ایک سوال جس کا جواب نہیں مل رہا
- تحریر نسیم شاہد
- اتوار 20 / ستمبر / 2026
اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر کنٹینر تھراپی کا استعمال جاری ہے۔ سنا ہے ہزاروں کنٹینر شہر کے مختلف حصوں میں لگا دیئے گئے ہیں۔ اب تو نئی ترکیب بھی نکالی گئی ہے اور کیلوں والے کنٹینرز بھی رکھ دیئے گئے ہیں۔ ہمارے بہت دوست اسلام آباد میں رہتے ہیں، ان میں ادیب و شاعر، بیورو کریٹس، کاروباری، اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے، غرض ہر طبقے والے دوست شامل ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ آئے روز کی اس کنٹینرز تھراپی نے ہمیں بیمار کر دیا ہے، کچھ پتہ نہیں ہوتا کل صبح سو کے اٹھیں گے تو کون سا راستہ بند ہوگا، دفتر پہنچ بھی سکیں گے یا نہیں، اس حوالے سے کتنے ہی حکم جاری ہو چکے ہیں، عدالتی بھی اور انتظامی بھی، تاہم اسلام آباد پر چڑھائی نہیں رک رہی۔ چڑھائی میں کامیابی ہو یا نہ ہو، شہرضرور بند کرانے میں کامیابی مل جاتی ہے۔ سنا ہے بیس سے ستائیس ستمبر تک لانگ مارچوں کا ایک سلسلہ ہے جو اسلام آباد کی طرف رخ کرے گا۔ جماعت اسلامی بھی پہنچ رہی ہے اور کسان تحریک والے بھی، تاہم حکومت کو سب سے زیادہ فکر تحریک انصاف سے رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیرداخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس بھی تحریک انصاف کے خلاف کی ہے اور کچھ زیادہ ہی سخت وارننگ دے ڈالی ہے۔ سیاسی اپروچ کا فقدان اور اشتعال بڑھانے والے بیانات پر زور ہے، ان کا یہ کہنا خاصا سخت ہے کہ جوانوں کو کہہ دیا ہے، گولی چلے تو جواب دینا، یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
قابلِ فہم بات ہے کہ کوئی فورسز کو نشانہ بنائے گا تو جواب میں پھول توپیش نہیں کئے جائیں گے ۔ ایسی باتیں کسی تحریک کو انگیخت کرتی ہیں کم نہیں۔ بیانیہ یہ ہوتا تو بہت اچھا تھا کہ تحریک انصاف دیواروں سے سر پھوڑنے کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئے اور مسائل کا سیاسی حل نکالنے پر توجہ دے۔ تاہم قانون کو ہاتھ میں لیا گیا تو وہ اپنا راستہ خود بنائے گا۔جب بھٹو کے خلاف تحریک چل رہی تھی تو اپوزیشن اس وقت انہیں نفسیاتی طور پر توڑنے میں کامیاب رہی تھی ،جب انہوں نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، میں کمزورہو سکتا ہوں مگر جس کرسی پر میں بیٹھا ہوں، وہ بہت مضبوط ہے،کوئی کسی خوش فہمی میں نہ رہے۔ اس کے بعد کیا ہوا ۔وہ کرسی مضبوط نہ رہی اوربالآخر بعد کے واقعات انہیں تختہ دار کی طرف لے گئے۔ وہ یہ دھمکی دے کر مذاکرات کی طرف گئے،مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ اب یہ عجیب صورت حال ہے کہ حکومت کو جماعت اسلامی کے اسلام آبادآنے سے کوئی خطرہ نہیں، کسان اتحاد والے ہزاروں کی تعداد میں آ جائیں کوئی مسئلہ نہیں، مگر تحریک انصاف والوں کی بات آئے تو بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔ خرابی آخر کہاں ہے؟ مسئلہ آخر کہاں اٹکا ہوا ہے۔ یہ ملک اور اسلام آباد کو کس مصیبت میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ چڑھائی کی باتیں اور یہ بزور طاقت پسپائی کے دعوے ہمیں کدھر لے جا رہے ہیں؟ اس کا کوئی حل کیوں نہیں ڈھونڈا جاتا۔ کوئی سیاسی حل کوئی بات چیت کا راستہ، یہ سلسلہ کب تک چلے گا اور اسلام آباد کو فتح کرنے یا فتح نہ ہونے دینے کے درمیان کشمکش کب تک بے یقینی کو جنم دیتی رہے گی؟
میں نے بہت سے لوگوں کو اس حوالے سے تشویش میں مبتلا دیکھا ہے کہ 27ستمبر خیر خیریت سے گزر جائے۔ یہ دن کسی جنون کی نذر نہ ہو جائے، اس سے پہلے ہی ڈیڈ لاک ختم ہو اور گولیوں کی دھمکی اور اسلام آباد پر یلغار کی باتوں سے ہٹ کر درمیانی اور سیاسی راہ نکالی جائے۔ اس وقت تحریک انصاف ایک نوجوان پرجوش وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے رحم و کرم پر ہے۔ اس کی سنجیدہ اور سینئر قیادت کو خوفزدہ کرکے گھر بٹھا دیا گیا ہے۔ یہ کوئی کامیاب حکمت عملی نہیں، پھر تو وہی نتیجہ نکلے گا جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومتی حلقوں کی طرف سے دھمکیوں پر انحصار کرنے کی بجائے مذاکرات کی کوئی سنجیدہ پیشکش کی جائے، اس سے پہلے اگر سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے عمران خان کو ہسپتال شفٹ کر دیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، کم از کم ایک بڑا ڈیڈ لاک ختم ہو جائے گا او راور وہ تناؤ جو اس وقت ایک بڑے خطرے میں ڈھل چکا ہے اس میں بڑی حد تک کمی آ جائے گی، غصہ اور انا کی زنجیروں کو کاٹ کر اگر تھوڑا کشادہ دل کے ساتھ دونوں طرف لچک پیدا کی جائے تو کسی اوربڑے سانحے سے بچا جا سکتا ہے۔
اس یکطرفہ سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ حالات خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے، انہیں ٹھیک کرنا پڑے گا اور اس کے لئے زمینی حقائق کو دیکھ کر جرائت مندانہ اور دوررس فیصلے کرنے ہوں گے۔ اسلام آباد جیسے ملک کے دارالحکومت میں آئے روز کی یہ صورتحال دنیا بھر کے سفارت کاروں کو کیا پیغام دیتی ہے؟ زندگی جام ہونے کی صورت حال انہیں یہ تو بتاتی ہوگی کہ حالات پھر کسی تصادم کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ عدالتی فیصلے ہوں یا انتظامی اقدامات وہ ایک پیدا ہونے والی بے یقینی کی فضا کو نہیں روک سکتے۔ ایک لمحے کے لئے یہ فرض بھی کرلیاجائے کہ طاقت کے بل بوتے پر اسلام آباد کی طرف یلغار روک بھی دی جاتی ہے تو کیایہ معاملہ ختم ہو جائے گا؟ پھرکچھ دنوں بعد ایک اور تاریخ دی جائے گی اور پھر یہی کنٹینرز ڈرامہ دہرایا جائے گا۔ خدا کے لئے پاکستان کے دارالحکومت کو تماشا نہ بنائیں اس کھیل میں ملک کا بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کو منفی پیغام ملتا ہے اور وہ ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ پریشانی کا باعث یہ خیال بھی ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت عنقا ہو گئی ہے، وہ سیاسی قیادت جو بیچ میں پڑے مسئلہ کا حل نکالے۔
مجھے چالیس سال پہلے خان گڑھ میں نواب زادہ نصراللہ خان سے ہونے والی ایک ملاقات یاد آ رہی ہے۔ ملتان کے چند صحافی ان سے ملنے گئے تھے، ملک میں ضیا الحق کی حکومت تھی۔ خاصی کشیدہ فضا چل رہی تھی۔ نوابزادہ صاحب مرکزِ نگاہ تھے اور ان کی آواز ضیا الحق بھی سنتے تھے۔ ہم نے جب ان سے پوچھا کیا ملک کسی بڑے تصادم کی طرف جا رہا ہے تو انہوں نے کہا تھا ہم سینئر سیاستدانوں کا کام یہی ہے کہ اس بڑے تصادم کو روکیں اور انشا اللہ ہمارے ہوتے ہوئے ایسا نہیں ہوگا، ہمارا کام ہی ایک ایسے کمشن کا ہے جو دو متحارب فریقین کو ٹکرانے نہ دے۔ راہ نکلے گی اور ہم آگے بڑھیں گے۔ آج میں سوچتا ہوں نوابزادہ نصراللہ خان جیسے لوگ ہوتے تو کیا بار بار یہی کنٹینر لگانے پڑتے۔ کیا وزراکو ایسی پریس کانفرنسیں کرنا پڑتیں؟ یہ مسئلے کا حل نہیں نکالتیں، بڑھا دیتی ہیں۔
آج دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے پاس بھی ایسی بالغ نظر سیاست نہیں جو کمشن کا کام دے سکے۔ آج اس کے رہنما بھی اپنے لب و لہجے میں دھمکی اور غصہ ہی کر سکتے ہیں۔ یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا اور پاکستان کب تک اس بے یقینی اور انتشار کی زد میں رہے گا۔ یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے، مگر اسے اس کا جواب نہیں مل رہا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)