یہودی آبادکاریوں کے خلاف برطانیہ کا درست اقدام

برطانیہ نے اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری آبادکاری، آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خلاف جو قدم اٹھایا ہے، اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس خیرمقدم کے ساتھ ایک سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے: آخر برطانیہ کو یہ فیصلہ کرنے میں اتنی دیر کیوں لگی؟

برطانیہ ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی بات دنیا کے سامنے بڑے اعتماد سے کرتے ہیں۔ فلسطین کے معاملے میں بھی برطانوی حکومتیں برسوں سے اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی رہی ہیں، فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ تشویش کے بیانات بہت تھے، عملی اقدامات کم۔اب، بالآخر، لندن نے محض الفاظ سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔8 ستمبر 2026 کو برطانیہ نے اعلان کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی اور ان افراد و کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو غیر قانونی آبادکاری کی مالی معاونت، تعمیر یا توسیع میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ برطانوی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کو غیرقانونی سمجھتی ہے۔ یہ فیصلہ معمولی سفارتی بیان نہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایک ایسا ملک جو تاریخی، سیاسی اور سفارتی اعتبار سے اسرائیل کا قریبی اتحادی رہا ہے، اب یہ سمجھنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ خاموشی یا صرف تشویش کا اظہار کافی نہیں ہے اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں برطانیہ کو داد بھی دینی چاہیے اور اس سے سوال بھی کرنا چاہیے۔داد اس لیے کہ اس نے آخرکار عملی قدم اٹھایا، اور سوال اس لیے کہ یہ قدم بہت پہلے کیوں نہیں اٹھایا گیا؟

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کوئی نئی بات نہیں ہے۔ برسوں سے فلسطینی زمینوں پر بستیاں پھیلتی رہی ہیں۔ فلسطینی خاندانوں کی زندگی محدود ہوتی گئی، زمینوں اور گھروں پر دباؤ بڑھتا گیا اور آبادکاروں کے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا۔ برطانوی حکومت نے جون 2026 میں بھی آبادکاروں کے تشدد کو مالی اور تنظیمی طور پر سہارا دینے والے افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں اور خبردار کیا تھا کہ آبادکاری دو ریاستی حل کے لیے بنیادی خطرہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ اتنے عرصے سے معلوم تھا تو پھر عالمی طاقتوں کو فیصلہ کن کارروائی کے لیے مزید کتنے گھروں کے اجڑنے، کتنے لوگوں کے زخمی ہونے اور کتنی زمین کے چھن جانے کا انتظار کرنا تھا؟

اسرائیلی ریاست اور  حکومت میں فرق ضروری ہے۔یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہودی دشمنی یا اسرائیل کے وجود سے دشمنی قرار دینا ایک خطرناک طرزِ عمل ہے۔ برطانیہ کا موجودہ موقف بھی یہی ہے کہ اس کی کارروائی اسرائیلی عوام یا یہودی مذہب کے خلاف نہیں، بلکہ غیر قانونی آبادکاری، تشدد اور ان عناصر کے خلاف ہے جو ان سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔یہ فرق بہت اہم ہے۔دنیا میں لاکھوں یہودی ایسے ہیں جو انسانی حقوق، فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور ایک منصفانہ سیاسی حل کے حامی ہیں۔ خود اسرائیل کے اندر بھی ایسے دانشور، سائنس دان، سابق فوجی افسر اور سابق سیاست دان موجود ہیں جو آبادکاری اور آبادکاروں کے تشدد کی مخالفت کر رہے ہیں۔ حالیہ برطانوی پابندیوں کو اسرائیلی معاشرے کے بعض ممتاز افراد کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ فلسطینی حقوق کی بات کرنا یہودیوں کے خلاف ہونا ہے۔یہودی دشمنی اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید دو الگ چیزیں ہیں۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہودیوں کے خلاف نفرت کی مخالفت کرتا ہے تو اسے فلسطینیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی بھی مخالفت کرنی چاہیے۔ انسانی حقوق کی کوئی قومیت نہیں ہوتی ہے۔بستی صرف مکان نہیں بلکہ ایک سیاسی منصوبہ ہے۔

اسرائیلی آبادکاری کو صرف چند گھروں یا چند سڑکوں کی تعمیر سمجھنا بھی حقیقت کو چھوٹا کر دینا ہے۔آبادکاری ایک وسیع تر سیاسی منصوبے کا حصہ بن جاتی ہے جب اس کے نتیجے میں فلسطینی زمین مسلسل سکڑتی جائے، فلسطینی آبادی ایک دوسرے سے جغرافیائی طور پر کٹتی جائے اور ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا امکان کم ہوتا جائے۔اسی لیے برطانیہ نے اپنے حالیہ فیصلے کو دو ریاستی حل کے تحفظ سے جوڑا ہے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی آبادکاری اور آبادکاروں کا تشدد ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اگر فلسطینی ریاست کے لیے زمین باقی نہیں رہے گی تو دو ریاستی حل صرف سفارتی تقریروں میں رہ جائے گا۔ نقشے پر ایک تصور تو موجود ہوگا، لیکن زمین پر اس کی گنجائش ختم ہوتی جائے گی۔اور جب انصاف کی جگہ طاقت لے لیتی ہے تو پھر امن صرف ایک خوبصورت لفظ رہ جاتا ہے۔

اسرائیل کا ردعمل جو کہ ایک بڑا سوال ہے۔برطانیہ کے اقدام کے جواب میں اسرائیل نے سخت ردعمل دیا ہے۔ برطانوی حکومت کے خلاف سفارتی اقدامات میں مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا فیصلہ، بعض برطانوی سیاست دانوں پر سفری پابندیاں اور فلسطینی سکیورٹی فورسز کی تربیت سمیت بعض تعاون ختم کرنا شامل ہے۔ اسرائیل نے برطانیہ کو قونصل خانہ بند کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دی ہے۔ یہ ردعمل اپنے اندر بہت کچھ کہتا ہے۔اگر برطانیہ کی پابندیاں واقعی صرف علامتی اور بے اثر ہیں تو پھر اتنا شدید ردعمل کیوں؟اگر غیر قانونی آبادکاری کے خلاف کارروائی اسرائیل کی خودمختاری میں مداخلت ہے تو پھر فلسطینیوں کی زمین پر ایسی آبادکاری کو کس نام سے پکارا جائے جو خود عالمی برادری کی بڑی تعداد کی نظر میں بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے؟اور اگر اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ اس کے خلاف پابندیاں ناانصافی ہیں تو پھر سب سے مؤثر جواب یہی ہونا چاہیے کہ آبادکاری روکی جائے، آبادکاروں کے تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔پابندیوں کا بہترین جواب پابندیوں کی مخالفت نہیں، پالیسی کی تبدیلی ہے۔برطانیہ نے دیر کی، مگر راستہ درست چنا ہے۔

میں برطانیہ کی اس پالیسی کا خیرمقدم کرتا ہوں، اگرچہ اس کے نفاذ میں برسوں کی تاخیر پر سوال ضرور اٹھنا چاہیے۔برطانیہ کے لیے یہ آسان فیصلہ نہیں تھا۔ اسرائیل کے ساتھ اس کے تاریخی تعلقات ہیں، دفاعی اور سفارتی تعاون ہے اور برطانوی سیاست میں اسرائیل کے معاملے پر شدید اختلافات بھی موجود ہیں۔ اس کے باوجود حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کو محض سفارتی الفاظ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔یہی ایک جمہوری ملک کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔اصول اس وقت اصول نہیں رہتے جب ان پر عمل کرنا آسان ہو۔ اصول اس وقت اصول ثابت ہوتے ہیں جب ان پر عمل کرنے کی قیمت بھی ادا کرنا پڑے۔برطانیہ نے اگر یہ فیصلہ پہلے کیا ہوتا تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔ لیکن تاریخ میں بعض اوقات دیر سے اٹھایا گیا درست قدم بھی خاموشی سے بہتر ہوتا ہے۔یعنی دیر آید، درست آید۔

آج فرانس، کینیڈا اور کئی دوسرے ممالک بھی اسی سمت میں قدم بڑھا رہے ہیں۔ برطانیہ کے اقدام کے ساتھ متعدد ممالک نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی اقدامات کی حمایت یا تیاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ اب صرف فلسطین اور اسرائیل کے درمیان نہیں رہا۔ یہ بین الاقوامی قانون، انسانی وقار اور عالمی برادری کی ساکھ کا مسئلہ بن چکا ہے۔فلسطین کے لیے انصاف دراصل اسرائیل کے لیے بھی امن ہے۔فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کا مطلب اسرائیلی شہریوں کے حقوق سے انکار نہیں ہے۔ فلسطینیوں کے لیے آزادی کا مطالبہ اسرائیلی شہریوں کے لیے خوف کا مطالبہ نہیں ہے۔ اسی طرح اسرائیلی عوام کے تحفظ کی بات فلسطینیوں کی غلامی یا بے دخلی کا جواز نہیں بن سکتی ہے۔

آج دنیا کو دونوں قوموں کے لیے امن چاہیے۔مگر امن طاقت کے توازن کا دوسرا نام نہیں ہے۔ امن انصاف کے بغیر پائیدار نہیں ہوتا۔اگر ایک قوم کو مسلسل یہ احساس رہے کہ اس کی زمین چھینی جا رہی ہے، اس کے گھر مسمار ہو رہے ہیں، اس کے بچوں کا مستقبل غیر یقینی ہے اور دنیا صرف تشویش کے بیانات جاری کر رہی ہے تو وہاں امن کیسے قائم ہوگا؟اور اگر دوسری قوم کو یہ خوف رہے کہ اس کے وجود اور سلامتی کو خطرہ ہے تو وہاں بھی پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔اس لیے حل واضح ہے: دو ریاستیں، دو قوموں کے حقوق، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، غیر قانونی آبادکاری کا خاتمہ اور شہریوں کے تحفظ کی ضمانت۔برطانیہ نے کم از کم اس سمت میں ایک قدم اٹھایا ہے۔

آج برطانیہ کے سامنے ایک تاریخی موقع ہے۔ اسے اپنے حالیہ فیصلے پر قائم رہنا چاہیے، مگر ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی پالیسی اسرائیلی عوام یا یہودی برادری کے خلاف کسی نفرت کو جنم نہ دے۔ اسے ایک ہی اصول پر قائم رہنا چاہیے، نہ یہودیوں کے خلاف نفرت، نہ فلسطینیوں کے خلاف ظلم۔نہ دہشت گردی کی حمایت، نہ ریاستی طاقت کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی۔نہ قبضے کی حمایت، نہ بے گناہ شہریوں کا قتل۔برطانیہ اگر واقعی اپنے آپ کو قانون، جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتا ہے تو اسے اس راستے پر مزید آگے بڑھنا ہوگا۔ صرف آبادکاروں کے خلاف پابندیاں کافی نہیں؛ جہاں بھی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو، وہاں بلاامتیاز اصولی موقف اختیار کرنا ہوگا۔

انسانی حقوق کسی ایک قوم کی جاگیر نہیں۔ انصاف کسی ایک مذہب کا نام نہیں ہے اور آزادی کسی ایک نسل کا حق نہیں ہے۔اگر برطانیہ واقعی دو ریاستی حل، بین الاقوامی قانون اور انسانی وقار کا حامی ہے تو اسے اپنے اس فیصلے پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔فلسطین کے معاملے میں برطانیہ کی دیر سے بیداری قابلِ سوال ضرور ہے، مگر اس کی موجودہ بیداری قابلِ تحسین بھی ہے۔فلسطین کے لیے انصاف دراصل دنیا کے ضمیر کا امتحان ہے اور برطانیہ نے اس امتحان میں دیر سے سہی، مگر ایک اہم قدم ضرور اٹھایا ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ قدم محض ایک خبر نہ بنے، بلکہ ایک مستقل پالیسی بنے۔اور شاید آنے والی تاریخ یہی لکھے کہ جب دنیا خاموش تھی، تب کم از کم ایک دن برطانیہ نے کہا تھا:بس، اب بہت ہو چکا۔ س لیے آج برطانیہ سے یہی کہنا چاہیے۔دیر آید، درست آید۔