احتجاج غیر مؤثر کیوں؟

یہ دھرنے، یہ احتجاج حکومت کے خلاف ہیں یا عوام کے؟گرمی کی شدت کم ہوئی تو بازارِ سیاست کی گرمی بڑھ گئی۔ سیاست کا بھی ایک ہی روپ ہے جو ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں: احتجاج۔ ہجوم راستوں اور شاہراہوں کا رخ کرتے ہیں۔ انتظامیہ ملک بھر سے کنٹینر جمع کرتی ہے۔

چند دن تک عوام کی اذیت اور معیشت کی بر بادی اپنے عروج پر رہتے ہیں۔ احتجاج پُرتشدد ہو جائے تو کئی گھروں کے چراغ گُل ہو جاتے ہیں۔ دکھ اور فساد کے کچھ کہے اور کچھ اَن کہے قصے چھوڑ کر، ایک دن یہ احتجاج ختم ہو جاتا ہے۔ حکومت البتہ اپنی قوت اور شان کے ساتھ وہیں رہتی ہے۔ یہ داستان برسوں سے دہرائی جا رہی ہے۔ عوام نے کبھی سوچا کہ ان دھرنوں اور احتجاج سے انہیں کیا ملا؟ اہلِ دانش نے کبھی تجزیہ کیا کہ اس مشق کا حاصل کیا ہے؟ پاکستان میں احتجاج بے نتیجہ کیوں رہتے ہیں؟

احتجاج کو جب ہم جمہوری حق قرار دیتے ہیں تو پس منظر میں یہ مفروضہ ہوتا ہے کہ ہم ایک جمہوری معاشرے میں زندہ ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں جمہوریت بطور قدر مستحکم ہے،جس کا احترام سب پر واجب ہے۔ کوئی اقتدار میں ہے یا حزبِ اختلاف میں، یہ ضرور جانتا ہے کہ احتجاج کا مفہوم اس کے لیے کیا ہے اور جمہوریت اس کے لیے کیا آداب طے کرتی ہے۔ اہلِ اقتدار واقف ہیں کہ ان کی حکومت کا سب سے مضبوط ستون عوام کی تائید ہے۔ اگر یہ ستون قائم نہ رہا تو حکومت اپنا جواز کھو بیٹھے گی۔ احتجاج میں عوام کی شمولیت سے یہ طے ہو جاتا ہے کہ اس کوکتنی عوامی تائید حاصل ہے۔ اسے میڈیا میں بیان کیا جاتا ہے اور اگر عوام کی بڑی تعداد سراپا احتجاج ہو تو سماج میں یہ بات مستحکم ہو جاتی ہے کہ اس حکومت کو اکثریت کی حمایت میسر نہیں رہی۔ یا کسی خاص مسئلے پرعوام حکومتی پالیسی سے متفق نہیں ہیں۔ حکومت اس تاثر کو قبول کرتی ہے کیونکہ وہ بھی جمہوری معاشرے کا حصہ ہوتی ہے اور عوامی جذبات کا احترام کرتی ہے۔ اب وہ احتجاج کے نتیجے میں مستعفی ہو جاتی ہے یا زیرِ بحث پالیسی سے رجوع کر لیتی ہے۔ جو حکمران عوامی احتجاج کو نظر انداز کرتے ہیں، ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔

اس کی ایک مثال برطانیہ ہے۔ بر طانیہ کو جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے۔ جمہوریت اسی سرزمین پر جوان ہوئی اور مدتوں اس معاشرے نے اس کے شباب کو گرہن نہیں لگنے دیا۔ اس کے ساتھ برطانیہ وہ ملک ہے جو اسرائیل کے قیام کا اصل محرک ہے۔ اسی کی تائید سے اسرائیل نے ظلم کا ایک بازار گرم کیے رکھا۔ ہر بین الاقوامی فورم پر برطانیہ نے اس کی پشت پناہی کی۔ آج تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ برطانوی عوام کی اکثریت اسرائیل کے خلاف ہو گئی۔ ستمبر کے آغاز میں وہاں کے مزدوروں کی سب سے بڑی تنظیم  ’ٹریڈز یونین کانگرس‘ نے اسرائیل کے مکمل بائیکاٹ کی متفقہ قرارداد منظور کی۔ اس تنظیم کے اراکین کی تعداد پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ برطانوی پارلیمان میں اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھی۔ جلوس نکلے۔ ایک جمہوری معاشرہ ہونے کے ناتے برطانوی حکومت کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ عوامی جذبات سے صرفِ نظر کرے۔ اس احتجاج سے اثر قبول کرتے ہوئےبرطانیہ نے مغربی کنارے پر آباد اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی سمجھتے ہوئے، وہاں سے درآمدات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ جو کمپنیاں یہاں یہودی آباد کاری اور تعمیرات میں شریک ہوں گی، انہیں بھی بر طانیہ کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہو گا۔

اسرائیل اس پر شدید ناراض ہے اور اس نے ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم میں قائم اپنے قونصل خانے کو بند کر دے۔ یہ احتجاج کی قوت ہے جس نے ایک جمہوری معاشرے میں خود کو منوایا۔ دوسری طرف ٹونی بلیئر نے عوامی جذبات کے برخلاف، عراق کے خلاف امریکی جارحیت کا ساتھ دیا تو بدنامی ان کا مقدر بن گئی۔

جمہوری معاشرے میں احتجاج کرنے والوں پر بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ عوام کی زندگی کو اجیرن بنانے کے لیے نہیں نکل رہے۔ ان کا حتجاج کسی کا راستہ نہیں روکتا۔ سڑکیں بند نہیں کرتا۔ شاہراہوں پر دھرنے نہیں دیتا۔ وہ زندگی اور معیشت کو رواں رکھتا ہے۔ بہت کم ایسا ہو تا ہے کہ انسانی جانیں اس احتجاج کی نذر ہو جائیں۔ یوں احتجاج سماج کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ پس احتجاج کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے ایک جمہوری معاشرہ ناگزیر ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں حکومت جمہوری ہو اور اپوزیشن کی جماعتیں بھی اپنی حدود سے واقف ہوں۔ عوام جمہوریت کو بطور کلچر اپنا چکے ہوں۔ جہاں جمہوریت ایک قدر کے طور پر مستحکم ہو جو سیاسی ایمانیات کا حصہ ہو۔ جہاں جمہوری اقدار پر عمل کرنی والی سیاسی جماعتیں ہوں۔ جہاں پس پردہ قوتیں احتجاج کو منظم نہ کرتی ہوں۔ جہاں میڈیا کو یہ ذمہ داری نہ سونپی جاتی ہو کہ ایک دھرنے کو کامیاب بنانے کے لیے خود کو وقف کر دے۔ جہاں احتجاج کی تحریک عوام سے شروع ہوتی اور عوام پر ختم ہوتی ہو۔ جہاں یہ لوازمات پورے ہو جاتے ہیں، احتجاج مؤثر ہو جاتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ یہ لوازمات پورے نہیں کرتا۔ جمہوریت کا جو حال ہے، ہم جانتے ہیں۔ احتجاج کرنے والے اپنی ذمہ داری سے واقف ہیں نہ حکمران۔ یہاں اگر کوئی احتجاج کامیاب ہوا ہے تو وہی جس کے پس پردہ کوئی قوت کارفرما تھی۔ ایک مجلس میں کئی افراد کی موجودگی میں، دو باخبر اور معتبرصحافیوں نے جنرل پرویز مشرف صاحب سے کیے گئے اپنے اپنے انٹرویو کا حوالہ دیا۔ دونوں نے جنرل صاحب سے سوال کیا: ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کیا ہے؟ ان کا جواب تھا: جنرل اشفاق کیانی کو ایک انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ بنانا۔ برسبیلِ تذکرہ، جب جسٹس افتخارچودھری نے عَلمِ بغاوت بلند کیا اور وکلا سراپا احتجاج بن گئے تو اس وقت اشفاق کیانی اسی منصب پر فائزتھے۔ یہی احتجاج جنرل صاحب کے اقتدار کیلئے باعثِ زوال ثابت ہوا۔ اس کی  ’کامیابی‘ کا محرک واضح ہے۔ اس وجہ سے جنرل صاحب نے اس فیصلے کو اپنی غلطی کہا۔

جب یہاں لوگ اس جملے کو کثرت کے ساتھ دہراتے ہیں کہ ’احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے‘ تو وہ جمہوریت کے لوازم کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جمہوری حق جمہوری معاشروں میں ہوتے ہیں۔ مغرب کے سیکولر معاشروں میں  ’مذہبی حق‘ پہ اصرار نہیں کیا جاتا کہ یہ سیکولر معاشرت کی اقدار کے خلاف مطالبہ ہے۔ یہ مذہبی ریاست ہی کے سیاق میں درست ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہم پاکستان میں جمہوری حق کا مطالبہ کرتے ہیں تو پہلے ہمیں جمہوری بننا ہو گا۔ اہلِ اقتدار کو ماننا ہوگا کہ عوام ان کے خلاف ہو جائیں تو ان کا حقِ حکمرانی باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ احتجاج کا مطلب عوام اور معیشت کو نقصان پہنچانا نہیں ۔ جب تک یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئے گی، احتجاج، دھرنے نتیجہ خیز نہیں ہوں گے۔

آج جن دھرنوں اور احتجاج کا غلغلہ ہے، میرا احساس یہ ہے کہ یہ عوام کو اذیت میں اضافہ کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پائیں گے۔ نہ پٹرول سستا ہوگا نہ عمران خان صاحب رہا ہوں گے۔ ان کی کامیابی کی شرط وہی ہے جو گزشتہ کامیاب دھرنوں میں پوری ہوئی۔ مجھے یہ شرط اس بار پورا ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ اگر کسی نے پُرتشدد ہونے کی کوشش کی تو خاکم بدہن چند مزید گھروں کے چراغ گُل ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔ ساتھ ہی سب کو توفیق دے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ تحریک انصاف کے پچھلا دھرنا بھی پُرتشدد تھا جس نے کئی افراد کی جان لے لی۔ اس کی قیادت کو اس بار پرانا تجربہ دہرانا نہیں چاہیے۔ ریاست کے ساتھ تصادم سے، ہر صوررت میں گریز کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہوکہ ماضی کی طرح، یہ دھرنے عوام کواذیت اور دکھ کے سوا کچھ نہ دے سکیں۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)