے بہترین افسر تلاش کر رہے ہیں یا صرف بہترین امتحانی امیدوار؟دونوں میں فرق ہے۔ ایک شخص بہت اچھی تحریر لکھ سکتا ہے، مشکل سوال کا خوبصورت جواب دے سکتا ہے اور امتحانی تکنیک میں ماہر ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ایک اچھا منتظم بھی ثابت ہو۔ اسی طرح ایک نوجوان جو کسی سرکاری یا مہنگے نجی تعلیمی ادارے کے بجائے عام کالج اور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتا ہے، ممکن ہے کہ اس کی انگریزی اتنی رواں نہ ہو، مگر اس میں مسائل کو سمجھنے، حالات کا تجزیہ کرنے، لوگوں سے رابطہ کرنے اور فیصلے کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہو۔ لہٰذا انگریزی کو قابلیت کا واحد پیمانہ بنانا انصاف نہیں۔ انگریزی ضرور آنی چاہیے کیونکہ ریاستی معاملات میں اس کی عملی ضرورت موجود ہے، لیکن انگریزی جاننا اور ذہین ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔
ہمارے امتحانی نظام میں اردو اور علاقائی زبانوں سے آنے والے نوجوانوں کو بھی برابر مواقع ملنے چاہئیں۔ سوالات ایسے ہونے چاہئیں جن سے امیدوار کے علم، فہم، تجزیاتی صلاحیت، قومی مسائل کے ادراک اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سامنے آئے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ایک افسر سے عملی زندگی میں کیا توقع کی جاتی ہے۔ فرض کریں کسی ضلع میں ٹریفک کا بحران ہے۔ اسپتال میں بچوں کی اموات بڑھ رہی ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کم ہے۔ کسی علاقے میں جرائم بڑھ رہے ہیں۔ بازار میں اشیائے ضروریہ مہنگی ہو رہی ہیں۔ سیلاب آ گیا ہے۔ ایسے حالات میں افسر کو کتاب کی تعریف نہیں بلکہ فیصلہ، ترجیح، انتظام اور انسانی رویے کی ضرورت ہوگی۔ لہٰذا امتحان میں بھی حقیقی زندگی کے مسائل کو شامل کرنا چاہیے۔
میری تجویز ہے کہ سی ایس ایس کے امتحان میں پانچ بنیادی تبدیلیاں کی جائیں:
پہلی تبدیلی: نصاب کا باقاعدہ جائزہ۔
ہر تین سے پانچ سال بعد ماہرین تعلیم، انتظامیہ، معیشت، قانون، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کے ماہرین پر مشتمل ایک آزاد کمیٹی نصاب کا جائزہ لے۔ نئے دور کے مسائل کو شامل کیا جائے اور غیر ضروری رٹنے والے مواد کو کم کیا جائے۔
دوسری تبدیلی: سوالات کا انداز تبدیل کیا جائے۔
امتحان میں ایسے سوالات بڑھائے جائیں جن میں امیدوار سے کسی مسئلے کا حل، پالیسی کی تجویز یا عملی حکمت عملی طلب کی جائے۔ اس سے رٹے ہوئے جوابات کے بجائے سوچنے والے امیدوار سامنے آئیں گے۔
تیسری تبدیلی: جانچ کا نظام زیادہ شفاف بنایا جائے۔
تحریری پرچوں کی جانچ میں شناخت چھپانے، دوہری جانچ، نمونہ پرچوں کی دوبارہ جانچ اور معیار کی باقاعدہ نگرانی کا نظام مضبوط کیا جائے۔ امیدوار کو کم از کم اتنی معلومات ضرور ملنی چاہئیں کہ اسے معلوم ہو سکے کہ اس کی کارکردگی کہاں کمزور رہی۔
چوتھی تبدیلی: انگریزی کے ساتھ فہم کو اہمیت دی جائے۔
زبان کو رکاوٹ کے بجائے ذریعہ بنایا جائے۔ امیدوار کی سوچ، مطالعہ، تجزیہ، دلیل اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھے۔
پانچویں اور انتہائی اہم تبدیلی: کامیاب مگر محروم امیدواروں کے لیے راستہ۔
جو نوجوان تمام بنیادی معیار پورا کر لیتے ہیں مگر محدود نشستوں کے باعث کسی گروپ میں جگہ نہیں بنا پاتے، ان کے لیے ایک قومی صلاحیت فہرست بنائی جا سکتی ہے۔ متعلقہ قواعد کے تحت وفاقی اور صوبائی محکموں میں موجود موزوں خالی آسامیوں کے لیے ایسے امیدواروں کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
آخر ہم ایک عجیب صورت حال سے کیوں دوچار رہیں کہ ریاست ایک طرف ہزاروں نوجوانوں کو امتحان کے لیے تیار ہونے دیتی ہے، ان کی صلاحیت جانچتی ہے، بہترین امیدواروں کو سامنے لاتی ہے اور پھر ان میں سے بڑی تعداد کو نظام سے باہر چھوڑ دیتی ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں میں کئی اچھی ملازمتیں براہ راست بھرتی کے ذریعے بھی پُر ہوتی ہیں۔ اگر ایک طرف مقابلے کے امتحان کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیت جانچی جا رہی ہے اور دوسری طرف سرکاری نظام میں مختلف شعبوں کے لیے الگ الگ بھرتیاں ہو رہی ہیں تو پورے نظام کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو آج ایسے سرکاری افسران کی ضرورت ہے جو صرف قوانین اور دفتری طریقہ کار نہ جانتے ہوں بلکہ عام آدمی کا دکھ سمجھتے ہوں، اعدادوشمار پڑھ سکتے ہوں، جدید ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہوں، بحران میں فیصلہ کر سکتے ہوں اور اپنی میز کے دوسری طرف بیٹھے شہری کو محض ایک فائل نہیں بلکہ ایک انسان سمجھتے ہوں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ افسر کا اصل امتحان سی ایس ایس کا پرچہ نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ کسی ضلع، محکمے یا دفتر میں بیٹھ کر کسی غریب شہری کی درخواست اپنے سامنے رکھتا ہے۔ اگر وہ قانون جانتا ہے مگر انصاف نہیں کرتا، اختیار رکھتا ہے مگر ذمہ داری محسوس نہیں کرتا، انگریزی بولتا ہے مگر عوام کی زبان نہیں سمجھتا، تو پھر محض اعلیٰ امتحانی نمبر ریاست کے لیے کافی نہیں۔
سی ایس ایس کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں، اسے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ میرٹ کو کمزور کرنے کی نہیں، میرٹ کی تعریف وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ انگریزی کو ختم کرنے کی نہیں، اسے قابلیت کا واحد پیمانہ بنانے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ اور امتحان کو آسان بنانے کی نہیں، اسے زیادہ بامعنی، زیادہ شفاف اور زیادہ منصفانہ بنانے کی ضرورت ہے۔کیونکہ پاکستان کو ایسے افسر نہیں چاہئیں جو صرف امتحان پاس کر سکیں۔
پاکستان کو ایسے افسر چاہئیں جو پاکستان کے مسائل حل کر سکیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سی ایس ایس کے امتحان کو بھی اپنے آپ سے ایک سوال کرنا ہوگا: کہ ہم مستقبل کے حکمران تیار کر رہے ہیں یا مستقبل کے مسئلے حل کرنے والے؟