پنجاب کا وارث؟

خِطۂ پنجاب کی تاریخ، شناخت، ثقافت، رسوم و رواج اور خوبیوں، خامیوں کے حوالے سے وارث شاہ کی ’ہیر‘ ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہیر وارث شاہ 1766 یعنی آج سے کوئی 260سال پہلے مکمل ہوئی تصنیف ’ہیر‘ کے تعارف میں ہے:

ایہہ قصِّہ ملک پنجاب دا اے

ایس نوں نال محبت پھرول میاں

یعنی ہیر رانجھے کی جو کہانی ہے یہ پنجاب نامی ملک کی ہے اور اس کہانی کو محبت سے پھرولو یا پھولو (کھولو اور پڑھو)۔ گویا پنجاب کا نمایاں ترین وصف محبت اور اس کی جغرافیائی حیثیت ایک ملک کی ہے۔ ’ہیر‘ وارث شاہ کے اس شعر سے جڑی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ 1765 میں پنجاب سے افغان حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور تختِ لاہور پرسکھ بھنگی مثل کے دو سرداروں سردار لہنا سنگھ اور سردار گجر سنگھ نے قبضہ کر لیا۔ دلچسپ بات ہے کہ یہ سکھوں اور مسلمانوں کی لڑائی نہیں تھی کیونکہ افغان ابدالی حکمرانوں کا گورنر دیوان کا بلی مَل ہندو تھا اسے اور اس کے بیٹے امیرمَل کو ہرا کر سکھ بھنگی مثل اقتدار میں آگئی اور پھر 30 سال تک یہی مثل اقتدار میں رہی۔ البتہ 1799 میں سکرچکیہ مثل کے سردار مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور کے بااثر مسلمان شہریوں مہر محکم دین، میاں محمد عاشق اور مفتی محمد مکرم کے دعوتی خط پر پنجاب کے سب سے بڑے شہر کا اقتدار سنبھالا اور 1849 میں انگریزوں کی آمد تک یہ اسی طرح بطور ملک موجود رہا، اس کی اپنی فوج، اپنی خارجہ پالیسی اور مخصوص زاویۂ نظر تھا ۔ ملک پنجاب کی حدود کا بل کو چھوتی تھیں۔ کشمیر، پشاور اور خیبرپختونخوا کا زیادہ تر حصہ اس ملک میں شامل تھا۔ انگریز نے پہلے صوبہ سرحد اور کشمیر کو الگ کیا اور جاتے جاتے پنجاب کو بھی دو حصوں میں تقسیم کرگیا۔

میں نہ پنجابیوں کے اعلیٰ اور برتر نسل سے ہونے کا دعویدار ہوں نہ ہی انہیں باقی نسلوں اور قومیتوں سے فروتر یاکم تر ماننے کو تیار ہوں۔ پنجابی بھی پٹھان، سندھی یا بلوچ بھائیوں کی طرح کبھی جنگیں ہارے اور کبھی جیتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ برطانیہ میں کبھی درباری زبان فرانسیسی رہی، کبھی رومن اور کبھی جرمن اسے تاراج کرتے رہے اور کبھی برطانیہ نے پوری دنیا پر راج کیا۔ پنجاب میں راجہ پورس، احمد خان کھرل اور نواب مظفر خان مزاحمت اور بہادری کی علامت بنے ہیں تو راجہ امبھی آف ٹیکسلا جیسوں نے خوف اور مفاد کی وجہ سے مصلحت اور مصالحت کاراستہ بھی چنا ۔ مٹی سے وفا کر کے اپنا خون پانچ پانیوں میں شامل کرنے والے شہیدوں کی کہانیاں بھی ہیں اور تاریخ میں مٹی سے بے وفائی کرکے غداری کرنے والوں کے قصے بھی ملیں گے۔

قیام پاکستان میں مسلم اکثریتی صوبوں نے اہم ترین کردار ادا کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ صوبے پہلے ہی موجود تھے ملک بعد میں بنا ۔ پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلیوں اور لیڈروں نے ملکر پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ، صوبہ سرحد میں ریفرنڈم سے فیصلہ ہوا جبکہ بلوچستان بطور صوبہ پہلی دفعہ 1970 میں ہی وجود میں آیا۔ ہر صوبے کی اپنی تاریخ ہے اور اپنے وطن ، صوبے یا ملک سے لگاؤ مذہب تک میں بھی جائز ہے۔ اپنی شناخت وثقافت سے محبت کا مطلب کسی دوسرے کی مخالفت یا نفرت پر مبنی ہو تو اسے تعصب کہتے ہیں۔ اپنی پاکستانی شناخت پر فخر کے ساتھ ساتھ پنجاب کی جنم بھومی سے محبت رکھنا جرم نہیں۔ میں سندھیوں، پشتونوں اور بلوچوں کی شناخت اور تاریخ کواچھی طرح تبھی سمجھ سکتا ہوں اگر پہلے اپنی پنجابی شناخت کو جان لوں۔ موجودہ پاکستان میں پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جو قیام پاکستان کے وقت دو بڑے حصوں میں تقسیم ہواجہاں قتل ِعام اور غارت گری ہوئی۔ افسوس یہ ہے کہ کوئی پنجابی نہ مسلم، نہ سکھ اور نہ ہندو اس تقسیم کے خلاف بولا ۔ مسلمانوں کو اپنی مسلم شناخت کی برتری پر ناز تھا اور سردار تارا سنگھ سکھوں کو ہندوؤں کے ساتھ جوڑنے پر تلے ہوئے تھے۔ ایسے موقع پر جب کوئی نہ بولا تب گوجرانوالہ کے سکھ گھرانے میں پیدا ہونے والی امرتا پریتم نے وارث شاہ ہی کو یاد کرکے یوں آواز دی تھی:

’اج آکھاں وارث شاہ نوں،/کِتوں قبراں وچّوں بول/ تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول/ ایک روئی سی دھی پنجاب دی/ توں لِکھ لِکھ مارے وین/اج لکھیاں دھیاں روند یاں/ تینوں وارث شاہ نوں کہن‘

(میں وارث شاہ سے کہتی ہوں کہ اپنی قبر سے بولو، اور اپنی کتاب ِعشق ’ہیر‘ کا کوئی اگلا ورقہ پھرولو۔ جب پنجاب کی ایک بیٹی روئی تھی تو تم نے رو رو کے بین کئے تھے، آج لاکھوں بیٹیاں رو رہی ہیں کہ وارث شاہ چپ کیوں ہے؟)

کئی پنجاب پر چھوٹے صوبے استحصال کا الزام لگاتے ہیں مگر دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستان کیلئے پنجاب نے جہاں فوج کے ذریعے اپنی جانیں قربان کر کے ملک کو مضبوط بنایا وہاں پنجابی زبان اور لباس تک کی شناخت کو قربان کر دیا، پنجابی کی بجائے گھروں میں اردوبولی جاتی ہےاور ایک لمبے عرصے تک ساڑھی کو عورتوں کے اشرافیہ پیراہن کے طور پر اپنائے رکھاگیا۔ پنجاب کی پاکستان کیلئے صدقے واری جانے کی روایت ہی کی وجہ سے نئے صوبوں کی بات چلی تو سندھ سے گرج چمک اور آندھی آئی۔ کراچی کے مہاجر بھی زور و شور سے بولے۔ پختونوں کے وارث مولانا فضل الرحمٰن اور دوسرے لیڈر بھی گویا ہوئے، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی بھی بحث میں نمایاں رہے مگر پنجاب کے نہ حکمران ، نہ سیاستدان اور نہ ہی دانشور بولے ۔ نہ یہ 1947 میں مسلم مفاد کی خاطر بولے نہ یہ 2026 میں ملکی مفاد میں بول رہے ہیں۔ نہ آج امرتا پر یتم زندہ ہے، آج کی شاعرہ کوئی عارفہ مریم ہوگی۔ جو چپ ہے اور نہ ہی آج وارث شاہ ہے، آج تو مصلحت شاہ کی شاعری اور نثرکا دور دورہ ہے۔ مصلحت شاہ حساسیت اور خوفِ فساد خلق کی وجہ سے ہونٹ سئے ہوئے ہے، بولے تو کون بولے پنجاب کے سب وارث شاہ تو مر چکے۔

دنیا کی ہر قوم میں کوئی نہ کوئی تعصب ہوتا ہے۔ ہم بھی کئی طرح کے تعصّبات کا شکار ہیں۔ عربوں کو عصبیت کی بیماری نےعروج سے زوال اور امن سے جنگ کی طرف دھکیلا اور وادی سندھ کے مکینوں کوتعصّبات اور شک وحسد کی بیماری نے ترقی نہیں کرنے دی ۔ دنیا میں بادشاہی اور حکمرانی ہمیشہ دولت مندوں، بہادروں اور عقل مندوں کی رہی ہے مگرکئی حاسد پنجابیوں کو ’ڈھگا‘ یعنی بے وقوف کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں ، کبھی کبھی ڈراموں کا پنجابی یا سندھی کردار سب سے سیدھا سادا دکھایا جاتا ہے۔  فلموں میں پنجابیوں کی ماردھاڑ اور جاگیردار کے ظلم کو پنجابی ثقافت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ مگر کیا پنجاب واقعی یہی ہے۔ پنجاب کے دو ڈویژنوں کی فی کس آمدنی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ عالم اسلام کی سب سے زیادہ طاقتور فوج میں پنجابیوں کی تعدادتناسب کی اعتبار سے ہمیشہ سے زیادہ رہی ہے ۔ گزشتہ 300 سال سے اس خطے کے سب سے زیادہ حکمران پنجاب سے ہوئے ہیں۔ گویا عقل مندی میں یہ پیچھے ہوتے تو حکمرانی کیسے ممکن تھی۔ کوئی انہیں غدار کہے یا ایجنٹ سچ تو یہ ہے کہ 1857 میں دہلی کی فتح، پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم میں پنجابیوں نے جو جانی قربانیاں دیں، پنجاب کے وزیراعظم سکندر حیات کے بقول برطانوی وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل نے قاہرہ میں پنجابیوں کے خون بہا کے طور پر الگ وطن بنانےکا وعدہ کیا تھا جو بالآخر پاکستان کی شکل میں منّصہ شہود پر آیا۔

آج بھی پنجاب 1947 کی طرح تقسیم ہونے یا قربان ہونے پر نہ چیخے گا نہ چلائے گا، وُ ہ معصوم بکرے کی طرح قربان ہو جائے گا۔ اگر واقعی پاکستان کا اس میں فائدہ ہو۔ لیکن اگر نئے صوبوں سے ملکی دفاع، استحکام اور سلامتی کو خطرہ پیدا ہونا ہو تو ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ یاد رکھنا چاہیے کہ نئے صوبے الگ الگ جزیرے ہوں گے، لاہور اور گوجرانوالہ تو پھر بھی اپنی امارت اور صنعتوں کی وجہ سے سنگاپور ہوں گے اور بہاولپوریا راجن پور افریقہ کے کوئی ملک۔ تاریخ اور جغرافیے سے چھیڑ چھاڑ، انسانی دماغ کے آپریشن سے بھی زیادہ نازک اور حساس ہوتی ہے۔ ہاتھوں میں کہیں بھی لرزش آگئی تو توازن بگڑ جائے گا اورتوازن بگڑے تو عمارت کی، ہمیشہ کیلئے، بنیادیں ہل جاتی ہیں

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

تحریر : سہیل وڑائچ

???? ????? ??? ?? ????? ????? ??? ????? ???? ???? ?? ???? ???? ?????? ??? ????? ?? ????? ?? ??? ?? ????? ?? ??? ? ?? ?? ???? ???? ????? ???? ?? ???? ??? ???? ???? ??? ????? ?? ?? ????? ??? ???? ????? ????? ??? ?? ?? ????? ?? ??????? ??? ???? ?? ??? ???? ??