مریم نواز کاغصہ: عذر گناہ بدتر از گناہ
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 18 / ستمبر / 2026
ملتان میں تقریر کرتے ہوئے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب حکومت کے لیے خریدے گئے طیارے کو نجی استعمال میں لانے پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی صوبے کا وزیر اعلیٰ ہمہ وقت اس عہدے پر کام کررہا ہوتا ہے۔ اس کی کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔’ پھر میں نے تو اس پر سفر کے تمام اخرجات خود برداشت کیے ہیں‘۔ مریم نواز کا غصہ اور ایک غلطی کا بھونڈے انداز میں دفاع ، عذر گناہ بد تر از گناہ ہی شمار ہوگا۔
کسی اعلیٰ سیاسی عہدے پر فائز کسی شخص کی طرف سے اپنی ایک غلطی کی پر عوام کی ناراضی کے بارے میں یوں ناک بھوں چڑھانا اور ہر قسم کی تنقید کو مسترد کرنا انتہائی متکبرانہ طرز عمل ہے۔ جمہوری سیاسی نظام میں یہ رویہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔ مریم نواز نے گزشتہ دنوں لندن میں اپنی صاحبزادی کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے گئیں تو انہوں نے پنجاب حکومت کی ملکیت گلف اسٹریم جی 500 پر سفر کیا تھا۔ یہ طیارہ اس سال مارچ میں 10 ارب روپے کی خطیر رقم سے خریدا گیا تھا۔ بادی النظر میں یہ طیارہ خریدنے کا مقصدوزیر اعلیٰ کو سفر میں سہولت فراہم کرنا تھا لیکن ایک غریب ملک کے ایک صوبے کی وزیر اعلیٰ کے لیے ایسا پر تعیش طیارہ خریدنے کی وجہ سے پنجاب حکومت کو پہلے دن سے تنقید کا سامنا ہے۔ حکومت یا اس کے ترجمانوں نے ابھی تک اس تنقید کا کا کوئی معقول جواب فراہم نہیں کیا۔
ابتدا میں اس تنقید کو خاموشی سے ٹالنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے بعد کہا گیا کہ یہ طیارہ دراصل نئی قائم کی جانے والی ’پنجاب ائر‘ کے لیے خریدا گیا ہے لیکن نہ تو اس ائر لائن کے قیام کے سلسلہ میں کوئی خبر سامنے آئی اور نہ ہی یہ نکتہ واضح ہوسکا کہ اگر حکومت پنجاب کوئی ائر لائن بنانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے تو اس کے ابتدائی ڈھانچہ کی تیاری سے پہلے ایک لگژری طیارے کی خریداری کیوں ضروری تھی۔ یوں بھی کسی بھی ائر لائن کو مسافروں کو سہولت دینے والے اور زیادہ لوگوں کو لے جانے والے جہازوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت پنجاب ایسی کون سی انوکھی ائر لائن قائم کررہی تھی جس کے لئے وی آئی پیز کو لے جانے والا طیارہ خریدا گیا۔ البتہ اپنے اس گمراہ کن جواب کا اندازہ کرنے بعد حکومت پنجاب کے عہدیداران شرمندہ ہونے یا پسپائی اختیار کرنے کی بجائے اس حد تک ڈھٹائی پر اتر آئے کہ کہا گیا ’ہاں خریدا ہے طیارہ‘۔ گویا عوام سے کہا جارہا ہو کہ ہم عوامی دولت کے ساتھ جو بھی سلوک کریں ہم سے سوال نہیں کیا جاسکتا۔
حکومت پنجاب کی آمدنی اور وسائل قومی امانت ہیں۔ برسراقتدار لوگوں پر نہ صرف انہیں پوری ذمہ داری و کفایت شعاری سے استعمال کرنا فرض ہے بلکہ اس کی جوابدہی کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ کیاوجہ ہے کہ عوامی وسائل سے خریدے ہوئے ایک طیارے پر اس قدر لاتعلقی کا مظاہرہ کیا جائے۔ ابھی تک معاملہ صرف وزیر اعلی کے ترجمانوں تک تھا مگر اب مریم نواز نے خود اس بارے میں گفتگو فرمائی ہےجو ایک طرف ان کے ترجمانوں کے گمراہ کن اور غیر سیاسی طرز عمل کی تائید کرتی ہے تو ساتھ ہی وزیر اعلی کی اس لاعلمی اور تکبر کی عکاس ہے کہ ان سے سوال کرنا ’جرم‘ہے اور تنقید کرنے والا جاہل ہے۔ مریم صاحبہ نے دو بے سر و پا باتیں ارشاد کیں۔ ایک یہ کہ ’سب وزرائے اعلی کو سہولتیں حاصل ہیں۔ مگر صرف انہیں حاصل سہولتوں پر حرف زنی ہوتی ہے‘۔ انہوں نے یہ بات وزیر اعلی کے استعمال کے لیے خریدے جانے والے ایک جہاز کے حوالے سے کہی ہے۔ اس لیے انہیں بتانا چاہئے کہ باقی کن صوبائی سربراہان حکومت کے پاس ذاتی استعمال کے طیارے ہیں۔ اگر یہ بات درست نہیں تو صرف پنجاب کے وزیر اعلی کو خصوصی طیارے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس کے علاوہ مریم نواز نے فرمایا کہ عہدے کی مدت پوری ہونے پر وہ یہ جہاز ساتھ اپنے گھر نہیں لے جائیں گی بلکہ یہ وزیر اعلی کے دفتر کی ملکیت ہے۔ ان کا یہ دعوی اس وقت تو خوبصورت لگتا اگر انہوں نے یہ طیارہ اپنی گرہ سے خرید کر پنجاب حکومت کو عطیہ کیا ہوتا۔ عوام کی دولت سے خریدے گئے طیارے پر یہ غرہ انہیں زیب نہیں دیتا۔ لندن کے نجی دورے کے لیے خصوصی طیارے کا استعمال اور اس پر اٹھنے والے مصارف کی ادائیگی کا معاملہ تو بعد میں آتا ہے۔ ایک ذمہ دار سیاست دان کے طور پر کیا پاکستان کی ایک اہم سیاست دان کے لیے مناسب ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بنیں۔ پنجاب کی جس تباہ جن طغیانی کا ذکر مریم صاحبہ نے اپنی اسی تقریر میں کیا ہے ، اس کی بڑی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال کم کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلی پنجاب کو اس سلسلہ میں مثالی کردار کے طور پر سامنے آنا چاہیے تھا۔ کجا وہ اس کوتاہی اور مالی اصراف پر اپنے بھونڈے اور بے بنیاد دلائل سے جائز بتانے کی کوشش کریں۔
اس کے علاوہ پاکستان مشرق وسطی کی جنگ کی وجہ سے تیل کے شدید بحران کا سامنا کررہا ہے۔ ملک کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبر سنتے ہیں اور سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ گھر کا بجٹ کیسے بنایا جائے۔ اس صورت میں حکومتی عمائدین کو سفر کے پرتعیش طریقے اختیار کرنے کی بجائے بچت اور احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ لوگوں کو احساس ہو کہ ان کے لیڈروں کو ان کی تکالیف کا اندازہ اور دہ سادگی کو شعار بنا رہے ہیں۔ لیکن مریم نواز ایک سفر پر کروڑوں روپے صرف کرکے اس کا موازنہ وزیر اعلی کے قیمتی وقت کے ساتھ کررہی ہیں۔ کوئی عوامی عہدیدار اپنے عوام کے ساتھ ایسا سفاکانہ رویہ کیسے اختیار کرسکتا ہے؟
یہ واضح ہونا چاہئے کہ مریم نواز پنجاب کی پہلی وزیر اعلی نہیں ہیں۔ ان سے پہلے بیس کے لگ بھگ افراد اس اعلی صوبائی عہدے پر فائز رہ چکے ہیں جن میں ان کے والد اور چچا بھی شامل تھے۔ اگر وہ سب لوگ پرائیویٹ جیٹ کے بغیر خوش اسلوبی سے اپنے فرائض ادا کرتے رہے تھےتو مریم نواز کی یہ دلیل قبول نہیں کی جاسکتی کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے انہیں خصوصی طیارہ درکار ہے۔
2018 میں ناروے میں یہ دلچسپ بحث سننے کو ملی تھی کہ نارویجئن حکومت نے وزیر اعظم اور وزیروں کے استعمال کے لیے خصوصی طیارہ نہ خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کیوں کہ حکومت اسے مالی طور سے فضول خرچی اور اصولی طور سے غلط طریقہ سمجھتی تھی۔ تاہم انہی دنوں زمبیا کے صدر ایڈگر لونگو نے 40 ملین ڈالر (چار سو ملین کرونر) کا ایک پرتعیش خصوصی جہاز اپنے استعمال کے لیے خریدا۔ اس معاملہ کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ ناروے طویل عرصہ سے زمبیا کو خصوصی امداد دیتا رہا تھا۔ 1966 سے 2018 کےدرمیان ناروے کی طرف سے زمبیا کو 15 ارب کرونر امداد دی جا چکی تھی۔ یہ تضاد اس لحاظ سے دلچسپ اور قابل غور تھا کہ زمبیا کو کثیر مدد دینے والے ملک کی حکومت تو ساری کابینہ کے لیے خصوصی طیارہ خریدنا اصراف اور ناجائز سمجھتی تھی لیکن امداد لینے والے ایک ملک کا صدر بے رحمی سے عوامی وسائل اپنی سہولت و عیاشی کے لیے اڑا رہاتھا۔
اب پنجاب کی وزیر اعلی اور پاکستانی سیاست دانوں کو کج بحثی کی بجائے یہ طے کرنا چاہئے کہ وہ اعلی جمہوری روایت کے حامل ناروے جیسے ملک کی تقلید کریں یا زمبیا جیسے ملکوں کا طریقہ اپنائیں جو عوام کی ضرورتوں اور خواہشات سے لاتعلق ہیں۔