خوفزدہ حکومت کیسے کام چلائے گی؟
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 20 / ستمبر / 2026
ڈپٹی کمشنر لاہور کے حکم پر علیمہ خان کو نقص امن و امان کی شق کے تحت حراست میں لے کر تیس دن کے لیے کوٹ لکھپت جیل متقل کردیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری حکومت کی بدحواسی اور 27 ستمبر کو تحریک انصاف کے متوقع احتجاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ کے پیش نظر کی گئی ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں وہی کچھ دیکھنے میں آرہا ہے جو ہمیشہ سے ملکی سیاسی عمل کا طریقہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ملک میں کوئی نظام استوار ہوسکا اور نہ ہی سیاسی آزادی کا تصور راسخ کیا جاسکا۔
ان حالات میں سب سے اہم یہ سوال ہے کہ ایسی خوفزدہ حکومت کیسے شدید مسائل میں گھرے ملک کی قیادت کرسکتی ہے جو ایک ایسی اپوزیشن پارٹی کے خوف میں مبتلا ہے، جس کی زیادہ تر قیادت جیلوں میں بند ہے اور باقی ماندہ غیر فعال ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے متعدد اہم لیڈر باہمی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ہی فعال سیاسی کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں لیکن حکومت اس کے باوجود اس خوف میں مبتلا ہے کہ خیبر پختون خوا کا وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نہ جانے کتنا بڑا ہجوم لے کر اسلام آباد کی طرف آئے گا۔
اس وقت ملک میں ہائبرڈ نظام حکومت کام کررہا ہے، یعنی حکومت اور عسکری قیادت ایک ہی پیج پر ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کو حقیقی معنوں میں کوئی سیاسی خطرہ لاحق نہیں ہے اور اگر کسی احتجاج کی صورت میں کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا ہوتی ہے تو سکیورٹی فورسز پوری مستعدی سے حکومت وقت کا ساتھ دیں گی۔ اس کے باوجود اگر سرکاری ترجمان اور وزرا قبل از وقت بدحواسی کا مظاہرہ کریں گےاور ناجائز گرفتاریوں کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے کہ حکومت کا حالات پر پوراکنٹرول ہے تو یہ رویہ صورت حال خراب کرنے کا سبب بنے گا۔ ناجائز اور زور ذبردستی کے ہتھکنڈوں سے عوام کے غم و غصہ میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ احتجاج کرنے والی قوتوں کو بھی یہ تاثر ملے گا کہ حکومت بدحواس ہوچکی ہے ، اسے بس ایک دھکا دیاجائے تو حالات سازگار بنائے جاسکتے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر تحریک انصاف فوج کے ساتھ تنازعہ کا شکار ہونے کی وجہ سے موجودہ سیاسی تنہائی کا شکار ہوئی ہے۔ لیکن اس کی ساری جد و جہد کا بنیادی نکتہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ کسی طرح شہباز شریف کی حکومت کو کمزور اور غیر مؤثر ثابت کرکے یہ واضح کیاجاسکے کہ حقیقی متبادل پاکستان تحریک انصاف ہی ہے۔ اگر مقدر طبقہ یعنی عسکری اسٹبلشمنٹ عمران خان کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہوجائے تو پارٹی بھی جی جان سے ’ملک کی خدمت‘ کے لیے حاضر ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ ’حقیقی جمہوریت‘ کے نام سے شور و غل مچانے والی پارٹی خود ملک میں رہی سہی جمہوریت دفن کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ و تیار ہے۔ بس اسے فریق ثانی یعنی فوج کی طرف سے کوئی مثبت اشارہ نہیں مل رہا۔ بدقسمتی سے ملک میں احتجاج یا اسلام آباد پر چڑھائی کا جو نیا منصوبہ لانچ کیا گیا ہے، اس کا واحد مقصد موجودہ حکومت کو کمزور کرکے فوج کی توجہ حاصل کرنا ہی ہے۔
دوسری طرف شہباز شریف ملکی سیاست میں طویل تجربہ کے باوجود سیاسی طریقے اختیار کرنے، مخالف فریقین کو مکالمہ پر آمادہ کرنے یا سیاسی تحریک کے ساتھ جمہوری طرز عمل اختیار کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ چونکہ وہ سب سے زیادہ تعاون پر آمادہ قسم کے لیڈر ہیں ، اس لیے فوج کے پاس ان کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے ۔اگر وہ ایک سو غلطیاں بھی کریں گے تو بھی اسٹبلشمنٹ ان کی سرپرستی کرتی رہی گی۔ سول و عسکری قیادت کے باہمی تعلق کے حوالے سے ماضی کے تجربات تو یہ سبق سکھاتے ہیں کہ کسی حکومت کو بھی مقتدر حلقوں کی غیر مشروط اعانت و حمایت کی امید نہیں کرنی چاہئے۔ سیاسی لیڈر اگر خود کو سیاسی طور سے منظم نہ کریں اور عوام میں ان کی جڑیں موجود نہ ہوں تو وہ تادیر عسکری چھتری کے مزے نہیں لوٹ سکتے۔ بادی النظر میں شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) اس صورت حال کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ ملک کے متعدد ’مؤثر اور بااثر‘ اخبار نویس یہ اطلاعات دے رہے ہیں کہ شہباز حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوچکا ہے۔ شہباز شریف یانواز شریف ابھی خطرے کی ایسی گھنٹیوں پر توجہ دینے پر آمادہ نہیں ہیں اور یک طرفہ جابرانہ ہتھکنڈوں سے اپنی حکومتی اتھارٹی منوانے کی بھونڈی کوشش کررہے ہیں۔
اس کی سب سے نمایاں مثال گزشتہ روز ملتان میں مریم نواز کی تقریر تھی جس میں انہوں نے اپنے لیے خریدے گئے قیمتی جیٹ طیارے پر نجی سفر کرنے کی وکالت کی اور مخالفین کی تنقید کو حقارت سے مسترد کردیا۔ اس کے علاوہ وزیر داخلہ اور اب وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے تلخ اور دھمکی آمیز زبان استعمال کرکے حکومتی پریشانی ظاہر کی ہے۔ ایک بیان میں رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ’ لانگ مارچ والے باز نہ آئے تو اچھی طرح سمجھا دیا جائے گا‘۔ طاقت کے استعمال کی ایسی اوچھی دھمکیاں حکومت کے مستقبل کے لیے اچھی خبر نہیں۔ نہ جانے ملکی سیاست میں کئی دہائیاں گزارنے اور متعدد بار حکومت کرنے والی مسلم لیگ (ن) کو یہ نوشتہ دیوار کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ اس سے پہلے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریک انصاف کے متوقع احتجاج کے حوالے سے متنبہ کیا تھا کہ ہم نے بھی اپنی فورسز کو اجازت دے دی ہے کہ اگر ان پر گولی چلتی ہے تو اس کا جواب گولی سے دیا جائے۔ یہ بیان اس لحاظ سے انتہائی لغو ہے کہ وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے والا شخص خود ہی مخالف سیاسی پارٹی کی طرف سے یہ قیاس کررہا ہے کہ وہ اسلام آباد کی طرف اسلحہ لے کر آئیں گے اور فورسز پر فائرنگ کریں گے۔
وزیر داخلہ نے تحریک انصاف کو احتجاج سے باز رکھنے کے لیے اپنی پریس کانفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 18 ستمبر والے حکم کی آڑ لینے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس تفصیلی فیصلہ میں سیاسی احتجاج کا حق تسلیم کیا ہے لیکن یہ پابند ی عائد کی ہے کہ احتجاج کرتے ہوئے دوسرے شہریوں کی آزادی، آمدورفت اور معمول کی زندگی کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح سرکاری وسائل استعمال کرنے یا سرکاری ملازمین کو احتجاج میں شامل کرنے کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے اس فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کا ذکر کرنا تو یاد رکھا لیکن یہ بھول گئے کہ بنیادی طور پر عدالت نے تحریک انصاف کے احتجاج کے حق کو تسلیم کیا تھا۔ اس کے تحت درحقیقت حکومت پربھی یہ پابندی عائد کی گئی ہےکہ وہ احتجاج کے دوران مظاہرین کو ناجائز طور سے تنگ کرنے سے باز رہے۔ البتہ حکومت اس عدالتی حکم کے برعکس طرز عمل کا مظاہرہ کررہی ہے۔
شہباز شریف جس زمانے میں عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن لیڈروں میں شامل تھے تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اگر فوج انہیں اس تعاون کا دس فیصد بھی فراہم کرتی جو تحریک انصاف کو دیا جارہا ہے تو وہ ملک کی تقدیر بدل دیتے۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ وقت نے انہیں ایک ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے جہاں وہ ایک ایسے ہائبرڈ نظام میں وزیر اعظم ہیں جس میں فوج پوری طرح شراکت دار ہے ۔ اس کے باوجود ملک کی تقدیر بدلنا دور کی بات ہے، وہ امن و امان قائم کرنے اور بنیادی سیاسی شکائتیں دور کرنے کے اہل بھی دکھائی نہیں دیتے۔
تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج پر حکومت وقت کی بدحواسی اور سیاسی مخالفین کے ساتھ رویہ سے یوں ہی لگتا ہے کہ ملک میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد مخالفین کو جیلوں میں بند کرنا اور اختلاف رائے سننے سے انکار کا طریقہ ملک میں کوئی نیا نہیں ہے۔ پرانی غلطیوں کو دہرانے والوں کو جان لینا چاہئے کہ اس کا نتیجہ بھی وہی نکلے گا کو ماضی میں دیکھا گیا تھا۔ قوم کو بدی کے اس چکر سے نکالنے کی ضرورت ہے لیکن سیاسی لیڈر آنکھوں پر پٹی باندھے دلدل کی طرف بڑھنے پر مصر ہیں۔