امریکہ نے حملہ کیا تو جواب حیران کن ہوگا: ایران

  • سوموار 21 / ستمبر / 2026

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر نیا حملہ کیا تو ایران ’نئے ہتھیار‘ استعمال کرے گا اور جنگ کا جغرافیہ تبدیل کرتے ہوئے ان علاقوں کو نشانہ بنائے گا جنہیں اب تک نشانہ نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران ایسے نئے ہتھیار استعمال کرے گا جو دنیا کو حیران کر دیں گے۔ ان کے مطابق ایران نے ایسے ہتھیار تیار کیے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو ترقی دی ہے جنہیں جنگ کے موجودہ مرحلے میں استعمال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ان ہتھیاروں کو ایران کے ’سٹریٹجیک‘ ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جائے گا اور دنیا دیکھے گی کہ کیا ہوتا ہے۔

جنگ کے جغرافیے میں تبدیلی کے حوالے سے آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا کہ جنگ اب علاقائی شکل اختیار کر چکی ہے لیکن چونکہ خطہ بہت وسیع ہے، اس لیے اب بھی اس جنگ کے جغرافیائی طور پر پھیلنے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج طویل مدتی جنگ کی تیاری کر رہی ہے۔

آئی آر جی سی کے ترجمان کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ بعض علاقائی ممالک کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر، جو جنگ کے دوران ایران کا سب سے اعلیٰ فوجی ادارہ ہے، نے کہا ہے کہ ایران کو اطلاعات ملی ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایک یورپی ملک میں کئی علاقائی ممالک کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی ہے۔

دریں اثنا اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے اور اس مقصد کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رکھا جائے گا۔

والٹز نے ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ اگر ایران نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے تو اس کے لیے دروازہ اب بھی کھلا ہے۔

اس دوران صدر ٹرمپ دورہ مختصر کرکے کیمپ ڈیوڈ سے وائٹ ہاؤس واپس آگئے ہیں اور واشنگٹن میں ایران کے ساتھ مذاکرات یا  تصادم کے معاملہ پر غور و خوض ہورہا ہے۔