ایران امریکہ جنگ پھیلتی جائے گی؟
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 19 / ستمبر / 2026
اسرائیل نے جنگ شروع کی اس کی مدد کو آیا بلکہ امریکہ کو اسرائیل نے گھیرا ،اسے غلط معلومات دیں کہ ایرانی عوام اپنے حکمرانوں کے شدید خلاف ہیں۔ جنگ کی صورت میں وہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس طرح رجیم تبدیل ہو سکے گی۔
امریکہ، بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران فتح کرنے کے زعم میں جنگ میں کود پڑا۔ شروع شروع میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے گئے۔ ایرانی عسکری اور جوہری قیادت کو شہید کیا، حتیٰ کہ ایرانی رہبراعلیٰ بھی شہید کر دیئے گئے ایران میں ناامیدی پھیلی لیکن قوم اکٹھی ہوگئی۔امریکہ و اسرائیل دشمنی نے ایرانی قوم کو متحد کر دیا اور وہ ڈٹ گئی۔ ایران میں تباہی و بربادی ہوئی۔ چار دہائیوں سے زائد مدت سے ایران عالمی پابندیوں کا شکار ہے اس کی معیشت کافی کمزور ہو چکی ہے۔ عوام شدید اور سنجیدہ مسائل کا شکار ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کی گرفت اور معاملات کو اپنے ہی انداز میں چلانے کی کاوشوں نے معاشرتی گھٹن میں اضافہ کیا ہے۔
جنگ نے ایسے اور دیگر مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے لیکن ایرانیوں کی اپنی ہی طرز پر جنگ کی تیاری بلکہ بھرپور تیاری نے معاملات کو نیا رخ دے دیا ہے۔ ایران نے مارخوب کھائی ہے،تباہی و بربادی کا سامنا کیا ہے لیکن ان کے لڑنے، مرنے مارنے اور نہ جھکنے کے عزم نے معاملات کو بالکل نئی جہت دے ڈالی ہے۔ ایران نے روایتی جنگ کی بجائے ڈرونز، راکٹ اور خودکش کشتیوں کے استعمال کے ذریعے جنگ کا پانسہ پلٹ دیاہے۔ مشرق وسطیٰ کو تباہی سے ہمکنار کر دیا ہے۔تیل کی عالمی تجارتی منڈی میں لرزہ طاری ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے باعث ایران کی مذاکراتی پوزیشن بہت بہتر ہوگئی ہے۔ حوثیوں کے ذریعے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کے ساتھ ہی ایران کی پوزیشن فیصلہ کن ہو جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو تو اپنے ہی ملک میں شکست کا سامنا ہے، ٹرمپ جنگ ہار چکا ہے۔اب جنگ بند کرنے کی چابی اکیلے ایران کے پاس ہے۔ وہ دو بڑے عالمی تجارتی راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طاقتور ہو چکا ہے۔ ایران نے ڈرونز اور راکٹوں / میزائلوں کے منظم اور جرات مندانہ استعمال کے ذریعے جس طرح تباہی مچائی وہ حیرت انگیز ہے اور جس طرح دشمنوں کے لئے جنگ کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کیا وہ بھی مثالی ہے۔
امریکی بحری اڈے کہاں گئے؟ امریکی بحری جہاز، قومی البحثہ جنگی بحری بیڑوں کا کیا ہوا، کچھ پتہ نہیں ہے۔ ایران تاک تاک کر نشانے لگا رہا ہے۔ امریکی اتحادی امریکہ کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ امریکہ اپنے اتحادیوں کو ایرانی ڈرونز اور میزائلوں سے بچانے کی پوزیشن میں نہیں رہا، ایران نے نہ صرف امریکی عسکری برتری کا پردہ چاک کر دیا ہے بلکہ عالمی معیشت میں امریکی برتری کو بھی چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ تیل کی تجارت یعنی خرید و فروخت کے نئے معاہدے ڈالر کی بجائے لوکل کرنسی میں انجام پا رہے ہیں۔ ڈی ڈالرائزیشن کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ ایران کے خلاف کیا کرے کہ وہ جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے اور ٹرمپ کی اس کمبل سے جان چھوٹ جائے۔ ایران اس وقت جنگ کی بطور فاتح قیادت کررہا ہے۔ عالمی معیشت کی شہ رگ ہرمز ہی نہیں بلکہ باب المندب بھی اس کی رسائی میں آ گیا ہے۔ ایران نے عربوں کی تیل اور سیاحت کی معیشت کا دھڑن تختہ کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ معاشی بدحالی کا شکار کر دیا گیا ہے۔ اب ان کے پاس اس بربادی سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔
جنگ بندی اور امن کی کاوش ضرور ہو رہی ہے لیکن جنگ پھیلانے کی سنجیدہ کاوشیں بھی جاری ہیں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حدود کعبہ کی طرف ڈرون کس نے چلایا۔ سعودی عرب پر تابڑ توڑ حملے تو حوثی ہی کررہے ہیں۔ عراقی سرحدوں کے اس پار سے سعودی عرب پر حملہ کس نے کیا۔ سعودی شہر طائف پر حملے ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب کو جنگ میں ملوث کیا جا چکا ہے۔ مسلمانوں کے روحانی مراکز مکتہ المکرمہ اور مدینہ المنورہ بھی خطرات میں گھرے نظر آ رہے ہیں۔ ایرانی شیعہ ہوں یا یمنی حوثی وہ اسرائیل سے بھی زیادہ سعودی عرب سے نفرت اور بیر رکھتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے عرب و عجم کی دشمنی کچھ بھی گل کھلا سکتی ہے۔ تاریخ میں پہلے بھی یہ دشمنی حرم کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی رہی ہے اور اب بھی ظاہر ہوگئی ہے۔ ایران کی شیعہ پراکسیز نے یہود اور نصاری کی بجائے اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کے خلاف مورچہ زنی اختیار کی ہوئی ہے۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں نے عربوں پر تباہی و بربادی نازل کی ہے۔
اسرائیل تو پہلے سے بھی زیادہ بدمعاش بنتا چلا گیا ہے۔ جنگ اسرائیل نے شروع کی تھی لیکن وہ بڑی ذہانت کے ساتھ اس جنگ سے نکل گیا اور لبنان، شام اور دیگر علاقوں میں اپنی طے شدہ حکمت عملی کے ذریعے گریٹر اسرائیل کے نقشے میں رنگ بھرنے میں مصروف ہے۔ اس جنگ میں اگر کوئی فریق فاتح ہے یا اس جنگ سے مستفید ہو رہا ہے تو وہ اسرائیل ہے کیونکہ اس جنگ کے نتیجے میں نقصانات عربوں و مسلمانوں کے ہی ہو رہے ہیں۔ تباہی و بربادی بھی مسلمانوں کی ہو رہی ہے۔ ایران ہو یا سعودی عرب،یواے ای، قطر، کویت وغیرہ …… تباہی و بربادی کا سامنا عرب و عجم کے مسلمان کررہے ہیں۔ اب تو بات مکہ مدینہ تک آن پہنچی ہے ۔حالانکہ ہمارا مقصد بیت المقدس کی بازیابی ہونا چاہیے، ہمارا فوکس مسجد اقصیٰ ہونا چاہیے، فلسطین کی آزادی ہونا چاہیے، لیکن ہم تو اپنی آزادی و خودمختاری کے لئے پریشان نظر آ رہے ہیں۔ ہمارا ایمانی محور و مرکز، ہمارا قبلہ و کعبہ، ہمارا مکہ و مدینہ اس جنگ کے نشانے پر آ گیا ہے۔ حدود مکہ تک ڈرون کاپہنچنا، گو اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا لیکن اس پر فائر تو کیا گیا ہے یہ فائر ٹیسٹ بھی ہو سکتا ہے ۔اس جنگ میں اب فریقین واضح ہو چکے ہیں۔
امریکہ اسرائیل حقیقی فریق ضرور ہیں لیکن سردست جنگ ایرانیوں، حوثیوں اور عربوں کے درمیان ہو رہی ہے۔ بالواسطہ طور پر پاکستان اور ترکی بھی ملوث ہو چکے ہیں۔ مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب،پاکستان اور ترکی ایک دوسرے کے جنگی حلیف بھی ہیں۔ جب مسلمانوں کا مکہ مدینہ نشانے پر ہوگا تو ہر مسلمان اس جنگ کا فریق ہوگا۔ جنگ رکتی نہیں پھیلتی نظر آ رہی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)