6 سال بعد جنید حفیظ کے خلاف توہین مذہب کیس کی سماعت

  • منگل 22 / ستمبر / 2026

توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے جنید حفیظ کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کے تقریباً چھ برس بالآخر لاہور ہائی کورٹ نے آج اپیل کی سماعت کی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صادق محمود خرم اور جسٹس جواد ظفر نے جنید حفیظ کی اپیل پر سماعت کی۔

منگل کے روز ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے پراسکیوشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے۔ یاد رہے کہ درخواست گزار نے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف 2020 سے اپیل دائر کر رکھی ہے۔ اس سے قبل جنید حفیظ کے وکیل سیف الملوک نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پہلے بھی متعدد بار یہ اپیل سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی تاہم اس کو سنا ہی نہیں گیا۔

جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں پیدا ہونے والے جنید حفیظ ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی میں بطور وزیٹنگ لیکچرار خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے فل برائٹ سکالرشپ کے تحت امریکہ میں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔ 2013 میں ان کے خلاف مذہبی دل آزاری والے کلمات ادا کرنے اور سوشل میڈیا پر مذہبی دل آزاری پر مبنی تبصرے کرنے کے الزام لگا کر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سکیورٹی خدشات کے باعث مقدمے کی سماعت ملتان سینٹرل جیل میں کی گئی۔ اس مقدمے کے دوران ان کے وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن راشد رحمان کو مئی 2014 میں ملتان میں ان کے دفتر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

دسمبر 2019 میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کاشف قیوم نے جنید حفیظ کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 295 اے، بی اور سی کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی، عمر قید، 10 سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

جنید حفیظ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔