مذاکرات کے لیے ایران کی شرائط اور ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی قیام گاہ کیمپ ڈیوڈ میں اپنا ویک اینڈ مکمل کیے بغیر وقت سے پہلے وائٹ ہاؤس واپسی اختیار کر لی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ان کی تعطیلات مختصر کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
ایگزیوس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے وائٹ ہاؤس واپسی اتوار کی شب مقرر تھی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی ویک اینڈ سے وقت سے پہلے واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں آئندہ کے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ یہ واپسی ان کے اگلے ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کے دورے سے بھی قبل ہوئی ہے۔
ایران نے سنیچر کو اعلان کیا تھا کہ اس نے قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
اس دوران ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو پیغامات اور شرائط سے آگاہ کیا ہے۔ اتوار کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جنگ کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن اس کے حتمی اور مؤثر خاتمے کے لیے کوئی لائحہ عمل یا طریقہ کار موجود نہیں ہوتا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں بیک وقت لڑنا بھی چاہیے اور مذاکرات بھی کرنے چاہییں۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کی ترسیل اور دوسرے فریق کے سامنے اپنی شرائط کی وضاحت کر دی ہے۔ جب تک ایران کی پیشگی شرائط پوری نہیں ہو جاتیں، اس وقت تک مذاکرات کی سابقہ صورتحال کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اعلان کیا تھا کہ تہران نے قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط امریکہ تک پہنچا دی ہیں اور اب وہ ’صدر ٹرمپ کے ردعمل کے منتظر ہیں۔‘