الٰہ دین کا ’نیا‘ چراغ
- تحریر سہیل وڑائچ
- اتوار 20 / ستمبر / 2026
زمانہ تو قیامت کی چال چل چکا مگر ہم وہیں کے وہیں الف لیلوی بغداد میں کھڑے ہیں۔ آج بھی ہماری سوچ کا محور الہ دین کا چراغ ہے جوچند لمحوں میں جن کو حاضر کرکے سب کچھ بدل دے۔ آج بھی ہمارے خواب نسیم حجازی کے ہیرو کی طرح گھوڑے پر سوار ہوکر دشمنوں کی صفیں چیرنے کے ہیں ۔
حکمران کے حوالے سے ہمارا بغدادی تصور آج تک قائم ہے کہ وہ راتوں کو بھیس بدل کر شہر میں گھومے اور چھاپے مارے۔ 12سوسال گزر گئے مگرہم اب بھی جنوں کے ذریعے امارت حاصل کرنے کے خواب دیکھتے ہیں، علی بابا کی طرح کھل جاسم سم والے کسی خفیہ خزانے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ دراصل یہی طرز فکر ہماری ذہنی اور مادی فکر کی راہ میں رکاوٹ ہے راتوں رات اور جنات جیسی تبدیلی افسانوں میں تو ممکن ہے، حقیقت میں نہیں۔ خزانےبرسوں کی سائنسی تحقیق اور تلاش سے ملتے ہیں اتفاق اور قسمت سے نہیں۔ ہمارے ہاں خرابیوں کے حل کیلئےہمیں الہ دین کے نئے سے نئے چراغ کی ضرورت ہوتی ہے جو ہماری تاریکیوں کو یک لخت روشن کردے، کبھی کرپشن کے خاتمے کو الہ دین کا چراغ قرار دیا گیا، کبھی سیاست کو ہی سرے سے خرابیوں کی جڑ قرار دیکر نئے نظام کو الہ دین کے چراغ سے تشبیہ دی گئی ، کبھی ون یونٹ بنانا الہ دین کاچراغ تھا اور کبھی ون یونٹ توڑنا الہ دین کا چراغ۔ آج کل نئے صوبے نیا چراغ بن کر طلوع ہوئے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ نئے صوبے بن گئے تو سب مسئلےحل ہو جائیں گے حالانکہ آئین اور قانون کی عملداری کے جاں گسل اور طویل صبر آزما برسوں کے بعد نظام درست ہوتے ہیں۔ نئے صوبے نہ کرپشن ختم کریں گے نہ پولیس کے رویے کو ٹھیک کرسکیں گے، نہ عدالتی نظام درست ہو پائے گا اور نہ ہی ہماری معیشت اس سے ٹھیک ہوسکے گی۔ 12 صدیاں گزرنے کے باوجود افسانہ اور حقیقت کایہ مخمصہ حل نہیں ہوسکا اور اب تو معاملہ ہماری اجتماعی اور انفرادی نفسیات کاحصہ بن چکا ہے، ہم معجزوں کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ ہم کسی فاتح کے آنےکی توقع لگائے بیٹھے ہیں ، کسی ایسے فارمولے کی تلاش میں ہیں جس سے سب کچھ بدل جائے ، سب وہ پارس ڈھونڈ نے میں لگے ہیں جس سے ہمارا لوہا، سونا بن جائے۔ کوئی ایسا جادوگر آئے جو ہماری تقدیر بدل دے۔ 12صدیاں گزرنے کے باوجود نہ ہماری امید ختم ہوئی ہے اور نہ ہی وہ مسیحا یا ہیرو آیا ہے جو یکایک ہماری تقدیر بدل دے۔
مجھے اعتراف ہے کہ میرے اندر بھی کشمکش ہمیشہ سے جاری وساری رہی ہے۔ ماحول اور تربیت کی وجہ سےالہ دین کا چراغ میرے بھی خوابوں میں آتا رہا ہے۔ سائنس اور منطق پر انحصار ان خوابوں کو باطل قرار دیتا ہے۔ دماغ اور دل کی یہ لڑائی صرف میرا نہیں ہمارے مسلم سماج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ہمیں ہر مسئلے کا جادوئی اور فوری حل درکار ہے یہی وجہ ہے کہ میں بھی جبلّت سے مجبور ہو کر قسمت کا آئینہ ضرور دیکھتا ہوں۔ اجتماعی طور پر جب ایک وزیراعظم اچانک سمندر سے تیل نکلنے کی خوشخبری دیتا ہے تو اسے معجزہ قرار دے کر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ گو بعد میں یہ معجزہ بھی ہمیشہ کی طرح گھڑا گھڑا یا جھوٹ نکلتا ہے۔ ابھی چند سال پہلے تک تصویریں دیکھ کر اور ان پر کچھ پڑھ کر ان کے عہدوں کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ کبھی طوطوں کی فال اور کبھی دیوان حافظ سے فال نکالنا ہماری روایت کا ہی حصّہ ہے ۔ ہم اب بھی نہیں بدلے۔ اب بھی کوئی مجذوب کہہ دے کہ اس کان سے قیمتی معدنیات نکل سکتی ہیں تو وہاں کھدائی شروع کر دی جاتی ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے میلوں تک کرینیں لگی ہوئی دریا سے سونے کے ذرات نکالنے میں مصروف ہیں۔ ایک سابق وزیراعظم کو پراسرار قوتیں یقین دلائے ہوئے ہیں کہ تاریخ اس سے عالم اسلام کا کوئی بڑا کام لینا چاہتی ہے۔
ہر حکمران اور صاحب اقتدار کو کوئی نہ کوئی ضعیف العقیدہ معجزہ گر ایسا مل جاتا ہے جو اسے یقین دلا دیتا ہے کہ خدا نے اس ملّت کی تقدیر کو اسی کے ہاتھوں سے ہی تبدیل کرنا ہے۔ شروع میں تو صاحبِ اقتدار کے اوسان اور عقل بحال ہوتی ہے تو وہ ان کی بات رد کر دیتا ہے۔ مگر پھر طاقت کا نشہ اوسان خطا کر دیتا ہے تو معجزہ گروں کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے اور صاحبِ اقتدار خود کو خدا کا فرستادہ ہی سمجھنے لگتا ہے۔ سکندر اعظم، نپولین، صدر ایوب اور جنرل ضیا الحق کو بھی یہی وہم لاحق ہو گیا تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ وہم ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔ آج کا اصلاحاتی ایجنڈا بھی ان معجزہ گروں کی تخلیق ہے جو ہمیشہ حکمرانوں کو گمراہ کرنے کیلئے انہیں یقین دلا دیتے ہیں کہ خدا نے انہیں خاص طور پر اس ملک کو ٹھیک کرنے کیلئےبھیجا ہے۔ لیکن ماضی کے ان معجزہ گروں اور ان کے مسیحاؤں نے ملک کے ساتھ وہ کھلواڑ کیا ہے کہ خدا کی پناہ!
نئے صوبے یقیناً زیربحث آسکتے ہیں۔ چھوٹے انتظامی یونٹ مؤثر ہو سکتے ہیں، بااختیار بلدیاتی نظام اور مقامی حکومتیں نظام میں بہتری لا سکتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ الہ دین کا چراغ رگڑنے سے واقعی جن حاضر ہو جائے اور نئے چھوٹے چھوٹے صوبے بن جائیں تو کیا کل سے اسکولوں میں استادوں کی حاضری ٹھیک ہو جائے گی؟ کیا اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ادویات کی موجودگی یقینی بن جائے گی؟ کیا کل سے بجلی چوری ختم ہو جائے گی؟ کیا کل سے ٹیکس وصولی بڑھ جائے گی؟ ظاہر ہے ایسا کچھ ہونے والا نہیں تو گویا مسئلہ نئے صوبے بنانا نہیں کچھ اور ہے؟
قوموں کی تقدیر الہ دین کے جن نہیں بناتے صوبوں کو خود محنت اور صبر سے بنانی پڑتی ہے۔ چراغ بنے بنائے نہیں ملتے، خود بنانے پڑتے ہیں۔ ان میں محنت کا تیل خود ڈالنا پڑتا ہے اور انہیں خطرات کی آندھیوں سے خون جگر دیکر بچانا پڑتا ہے۔ ہمیں جن کی ضرورت نہیں ، ہمیں اپنے متفقہ آئین پر مسلسل چلتے رہنے اور روگردانی سے پرہیز کی ضرورت ہے۔ نتائج دوتین سال میں نہیں20,25برس میں آتے ہیں۔ ہمیں جلدی ہے، ہم اتاؤلے ہیں، دیرپا اور دائمی تبدیلی صبر کے بعد آتی ہے ۔
کاش ہم الف لیلوی دنیا سے باہر آئیں، افسانوی فاتحین اور پراسرار کرداروں کے ہاتھوں معجزے برپا ہوتے ضرور دیکھیں مگر اصل دنیا میں ان کی توقع نہ کریں ۔ دنیا میںباعمل ترقی کا راستہ تدریجی ہے، انقلابی نہیں۔ قوموں نے دہائیوں تک محنت کی ہے اور پھر صبر سے پھل پکنے کا انتظار کیا ہے۔ ہم میں تو اتنا بھی صبر نہیں کہ آم پکنے کا انتظارکرلیں ہم تو کچی امبیاں آنے سے پہلے ہی’ بُور‘ سے مایوس ہوجاتے ہیں اور اس پیڑ کو اس بہانے سے کاٹ دیتے ہیں کہ اگربُور ہی اچھا نہیں تھا تو پھرپور پھل لگنے کی امید ہی نہیں تھی۔ ہری کونپلوں والے درخت ہی کٹ جائیں تو پھل کیسے ملے گا؟
جیسے الہ دین کا چراغ فسانہ ہے یا جس طرح پارس ایک جھوٹ تھا۔ لوہا سونا بن ہی نہیں سکتا یا جیسے ہرمرض کی دوا کیلئے اکیسر اعظم ایک دھوکہ ہے۔ خدا نہ کرے نئے صوبے بھی ایسا ہی فسانہ نہ بن جائیں کہ جب حقیقت سامنے آئے تو نہ تقدیر بدلے اور نہ حالات…
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)