حکمرانوں کے قول و فعل کا تضاد
- تحریر خالد مسعود خان
- منگل 22 / ستمبر / 2026
اب تو خیر سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور کوئی چیز زیادہ دیر چھپی نہیں رہتی۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جھوٹ بہرحال سامنے آ جاتا ہے۔ اس بات پر ضرور بحث ہو سکتی ہے کہ جھوٹ کو کتنے عرصے تک پردے میں رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ سچائی بالآخر سامنے آ جاتی ہے۔
جب سوشل میڈیا کا زمانہ نہیں تھا تب جھوٹ اس تیزی سے آشکار نہیں ہوتا تھا جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔ اُس زمانے میں جھوٹ بولنے والے یہ سمجھتے تھے کہ ان کا جھوٹ چھپ جائے گا۔ ویسے بھی ہر جھوٹ بولنے والے کو ہمیشہ یہ خوش فہمی رہی ہے کہ اس کا جھوٹ عیاں نہیں ہو گا‘ یا وہ اسے سچ ثابت کر دے گا‘ لیکن سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی کے دور میں تو اب اس چیز کا امکان مزید کم ہو گیا ہے کہ جھوٹ کو زیادہ دیر تک چھپایا جا سکے۔
ہمارے حکمران بلکہ ہمارے کیا،دنیا بھر کے حکمران اپنے ہر جھوٹ کے بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ بھلا ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات جھوٹ کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے بھونپو عوام کو یہ بات باور کرانے میں لگے رہتے ہیں کہ ہمارے حکمران معصوم عن الخطا کے درجے پر فائز ہیں، اس لیے وہ جھوٹ نہیں بول سکتے لہٰذا ہم لوگوں کا اس بات پر ایمان ہونا چاہیے کہ وہ جو بھی کہہ رہے ہیں بس وہی سچ ہے۔
اگست 1997 میں لندن کے مشہور جیولر ’شاٹیلا‘سے ہیروں اور نیلم کا ایک قیمتی سیٹ جس میں ایک نیکلس،بالیاں، کڑا اور ایک انگوٹھی شامل تھی، خریدا گیا۔ خرید کے وقت اس کی قیمت ایک لاکھ 17 ہزار برطانوی پاؤنڈز یعنی آج کے حساب سے تقریباً 4 کروڑ 35 لاکھ روپے تھی۔ ان زیورات کی قیمت کا کچھ حصہ نقد اور بقیہ رقم بومر فنانس نامی آف شور کمپنی کے ذریعے اداکی گئی،جس کے بینیفشل آصف علی زرداری تھے۔ زرداری صاحب کی کمپنی کی جانب سے ادائیگی کے باعث اس جیولری سیٹ کی ملکیت کی کڑیاں بینظیر بھٹو سے جا ملتی تھیں۔ اس دور میں اس نیکلس کا بہت زیادہ شور اٹھا۔ اپوزیشن اس نیکلس کی ملکیت، اس کی قیمت، اس کی خریداری اور اتنی بڑی رقم کے بارے میں سوالات اٹھانے لگ گئی۔
جب یہ شور وغوغا زیادہ بلند ہوا تو بینظیر بھٹو نے بڑے واضح الفاظ میں اس قسم کے کسی نیکلس کی خریداری اور ملکیت سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے بڑے تیقن سے کہا کہ ان کے پاس ایسا کوئی نیکلس نہیں اور یہ سب الزامات ان پر بہتان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ساری باتیں محض الزام کی حیثیت رکھتی ہیں جو اپوزیشن ان کی سیاسی کردار کشی کے لیے ان پر لگا رہی ہے،ان کا دامن اس قسم کی چیزوں سے پاک ہے اور وہ ایسی کسی بھی شے کی ملکیت سے انکار کرتی ہیں۔ ان کے اس بیان پر پیپلز پارٹی کے ڈھنڈورچیوں نے بھی یہ بیان کورس کی شکل میں دہرانا شروع کر دیا کہ بی بی کی ملکیت میں کوئی نیکلس ویکلس نہیں اور یہ سارے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔
تین ماہ بعد نومبر 1997میں مسلم لیگ کی حکومت آ گئی۔ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف ایس جی ایس اور کوٹیکنا کرپشن کیسز کی تحقیقات شروع ہو گئیں۔ جون 1998میں سوئس عدالت کے تفتیشی جج کی ہدایت پر یہ زیورات بینک لاکر سے نکال کر سوئس حکام کے حوالے کر دیے گئے۔ اگست 2003 میں عدالت نے منی لانڈرنگ کے الزام میں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کو چھ ماہ کی معطل شدہ سزا سناتے ہوئے ان کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے اور غیر قانونی رقم سے خرید کردہ ان زیورات کو حکومتِ پاکستان کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں ان زیورات کی ملکیت سے انکار کرنے والی بینظیر بھٹو نے پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ زیورات ان کے شوہر آصف زرداری نے تحفے میں دیے تھے مگر انہوں نے یہ تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ (نومبر 2014میں بومر فنانس نامی آف شور کمپنی نے ان زیورات کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا مگر عدالت نے ان کی ملکیت کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ان زیورات کو آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کی ملکیت قرار دیا)۔ جب ملکیت کا معاملہ کھل کر آشکار ہو گیا تو بینظیر بھٹو نے فرمایا کہ وہ تین پشتوں سے وزیراعظم ہیں کیا وہ ایک نیکلس بھی نہیں خرید سکتیں؟ پیپلز پارٹی کے جیالوں نے بجائے یہ سوال کرنے کے کہ پہلے غلط بیانی کیوں کی اور بعد میں عدالتی فیصلے کے بعد ان کو کیسے یاد آیا کہ وہ تین پشتوں سے وزیراعظم ہیں اور یہ سیٹ خرید سکتی ہیں۔ دوبارہ کورس میں راگ الاپنا شروع کر دیا کہ ان کی لیڈر تین پشتوں سے وزیراعظم ہیں کیا وہ زیورات کا ایک سیٹ بھی نہیں خرید سکتیں؟ تب اس جھوٹ کا پردہ مکمل طور پر فاش ہونے میں سترہ سال کا عرصہ لگا۔ لیکن اب سوشل میڈیا کی تیز رفتاری نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔
ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ بنیاد ٹیڑھی رکھیں تو اس کے بعد دیوار کو خواہ آسمان تک لے جائیں، وہ سیدھی نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر آپ کسی بات کی بنیاد جھوٹ پر رکھیں تو اس پر سچائی کی دیوار کبھی بھی سیدھی کھڑی نہیں کی جا سکتی۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے جھوٹ در جھوٹ کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ سچ اپنی دلیل خود ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے حکومت پنجاب کے ملکیتی سرکاری جہاز پر لندن میں اپنی بیٹی کی گریجوایشن کے سو فیصد ذاتی دورے کے بعد کہا کہ ہاں! میں سرکاری جہاز پر لندن گئی تھی اور میں آئندہ بھی اس پر جاؤں گی۔ آخر میں ناقدین کو چڑانے کے لیے کہا ’تھینک یو ویری مچ‘۔ یہ قلمکار وزیراعلیٰ کی اس گفتگو پر صرف لکھ ہی سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ کو روک تو نہیں سکتا۔ تاہم صرف اتنی عرض ہے کہ اگر یہ بیان اس جہاز کی خرید کے روزِ اول ہی دے دیا جاتا تو طبلچیوں کو سو پینترے بدل بدل کر جھوٹ نہ بولنا پڑتا۔ اس جہاز کا جو سفر پنجاب ایئرلائن سے شروع ہوا تھا، اس کا اختتام لندن کے ذاتی دورے پر نہ کرنا پڑتا۔
بیان آیا کہ اس دورے پر خرچ ہونے والے تمام تر اخراجات جو کہ مبلغ پونے تین کروڑ روپے بنتے تھے، وزیراعلیٰ نے اپنی جیب سے ادا کیے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میاں نواز شریف وزارتِ عظمیٰ کے دوران لندن سے اپنا علاج کروا کر واپس آئے تو ان کے کسی وزیر نے اسمبلی میں یہی بیان دیا تھا کہ اس علاج اور دورے کے سارے اخراجات میاں نواز شریف صاحب نے ذاتی جیب سے ادا کیے ہیں۔ بعد میں علم ہوا کہ دیگر سارے اخراجات کے علاوہ لندن میں رہائش پذیر دو عدد خوشحال بیٹوں کے ہوتے ہوئے ایک علیل باپ نہ صرف بازار سے سرکاری خرچ پر کھانا منگواتا رہا بلکہ فیکس، ٹیکسی اور اخبارات وغیرہ کے بل بھی حکومتِ پاکستان کے کھاتے سے ادا کیے گئے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے عالم میں جب قوم کو سادگی اور بچت کا بھاشن بھی سنایا جا رہا ہے اور ’میرا پیسہ، میری مرضی‘ پر قدغن لگاتے ہوئے امرا اور صاحبِ حیثیت افراد کو بھی شادی پر ون ڈش کا پابند کیا جا رہا ہے، حکمران خواہ اپنا پیسہ ہی سہی،اس طرح لگژری جہاز کے سفر پر کس طرح لٹا سکتے ہیں؟ کیا حکمرانوں کے بھاشن، پابندیاں، نصیحتیں اور دعوے صرف عوام کے لیے ہیں؟ جب تک حکمران خود مثال قائم نہیں کرتے، ان کی کسی بات کا نہ کوئی اثر ہے اور نہ ہی کوئی فائدہ ہے۔ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد ہو تو عوام سے کسی اچھائی کی توقع رکھنا عبث ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)