سیاست کو پنجابی فلم نہ بنائیں
- تحریر نسیم شاہد
- منگل 22 / ستمبر / 2026
پاکستانی سیاست پر آج کل پنجابی فلم کا گمان ہو رہا ہے، بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا اُس پر پنجابی فلم کا رنگ چڑھ گیا، پنجابی فلم بھی سلطان راہی اور مصطفےٰ قریشی کے زمانے والی، جس میں مولے نوں مولا نہ مارے تو مولا نہیں مردا اور نواں آیاں اے سوہنیا، جیسے بڑھک مار ڈائیلاگ بولے جاتے ہیں۔
تحریک انصاف کے ایک رہنما جنید اکبر نے تو اسلام آباد کو سومنات بنانے کی بڑھک بھی مار دی ہے۔ پتہ نہیں موصوف کو اس کا مطلب بھی معلوم ہے یا نہیں۔ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔ وزرابھی ٹنگاں توڑ دیاں گے، ساڈے پنڈ ول رُخ کیتا تے،جیسے مکالمے بول رہے ہیں۔ارے بھائیو! ذرا دھیمے چلو، کچھ بھی نہیں ہونا، بات ایسی فتح و شکست کی طرف نہیں جا رہی جس میں سب کچھ تہس نہس ہو جاتا ہے۔ کوئی بھی جرأت مندانہ اقدام دونوں طرف سے ہونے والی اس آگ پر پانی ڈال سکتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی جائے۔ سیاست کو سیاست کی طرح ڈیل کریں گے تو سیاسی حل بھی نکل آئے گا۔ یہ عوام تو بے چارے معصوم ہوتے ہیں لائی لگ ہیں، انہیں جوش نہ دلائیں وگرنہ یہ ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان کی79 سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ عوام کو کس بری طرح سے اس سیاست کا ایندھن بنا کر مروایا گیا ہے۔
میں تو اپنی زندگی میں ان جیتی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں، کیسے کیسے عوام کو اشتعال دِلا کر موت کے منہ میں دھکیلا گیا۔ نتیجہ سوائے خوابوں کے ریزہ ریزہ ہونے کے کچھ بھی نہیں نکلا۔ دھوکے کسی اور نے نہیں، سیاستدانوں نے دیئے۔ منزل سے پہلے گاڑی سے اُتر گئے، غریبوں کے بچے مرے اور سیاستدان پھر کسی نئی منزل کی تلاش میں سرگرداں ہو گئے، اے ساکنانِ پاکستان، آج جو اقتدار میں ہیں، کیا انہوں نے اقتدار کے لئے پچھلی کئی دہائیوں میں یہ کھیل نہیں کھیلا، جو آج باہم شیر و شکر ہیں، انہوں نے تحریکوں میں معصوم جانیں نہیں لیں، کس مقصد کے لئے، کس آدرش کے لئے۔ اقتدار میں آنے کے بعد سارے وعدے، سارے انقلابی دعوے بھلانے والے شرمندہ ہوئے نہ انہوں نے عوام سے معذرت کی۔ بس یہ نعرے ضرور لگتے رہے، فلاں نوجوان کے خون سے انقلاب آئے گا۔ انقلاب تو کہاں آنا تھا، آنکھوں سے ہی اوجھل ہو گیا:
وہ صبح آتے آتے رہی گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے
بس یہ ایک سوال تھا جوباقی رہ گیا،لہو گرمانے کے اور بھی کئی راستے ہو سکتے ہیں، تاہم ہمارے ہاں کٹ مریں گے، ٹوٹ پڑیں گے،جیسے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ ویسے بھی ہم نے سیاست کو سیاست رہنے ہی کب دیا ہے۔ سیاست تو یہ سکھاتی ہے جب لوگ کچھ کہیں تو اُن کی آواز سنی جائے۔ یہ ضروری نہ سمجھا جائے کہ وہ راستہ روکیں گے،دھرنا دیں گے، لانگ مارچ کریں گے تو سوچیں گے۔یہ ہماری حکومتوں کا بھی ایک طرح سے المیہ ہی رہا ہے کہ انہوں نے ابتداہی بات سننے کی بجائے فصل کے پکنے کا انتظار کیا ہے۔وزیروں نے ہمیشہ یہ ڈیوٹی ہی سنبھالی ہے کہ وِلن کا کردار ادا کرنا ہے۔پتہ نہیں ان کے پاس لفظ کم ہوتے ہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو پانی سے نہیں پٹرول سے بنے ہوتے ہیں مانا جی 27ستمبر کو کچھ نہیں ہو گ،ا کوئی انقلاب نہیں آئے گا۔ایک اور واقعہ ہو گا اور پھر چند ماہ، چند سال گزر جائیں گے ۔لیکن جناب کیا ہم نے تاریخیں اکٹھی کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔
ایک تاریخ وہ تھی ایک تاریخ اب یہ ہے۔ یہ آصف علی زرداری اور نواز شریف جیسے منجھے ہوئے سینئر سیاستدان خاموش کیوں بیٹھے ہیں۔ بولیں، آگے بڑھیں، بند سرنگ میں سے راستہ نکالیں،روشنی کا کوئی روزن دیں۔ کیا ضروری ہے کہ مصلحتوں کا شکار ہو کر وقت گزارا جائے۔ تاریخ پر تاریخ ہی تو دہرائی جا رہی ہے۔ واقعات تو وہی ہیں جو پہلے پیپلزپارٹی اور پھر مسلم لیگ(ن) کے ساتھ پیش آ چکے ہیں کوئی نہ کوئی تو حل نکل ہی آیا تھا کہ بے نظیر بھٹو بھی واپس آئی تھیں اور نواز شریف کو بھی جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آنے کا موقع ملا تھا۔ پھر اس بار یہ حل کیوں نہیں نکل رہا، کیوں بات ایسی صورتحال کی طرف جا رہی ہے جو تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔ کم از کم کوئی وزرا کو ہی سمجھا دے کہ بھائیو! ذرا بولنا کم کریں کیونکہ آپ کی باتوں سے اپوزیشن کو تقویت ملتی ہے، آپ جب عبرت کا نشان بنانے جیسی باتیں کرتے ہیں تو تاثر یہی جاتا ہے کہ کوئی بڑا سانحہ ہونے والا ہے۔ آپ نے انتظامات کر لئے ہیں، کافی ہے۔ انہیں بھی اپنی ساکھ بچانی ہے،وہ ان باتوں سے رک نہیں جائیں گے تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ اسلم انصاری کا یہ شعر حسب ِ حال ہے:
آنے والے کو نہ روکو کہ بھرم رہ جائے
تم پکارو بھی تو کب اُس نے ٹھہر جانا ہے
سنجیدہ سیاسی حلقے بار بار یہ کہہ کر تھک گئے ہیں،اے حاکمانِ وقت، اے کار پروازنِ سیاست، آگے بڑھیں ڈیڈ لاک کو توڑ دیں،سیاسی حل نکالیں، یہ صورتِ حال تو ملک کو آگے نہیں بڑھنے دے رہی۔ دنیا میں کون سا مسئلہ ہے جس کا حل موجود نہ ہوبس ضد اور اَنا کو درمیان سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ سیاست میں کچھ لو کچھ دو کی پالیسی ہی کامیاب رہتی ہے۔ کچھ مطالبات ماننے پڑتے ہیں اور کچھ مطالبات کرنے والوں کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ خوامخواہ عوام کو ذہنی مریض بنانے کا کیا فائدہ،جب پنجابی فلموں جیسی بڑھک بازی شروع ہو جاتی ہے تو بھولے عوام بھی خود کو مولا جٹ سمجھنے لگتے ہیں۔
اب یہ بھی کوئی بیان ہے جو تحریک انصاف کے رہنما دے رہے ہیں کہ تم گولیوں سے جتنے بندے مارو گئے اتنے ہی مزید آ جائیں گے،او مولا جٹو، نوری نتو خدا کا خوف کرو، کیا غریب ماؤں کے بچے اسی کام کے لئے رہ گئے ہیں۔ یہ گولی کی زبان آخر دونوں طرف سے استعمال ہی کیوں کی جا رہی ہے۔ اسے انگریزی میں پوائنٹ آف نو ریٹرن کہا جاتا ہے۔ ارے بھائی اِس ملک نے قائم رہنا ہے اور اِس کے عوام نے جینا ہے، یہ مرنے مارنے کی باتیں نہ کرو، عوام کو جینے دو، جینے کا راستہ نکالو!
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)