کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیاہوگا؟
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 21 / ستمبر / 2026
لگتا ہے کہ پورا ملک احتجاج اور لانگ مارچ کے موڈ میں ہے۔ جماعت اسلامی پیٹرول کی قیمتیں کم کرانا چاہتی ہے اور منزل پر منزل مارتی اسلام آباد کی طرف مارچ کررہی ہے۔ لیکن حکومت روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کررہی ہے۔ کسان اتحاد گندم اور زرعی پیداواری اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر سہولتوں کے لیے 25 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے کی تیاری کررہا ہے۔
اس حوالے سے البتہ جس لانگ مارچ یا احتجاج پر سب سے زیادہ توجہ مبذول ہے، وہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ ہے ۔ پارٹی یوں تو ہر شہر اور ہر صوبے میں احتجاج کا اعلان کررہی ہے لیکن قیاس کیا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبر پختون سے حقیقی جلوس یا احتجاجی جتھہ اسلام باد کا رخ کرے گا۔ جیسے تحریک انصاف کے لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے، ویسے ہی تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا حقیقی مقصد شاید پارٹی کے لیڈروں کو بھی معلوم نہیں ہے۔ البتہ پارٹی لیڈروں کے بیانات اور حکومتی ردعمل اور جوابی انتباہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس لانگ مارچ اور دھرنے کو ’تخت یا تختہ‘ سمجھا جارہا ہے۔
پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ اگر وہ قابل ذکر احتجاج منظم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو شہباز شریف کی چھٹی ہوجائے گی ۔ اور حکومت کا خیال ہے کہ اگر اس بار ’گولی کے بدلے گولی اور حقیقی سبق سکھانے‘ والے اقدامات کیے گئے تو تحریک انصاف کو اپنی اسٹریٹ پاور کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا اور موجودہ دور حکومت میں شاید اسے دوبارہ سر اٹھانے کا حوصلہ نہیں ہوگا۔ البتہ پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ دونوں اندازے غلط ثابت ہوں گے۔ پی ٹی آئی بھی یہیں موجود رہے گی اور نئی دھمکیوں اور نئی شرائط کے ساتھ میدان میں آجائے گی جبکہ حکومت کے جانے کا بھی ابھی کوئی امکان نہیں ہے۔ لہذا اندازہ یہی ہے کہ 28 یا 29 ستمبر کو ملک کے وزیر اعظم کا نام بدستور شہباز شریف ہی ہوگا۔
حکومت نے جماعت اسلامی یا کسان اتحاد کے احتجاج کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی ۔ بلکہ جماعت اسلامی کے امیر نے تو آج بھی یہ پیش کش کی ہے کہ اگر حکومت پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان کردے تو جماعت اسلامی لانگ مارچ ختم کردے گی۔ البتہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں چار روپے 60 پیسے اضافہ کرکے فی الحال حافظ نعیم الرحمان کو ’فیس سیونگ‘ کا موقع دینے سے گریز کیا ہے۔ البتہ کسانوں سے بات چیت کی پیش کش کی گئی ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ ایسی کوئی بات چیت کسان لیڈروں کاوقتی جوش و خروش کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوگی۔ البتہ نہ تو حکومت تحریک انصاف کے ساتھ کوئی نرمی برتنا چاہتی ہے اور نہ ہی تحریک انصاف سومنات فتح کرنے جیسے دعوؤں سے باز آنے پر آمادہ ہے۔ اس لیے یہ مڈ بھیڑ شاید ہوکر رہے گی ۔البتہ اس کی شدت اور عواقب کےبارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اگر اس احتجاج میں کچھ لوگوں کی جان جاتی ہے تو نہ تحریک انصاف کے ووٹ بنک میں اضافہ ہوگا اور نہ ہی حکومت کی سیاسی حیثیت پر کوئی فرق پڑے گا ۔ البتہ چند بے گناہوں کی ہلاکت کے بعد ملک میں چند ہفتے حکومت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا ذکر ضرور سنا جائے گا۔ حکومت اسی صورت حال سے بچنے کے لیے پارٹی کے تمام سرکردہ لیڈروں کو گرفتار کرکے تحریک کا مومنٹم توڑنا چاہتی ہے۔ لیکن بسا اوقات صف اول کی قیادت کو منظر نامہ سے ہٹاکر یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا اور قیادت زیادہ جوشیلے کارکنوں یا کم تر درجے کے لیڈروں کے ہاتھ میں آنے سے زیادہ نقصان کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
تحریک انصاف ہی کے معاملہ میں دیکھا جائے تو عمران خان اور دیگر اہم لیڈروں کو گرفتار کرکے حکومت یا اسٹبلشمنٹ نے بظاہر پارٹی کو منتشر کیا اور اس وقت کوئی بھی شخص پی ٹی آئی کا متفقہ لیڈر نہیں ہے ۔لیکن پارٹی کے ساتھ کوئی سیاسی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکا جو عمران خان کی موجودگی میں ممکن ہوسکتا تھا۔ عمران خان بھی ضرور ضدی ہوں گے اور سانحہ 9 مئی کے علاوہ دیگر معاملات پر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے پر آمادہ نہیں ہیں لیکن اس وقت تو یہی لگتا ہے کہ عمران خان کے انکار کی وجہ یہ ہے اسٹبلشمنٹ انہیں اقرار کا موقع دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ شہباز شریف کی حکومت بھی اسی مشکل صورت حال کا شکار ہے۔ وہ اگر عمران خان کو کچھ رعایت دینا بھی چاہے تو اس معاملہ میں اس کے ’ہاتھ بندھے‘ محسوس ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اسے اناؤں کا ٹکراؤ بھی کہتے ہیں لیکن یہ ٹکراؤ موجودہ صورت حال میں یک طرفہ ہے ۔ورنہ تحریک انصاف تو فیلڈ مارشل کے ساتھ ہتھ جوڑی کے متعدد اشارے دیتی رہی ہے۔
جماعت اسلامی اور کسان اتحاد کی دھمکیوں کے بارے میں حکومت چونکہ آزادی سے فیصلے کرسکتی ہے ، اس لیے ان کے احتجاج کو زیادہ پریشان کن نہیں سمجھا جارہا۔ ویسے بھی جماعت اسلامی نے ضرور ایک مقبول نعرہ لگا کر اپنی پارٹی کے لیے سیاسی سپیس حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن عوام کے علاوہ جماعت اسلامی میں بھی چند ہی لوگوں کو اس بات کا یقین ہوگا کہ اس احتجاج کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ ورنہ جماعت اسلامی کے لیڈر پیٹرول پر لیوی کم یاختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی ضرور بتاتے کہ پھر یہ نقصان کیسے پورا کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف یا کوئی دوسرا مالیاتی ادارہ اس مقصد کے لیے تو قرضہ دینے پر بھی آمادہ نہیں ہوگا اور نہ ہی پرائیویٹ مارکیٹ میں حکومت کے جاری کردہ بانڈز یہ مالی ضرورت پوری کرسکتے ہیں۔ قرض لے کر کسی مسئلہ کو ٹالنے کا ایک ہی نتیجہ نکلے گا کہ جلد ہی یہ مسئلہ زیادہ بھیانک شکل میں سامنے آئے گا اور ملک پر قرض اور سود کے بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ اس کی بجائے جماعت اسلامی اگر ٹیکس نہ دینے والوں اور تاجروں کو ٹیکس ادائیگی پر آمادہ کرنے کے لیے مہم جوئی کرتی تو شاید اس کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے آسکتا۔
کسانوں کے بعض مطالبے ضرور جائز ہیں لیکن شاید کسان لیڈروں کو بھی اندازہ ہوگا کہ موجودہ حالات میں جب حکومت تحریک انصاف کا احتجاج ناکام بنانے کے لیے سخت اقدامات کررہی ہے، ان کے لیے اسلام آباد جاکر احتجاج کرنا آسان نہیں ہوگا۔ نہ میڈیا پر ان کی بات سامنے آئے گی اور نہ ہی حکومت ان کے شور پر کان دھرے گی۔ اسی لیے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر کسان اتحاد کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ ہؤا تو اسلام آباد سے دور کسی مقام پر کسانوں کو دھرنا یا احتجاجی کیمپ لگانے کی اجازت دے دی جائے۔ یوں سانپ بھی مرجائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی۔ البتہ تحریک انصاف کے احتجاج کا معاملہ دونوں طرف بے یقینی اور بے بسی کی وجہ سے زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہے۔ تحریک انصاف عمران خان کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی اور عمران خان کی خواہش ہے کہ ان کی پارٹی کسی طرح کوئی ایسا ’دھماکہ‘ کرے کہ حکومت انہیں رہا کرنے پر مجبور ہوجائے۔ دوسری طرف حکومت اگر کوئی سہولت دینے پر آمادہ ہو بھی تو اسٹبلشمنٹ کے تیور دیکھ کر اسے اپنا ارادہ تبدیل کرنا پڑتا ہے۔
ملک کے سیاست دانوں نے یہ مشکل خود اپنے لیے پیدا کی ہے۔ لگ بھگ تمام سیاسی پارٹیوں نے عوام کو حلقہ انتخاب سمجھنے کی بجائے اسٹبلشمنٹ سے تعلقات کو اقتدار تک پہنچنے کا پیمانہ بنایا ہؤا ہے۔ جب یہ خواہش پوری نہیں ہوتی تو وہ مولانا فضل الرحمان یاحافظ نعیم الرحمان کی طرح روٹھ جاتے ہیں اور جب اقتدار میں شراکت کی ’لاٹری‘ نکل آئے تو سب کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے تمام بڑی پارٹیوں کی بھی یہی سیاست اور یہی حکمت عملی ہے لیکن وہ محض حصہ داری سے نہیں بہلتے بلکہ مخالف پارٹی کو گرانے کی خواہش بھی ہمرکاب ہوتی ہے۔ ملکی تاریخ میں سیاسی قیادت کبھی اس قدر کمزور اور بے بس نہیں ہوئی جتنی ہوس اقتدار کی جد و جہد میں ،وہ اس وقت ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی احتجاج نہ تو کامیاب ہوسکتا ہے اور نہ سیاسی مطالبوں کی بنیاد پر دو فریق مل بیٹھ کر معاملہ طے کرپارہے ہیں۔
پاکستا نی لیڈر احتجاج کو جمہوریت کا ناگزیر حصہ سمجھتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ صرف احتجاج اور دارالحکومت پر حملے کرنے ہی کو جمہوریت نہیں کہتے ۔ اس کے لیے اپنی بات کہنے کے علاوہ دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے سیاسی لیڈر صرف ایک طاقت کی آواز سننا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ آواز مخالف فریق تک نہ پہنچے۔ اس لیے لانگ مارچ اور دھرنوں کا موجودہ مرحلہ عبور ہونے کے بعد تمام فریق ایک بار پھر پوائینٹ زیرو سے اپنی ’جد و جہد‘ کا آغاز کرتے دکھائی دیں گے۔